محبتِ الہٰی (تقریر نمبر2)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”غرض گناہ کے دور کرنے کا علاج صرف خدا کی محبت اور عشق ہے۔”(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 330)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”غرض گناہ کے دور کرنے کا علاج صرف خدا کی محبت اور عشق ہے۔”(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 330)
ایک حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
”میرا بندہ نوافل کے ذریعے مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ مَیں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔“
(صحیح البخاری)
حضرت خلیفۃُ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے سورۃ الانبیاء آیت 80 کے تحت فٹ نوٹ میں تحریر فرمایا ہے کہ
” ( طیّور کا لفظ استعارہ ہے یعنی ) وہ انسان جن کو روحانی طور پر اُڑنے کی طاقت دی گئی اور وہ تیز رفتار سوار جو پرندوں کی طرح تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتے تھے۔ حضرت سلیمانؑ کی فوج کے سب سے تیز رسالہ کو بھی پرندوں کا لشکر قرار دیا گیا ہے۔ “
حضرت خلیفۃُ المسیح الثالث رحمہ اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
”لیکن ایک شخص جسے مثلاً اللہ تعالیٰ نے ترقی کرنے کی سوا کائیاں عطا کی ہوں مگر وہ اپنے نکمے پن کی وجہ سے ان میں سے پچاس کو ضائع کر دے تو وہ اس سیب کی طرح ہے جس کا آدھا حصہ گلا سڑا ہواہوتا ہے یا اس کی حالت اس آم کی سی ہے جس کی ایک طرف کیڑا لگ جاتا ہے اور دوسری طرف سے قابلِ استعمال بھی ہوتا ہے یا ایک ایسی سیڑھی کی طرح ہے جو درمیان میں سے ٹوٹ گئی ہو یا اس کی مثال ایسے پرندے کی ہے جس کے اڑن پروں ( پرندوں کے جو پر ہوتے ہیں ان کے بعض حصے پرندے کو اڑنے میں مدد دیتے ہیں اور بعض اس کے Balance ( توازن ) کو قائم رکھنے میں مدد دیتےہیں ) میں سے دو چار پَر گر گئے ہوں اور وہ اتنی پرواز کے قابل نہ رہا ہو جتنی پرواز کی طاقت اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کر رکھی ہے۔ ہم نے بعض دفعہ شکار کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ اگر کسی مرغابی کے پر کا اگلا حصہ معمولی سا بھی زخمی ہو جائے تو وہ اپنی ڈار کے ساتھ اُڑ نہیں سکتی ۔ غرض جو چیز اپنی ڈار کے ساتھ اڑ نہیں سکتی اس کے متعلق آپ سمجھ سکتے ہیں کہ پھر وہ منافقوں کی ڈار کے ساتھ مل جاتی ہے۔ منافق کے اندر بھی پہلے تھوڑی سی کمزوری پیدا ہوتی ہے پھر گلے شکوے پیدا ہوتے ہیں جس کی ذمہ داری دراصل خود اس پر عائد ہوتی ہے پھر وہ ایسی تکلیف محسوس کرتا ہے جو درحقیقت کسی اور کی پیدا کردہ نہیں ہوتی ۔“
(خطبات ناصر جلد 2 صفحہ 752(
حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
” مؤمن کو چاہئے کہ بڑا بلند پرواز ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو کیونکہ ساری بلند پروازگیوں کی انتہاء اللہ کی رضا ہے۔ بلند پروازگی کے بالمقابل مؤمن کا ایک نزول بھی ہوتا ہے اور یہ نزول قرآن شریف میں شفقت علی خلق اللہ کہلاتا ہے ۔ اس نزول میں بھی ایک بلند پروازگی ہوتی ہے اور مؤمن بڑا ہی مستقل مزاج ہوتا ہے۔“
(ارشادات نور جلد 1 صفحہ 143(
حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ سورۃ النمل آیت17 کے تحت فٹ نوٹ میں تحریر فرماتے ہیں۔
” ہم دوسری جگہ لکھ چکے ہیں کہ طَیۡرٌکے معنیٰ آسمانی پرواز کرنے والے لوگوں ( یعنی برگزیدہ لوگوں ) کے ہوتے ہیں ۔ وہی معنیٰ اِس جگہ پرندوں کے ہیں۔“
(فٹ نوٹ ۔ تفسیر صغیر سورۃ النمل آیت : 17 صفحہ 619)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں وہ دنیا کو ترک کرتے ہیں اس سے یہ مراد ہے کہ دنیاکو اپنا مقصود اور غایت نہیں ٹھہراتے اور دنیا ان کی خادم اور غلام ہو جاتی ہے۔ جو لوگ برخلاف اس کے دنیا کو اپنا اصل مقصود ٹھہراتے ہیں خواہ وہ دنیا کو کسی قدر بھی حاصل کر لیں آخر کار ذلیل ہوتے ہیں۔ ‘‘
(ذکر حبیب صفحہ 134)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ اپنے ایمان کا وزن کرو ۔ عمل ایمان کا زیور ہے ۔ اگر عملی حالت درست نہیں ہے تو حقیقت میں ایمان بھی نہیں ہے۔ مؤمن حسین ہوتا ہے۔ جیسے ایک خوبصورت کو معمولی اور ہلکا سا کڑا بھی پہنا دیا جاوے تو اسے زیادہ خوبصورت بنا دیتا ہے اسی طرح پر ایماندار کو عمل اَور بھی خوبصورت دکھاتا ہے اور اگر بد عمل ہے تو کچھ بھی نہیں ۔ حقیقی ایمان جب انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے تو اعمال میں ایک لذّت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی معرفت کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ وہ نماز پڑھتا ہے جو نماز پڑھنے کا حق ہے ۔ گناہوں سے اسے بیزاری پیدا ہوتی ہے۔ نا پاک مجلسوں سے نفرت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی عظمت اور جلال کے ظاہر کرنے کے واسطے اپنے دل میں ایک جوش اور تڑپ دیکھتا ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 339آن لائن ایڈیشن 2022 ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ یہ بات مسلمانوں کو بھی سمجھنی چاہئے کہ اسلام کی فتح تو ضرور ہوگی لیکن زورِبازو سے نہیں بلکہ خداتعالیٰ کے فضل اور اس کے احکامات پر عمل کرنے سے ہوگی،جیساکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ اگر تم گمراہی کو چھوڑ کرایمان لائے ہو تو گویا تم نے ایک مضبوط کڑے کو پکڑ لیاہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں لیکن صرف منہ سے کہہ دیناکہ ہم ایمان لے آئے کافی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکامات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں کو مضبوط کڑے کی طرح پکڑو گے تو کامیاب ہوگے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق اس زمانہ میں مسیح موعود ہی وہ مضبوط کڑا ہے جو احکام ا لٰہی کی صحیح تشریح کرتاہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو جس طرح پیش کرتاہے وہ صحیح تعلیم ہے تو اگر اس پر عمل کروگے تو تم کامیاب ہو جاؤ گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 20؍جون2003ء)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ة والسلام فرماتے ہیں:
’’ مَیں نصیحت کرتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں کہ آپس میں اختلاف نہ ہو۔ مَیں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں۔ اوّل خدا کی توحید اختیار کرو۔ دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو۔ وہ نمونہ دکھاؤ کہ غیروں کے لیے کرامت ہو۔ یہی دلیل تھی جو صحابہؓ میں پیدا ہوئی تھی كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ (اٰل عمران:104) یاد رکھو! تالیف ایک اعجاز ہے۔ یاد رکھو! جب تک تم میں ہر ایک ایسا نہ ہو کہ جو اپنے لیے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ وہ مصیبت اور بلا میں ہے۔ اس کا انجام اچھا نہیں۔ ‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ 457 ایڈیشن 2022ء)