دل کی گلیوں میں اعتکاف

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”خدا تعالیٰ نے صرف قرآن کریم میں ہاتھ پیر کے گناہوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ کان اور آنکھ اور دل کے گناہوں کا بھی ذکر کیا ہے جیسا کہ وہ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِکَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا یعنی کان اور آنکھ اور دل جو ہیں ان سب سے باز پرس کی جائے گی ۔ اب دیکھو جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کان اور آنکھ کےگناہ کا ذکر کیا ایسا ہی دل کے گناہ کا بھی ذکر کیا مگر دل کا گناہ خطرات اور خیالات نہیں ہیں کیونکہ وہ تو دل کے بس میں نہیں ہیں بلکہ دل کا گناہ پختہ ارادہ کر لینا ہے۔صرف ایسے خیالات جو انسان کے اپنے اختیار میں نہیں گناہ میں داخل نہیں ۔ ہاں اس وقت داخل ہو جائیں گے جب ان پر عزیمت کرے اور ان کے ارتکاب کا ارادہ کرلیوے۔ “
(نور القرآن ، روحانی خزائن جلد 9صفحہ428-427)

مزید پڑھیں

’’انسان کا سینہ بیتُ اللہ اور دل حجرِاسود ہے‘‘ (مسیح موعودؑ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اس گھر کو بتوں سے صاف کرو۔ فرمایا …… (البقرہ: 126) یعنی میرے گھر کو فرشتوں کے لئے پاک کرو۔انسان کا دل خدا کا گھر ہے یہ خدا کا گھر اس وقت کہلائے گا اور اس وقت فرشتوں کا طواف گاہ بنے گا جب یہ اوہام باطلہ وعقائد فاسدہ سے بالکل پاک وصاف ہو۔ جب تک انسان کا دل صاف نہ ہو اس کی عملی حالت درست نہیں ہو سکتی‘‘
(ملفوظات جلد10 صفحہ74-75 حاشیہ)

مزید پڑھیں

ٹائٹل بمقابلہ رینک (Title v/s Rank)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ چاہیے کہ اسلام کی ساری تصویر تمہارے وجود میں نمودار ہو اور تمہاری پیشانیوں میں اثر سجود نظر آوے اور خدائے تعالیٰ کی بزرگی تم میں قائم ہو۔ اگر قرآن اور حدیث کے مقابل پر ایک جہان عقلی دلائل کا دیکھو تو ہرگز اس کو قبول نہ کرو اور یقیناً سمجھو کہ عقل نے لغزش کھائی ہے۔ توحید پر قائم رہو اور نماز کے پابند ہو جاؤ اور اپنے مولیٰ حقیقی کے حکموں کو سب سے مقدم رکھو اور اسلام کے لئے سارے دکھ اٹھاؤ۔ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔‘‘
(روحانی خزائن جلد3ازالہ اوہام صفحہ552)

مزید پڑھیں

کانوں کی افادیت اور اِن کا درست و برمحل استعمال

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ جب انسان اپنے نفس کو کھو دیتا ہے اور غیر اللہ کی طرف التفات نہیں رہتی اور کسی کو اپنی نظر میں نہیں دیکھتا اور خدا ہی کو دیکھتا اور اس کو ہی سناتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ بھی اس کو سناتا ہے۔ مگر وہ لوگ جن کے باوجودیکہ دوکان ہوتے ہیں مگر وہ حرص، ہوا، غصّہ، کینہ وغیرہ ہر قسم کی طاقتوں کی باتیں سنتے ہیں وہ خدا تعالٰی کی بات کیوں کر سُن سکتے ہیں ہاں ایک قوم ہوتی ہے جو باقی سب کو ذبح کر ڈالتے ہیں اور سب طرف سے کانوں کو بند کر لیتے ہیں نہ کسی کی سنتے ہیں نہ کسی کو سناتے ہیں انہیں ہی خدا بھی اپنی سناتا ہے اور ان کی سنتا ہے اور وہی مبارک ہوتا ہے۔“
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 105)

مزید پڑھیں

کان کا زنا

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
” حفص بن عاصم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ انسان کے جھوٹے ہونے کے لئے یہی علامت کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔ اب دیکھیں یہ عادت عموماً لوگوں میں ہوتی ہے۔ جماعت میں بھی یہ برائی بعض لوگوں میں بہت زیادہ ہے مجھے بھی کوئی لوگ لکھ دیتے ہیں بعض کسی کے بارے میں کہ اس نے یہ کیا اور وہ کیا اور جب تحقیق کرو تو بات غلط نکلتی ہے اور جب لکھنے والے سے پوچھا جائے کہ کس نے کہا تمہیں یہ بات تو غلط ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا تھا اور اس سننے پر ہی وہ دنیا میں شور مچا دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو غور کرنا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کو جھوٹا قرار دیا ہے۔“
(خطبہ جمعہ 24 ؍اپریل 2026ء)

مزید پڑھیں

زبان کا زنا

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ نے یوں بیان فرمایا ہے۔
’’ پہلے زمانے میں تو کہا جاتا تھا کہ عورتیں زیادہ باتیں کرتی ہیں لیکن اب تو مَردوں کا بھی یہی حال ہے کہ وہ غلط قسم کی باتوں کی مجلسوں میں بیٹھے رہتے ہیں۔ وقت ضائع کرتے ہیں اور لغویات میں مبتلا ہو کر بجائے عورتوں کی اصلاح کرنے کے خود بگڑتے چلے جا رہے ہیں اور پھراس کی وجہ سے بعض دفعہ تو یہ شکایت آتی ہے اور عورتیں شکایت کرتی ہیں کہ مَرد ہمیں کہتے ہیں کہ تم پردے چھوڑ دو۔ فلاں مجالس میں آنا شروع کر دو یا ایسی سوسائٹی میں بیٹھو۔“
(خطاب جلسہ سالانہ لجنہ جرمنی از ایوانِ مسرور 30 اگست 2025ء)

مزید پڑھیں

آنکھ کا زنا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ قرآن شریف نے جو کہ انسان کی فطرت کے تقاضوں اور کمزوریوں کو مدنظر رکھ کر حسب حال تعلیم دیتا ہے کیا عمدہ مسلک اختیار کیا ہے۔ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ وَیَحۡفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمۡ ؕ ذٰلِکَ اَزۡکٰی لَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصۡنَعُوۡنَ (النور: 31) کہ تُوایمان والوں کو کہہ دے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں۔ یہ وہ عمل ہے جس سے ان کے نفوس کا تزکیہ ہو گا ۔ فروج سے مراد صرف شرمگاہ ہی نہیں بلکہ ہر ایک سوراخ جس میں کان وغیرہ بھی شامل ہیں اور ان میں اس امر کی مخالفت کی گئی ہے کہ غیر محرم عورت کا راگ وغیرہ سنا جاوے۔ پھر یاد رکھو کہ ہزار در ہزار تجارب سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جن باتوں سے اللہ تعالیٰ روکتا ہے آخر کار انسان کو ان سے رکنا ہی پڑتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 135)

مزید پڑھیں

اپنے اندر بیماریوں کو ڈیلیٹ کرنے کا شعار بنائیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دوسری شرطِ بیعت میں فرمایا ہے کہ
’’ جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت اُن کا مغلوب نہیں ہو گا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔ ‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ159 اشتہار ’’تکمیل تبلیغ‘‘، اشتہار نمبر51)

مزید پڑھیں