حضرت مسیحِ موعودؑ کی حضرت محمد مصطفیٰؐ سے محبت کے عملی اظہار

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”نوع انسان کے لیے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن، اور تمام آدم زادوں کے لیے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔ سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبیؐ کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو۔“
(کشتی نوح، صفحہ 13)

مزید پڑھیں

حسِّ مزاح، انسان کی چھٹی حسّ اور زندگی کے ہر مقام سے گزرنے کا ہنر

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
مَا رَآنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي (صحیح بخاری)
یعنی مَیں جب سے اسلام لایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جب بھی دیکھا آپؐ کے رُخِ انور پر ایک دل نشین مسکراہٹ سج گئی۔

مزید پڑھیں

چالیس اقوال رسولؐ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنۡبِ کَمَنۡ لَّا ذَنۡبَ لَہُ (سنن ابن ماجہ)
ترجمہ : گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جس نے گناہ کیا ہی نہیں۔
Translation: The one who repents from a sin is like one who has not committed the sin.

مزید پڑھیں

مالِ غنیمت کا اسلامی فلسفہ (قرآن، سنّتِ رسول اور حضرت مسیح موعود کی تعلیم کی روشنی میں)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
’’(ایک) خصوصیت آپؐ کی یہ ہے کہ بخلاف سابقہ شریعتوں کے جن میں غنیمت کے مال کو جلا دینے کا حکم تھا۔ آپؐ کے واسطے جنگوں میں ہاتھ آنے والا مالِ غنیمت حلال کیا گیا ہے جس میں یہ حکمت ہے کہ ایک تو قوموں کے اموال یونہی ضائع نہ ہوں اور دوسرے ظالِم لوگوں کو یہ سبق دیا جائے کہ اگر تُم دوسروں پر دست درازی کرو گے تو تمہارے اموال تُم سے چھین کر مظلوموں کے ہاتھ میں دے دیئے جائیں گے اور تیسرے یہ کہ اسلامی غزوات میں کمزور مسلمانوں کے لئے مضبوطی کا سامان پیدا کیاجائے۔ “
( چالیس جواہر پارے صفحہ 24)

مزید پڑھیں

”خمیر سے خمیرلگتا ہے“ (مسیح موعودؑ )

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”انسان کو انوار اور برکات سے حصّہ نہیں مِل سکتا۔ جب تک وہ اِسی طرح عمل نہ کرے جس طرح خدا فرماتا ہے کہ کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ۔ بات یہی ہے کہ خمیر سے خمیر لگتا ہے اور یہی قاعدہ ابتداء سے چلا آتا ہے۔ پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ کے ساتھ برکات اور انوار تھے جن میں سے صحابہ نے بھی حصّہ لیا پھر اِسی طرح خمیر کی لاگ کی طرح آہستہ آہستہ ایک لاکھ تک ان کی نوبت آئی۔ “
( البدر جلد 4 مورخہ 21 نومبر 1902ء صفحہ 31)

مزید پڑھیں

اِنَّ اَوْلَادَکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے) (قرآن کریم کی روشنی میں ) )تقریر نمبر 3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’خدا نے یہ چاہا ہے کہ کسی دوسرے کی بندگی نہ کرو اور والدین سے احسان کرو۔ حقیقت میں کیسی ربوبیت ہے کہ انسان بچہ ہوتا ہے اور کسی قسم کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس حالت میں ماں کیا کیا خدمات کرتی ہے اور والد اس حالت میں ماں کی مہمّات کا کسطرح متکفّل ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ناتواں مخلوق کی خبر گیری کے لئے دو محل پیدا کر دئیے ہیں اور اپنی محبت کے انوار سے ایک پَرتو محبت کا اُن میں ڈال دیا، مگر یاد رکھنا چاہیئے کہ ماں باپ کی محبت عارضی ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت حقیقی ہےاور جبتک قلوب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا القاء نہ ہو تو کوئی فردِ بشرخواہ وہ دوست ہو یا کوئی برابر کے درجہ کا ہو یا کوئی حاکم ہو، کسی سے محبت نہیں کر سکتا اور یہ خدا کی کمال ربوبیّت کا راز ہے کہ ماں باپ بچوں سے ایسی محبت کرتے ہیں کہ اُن کے تکفّل میں ہر قسم کے دُکھ شرح صدر سے اُٹھاتے ہیں یہاں تک کہ اُن کی زندگی کے لئے مرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔‘‘
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 315۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

مزید پڑھیں

اِنَّ اَوْلَادَکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے) (قرآن کریم کی روشنی میں ) )تقریر نمبر 2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ اولاد چیز کیا ہے؟ بچپن سے ماں اُس پر جان فدا کرتی ہے مگر بڑے ہو کر دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے لڑکے اپنی ماں کی نافرمانی کرتے ہیں اور اُس سے گستاخی سے پیش آتے ہیں ۔ پھر اگر فرمانبردار بھی ہوں تو دکھ اور تکلیف کے وقت وہ اس کو ہٹا نہیں سکتے ۔ ذرا سا پیٹ میں درد ہو تو تمام عاجز آجاتے ہیں۔ نہ بیٹا کام آسکتا ہے نہ باپ نہ ماں نہ کوئی اور عزیز ۔ اگر کام آتا ہے تو صرف خدا۔‘‘
( تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد8صفحہ5)

مزید پڑھیں

اِنَّ اَوْلَادَکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ ) تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے) (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ غرض اولاد کے واسطے صرف یہ خواہش ہو کہ وہ دین کی خادم ہو۔ اسی طرح بیوی کرے تاکہ اس سے کثرت سے اولاد پیدا ہو اور وہ اولاد دین کی سچی خدمت گزار ہواور نیز جذباتِ نفس سے محفوظ رہے۔ اس کے سوا جس قدر خیالات ہیں وہ خراب ہیں ۔ رحم اور تقویٰ مدّنظر ہو تو بعض باتیں جائز ہوجاتی ہیں ۔ اس صورت میں اگر مال بھی چھوڑتا ہے اور جائداد بھی اولاد کے واسطے چھوڑتا ہے تو ثواب ملتا ہے۔ لیکن اگر صرف جانشین بنانے کا خیال ہے اور اس نیّت سے سب ہمّ وغم رکھتا ہے تو پھر گناہ.ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 600-599)

مزید پڑھیں

ایمان، احادیث کی روشنی میں

حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان دل کی معرفت اور زبان کے اقرار اور اسلام کے ارکان پر عمل کا نام.ہے۔
(حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر 167)

مزید پڑھیں

مؤمِن کا دل

سورۃ البقرۃ آیت 267 کی تفسیر میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
” اس آیت میں تمام درختوں میں سے نخیل واعناب کا ذکر بالخصوص اس لیے کیا ہے کہ یہ بہت اعلیٰ قسم کے درخت ہیں۔ رسول کریمؐ نے مؤمن کو کھجور کے درخت سے تشبیہ دی ہے اِس لئے کہ اِس میں چند خاصیّتیں ہیں۔ اوّل تو یہ کہ اِس کے پتّے ہوا سے نہیں جھڑتے۔ مؤمن کو بھی ایسا ہی ہونا چاہئے کہ وہ قِسم قِسم کی مصیبتوں میں گھبرا نہ اُٹھے۔ “
(حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ 425)

مزید پڑھیں