آئیں! ہم اپنے آپ کو قرآن میں تلاش کریں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’قرآن کریم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ پاک کتاب ہے اور ہر قسم کے ممکنہ عیب سے پاک ہے اور نہ صرف پاک ہے بلکہ ہر قسم کی حسین اور خوبصورت تعلیم اس میں پائی جاتی ہے جس کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے اور اس میں وہ تمام خوبیاں شامل کر دی گئی ہیں جن کی پہلے صحیفوں میں کمی تھی اور اب یہی ایک تعلیم ہے جو ہر ایک قسم کی کمی سے پاک ہے۔ بلکہ اس تعلیم پر عمل کرکے ہر برائی سے بچا جا سکتا ہے۔ اور نہ صرف بچا جا سکتا ہے بلکہ اس کی تعلیم پر عمل کرنے اور اس تعلیم کو لاگو کرنے سے ہی اپنی اور دنیا کی اصلاح ممکن ہے۔ یعنی یہ تعلیم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اُتری یہی اب دنیا کی اصلاح کی، دنیا میں نیکیاں رائج کرنے کی، دنیا میں امن قائم کرنے کی، دنیا میں عبادت گزار پیدا کرنے کی، دنیا میں ہر طبقے کے حقوق قائم کرنے کی ضمانت ہے۔“
(خطبہ جمعہ 4مارچ2005ء)

مزید پڑھیں
brown and black hardbound book

خلفائے خمسہ کی خدماتِ قرآن

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’حضرت مسیح علیہ السلام جیسے اپنی کوئی شریعت لے کر نہ آئے تھے بلکہ توریت کو پورا کرنے آئے تھے اسی طرح پر محمدی سلسلہ کا مسیح اپنی کوئی شریعت لے کر نہیں آیا بلکہ قرآنِ شریف کے احیاء کے لئے آیا ہے اور اس تکمیل کے لئے آیا ہے جو تکمیل اشاعت ہدایت کہلاتی ہے ۔“
(ملفوظات جلد2 صفحہ 361 ۔362)

مزید پڑھیں

احکامِ الٰہی کی حفاظت کرو تا اللہ کو اپنے سامنے پاؤ (الحدیث)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتاہے۔‘‘
(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19 صفحہ26)

مزید پڑھیں

قرآن کریم کی دائمی حفاظت

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (الحجر: 10)
کہ یقینًا ہم نے ہی اس ذکر کو اُتارا ہے اور یقینًا ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

مزید پڑھیں
brown and black hardbound book

قرآنِ کریم کا عظیم الشان بلند مقام و مرتبہ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خَیۡرُکُمۡ مَنۡ تَعَلَّمَ الۡقُرۡآنَ وَ عَلَّمَہُ
(بخاری کتاب فضائل القرآن )
کہ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن کریم سیکھتا ہے اور دوسروں کو سکھاتا ہے ۔

مزید پڑھیں

چھوٹی چیزیں،بڑے نتائج(احادیث کی روشنی میں)

(احادیث کی روشنی میں)
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اَلُسَّعِیْدُ مَنْ وُعِظَ بِغَیْرِہٖ
( چہل احادیث )
کہ نیک بخت ،خوش نصیب اور سعادت مند وہ ہے جو غیروں کے حال سے نصیحت پکڑے ۔

مزید پڑھیں
brown and black hardbound book

چھوٹی چیزیں، بڑے نتائج(قرآن کریم کے اعتبار سے)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’خُلق کو پیدا کرنے کے لئے، رفق کے حسن کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرۃ :84) یہ بات ہے اس پر عمل کرنا چاہئے۔ یہ ہے اسلام کے اعلیٰ خُلق کا معیار کہ لوگوں کو نیک باتیں کہو۔ پیار سے، ملاطفت سے پیش آؤ۔ لوگوں کو نیک باتیں کہنے کے لئے پہلے اپنے اندر بھی تو وہ نیکیاں پیدا کرنی ہوں گی، وہ خُلق پیدا کرنے ہوں گے تبھی تو اثر ہو گا۔ دوہرے معیار تو نیک نتیجے پیدا نہیں کرتے۔ پھر تعلیم دی دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنے کی اور اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ خود پسندی میں مبتلا نہ ہوجاؤ۔ عین ممکن ہے کہ جس کو تم اپنے سے کم تر سمجھ رہے ہو وہ تمہارے سے بہتر ہوں۔ جب یہ احساس ہو گا تو پھر اپنے اندر بھی بہتر تبدیلیاں پیدا کرنے کی طرف توجہ پیداہو گی۔‘‘
(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 4اپریل 2008ء )

مزید پڑھیں
brown and black hardbound book

تلاوت قرآن کریم کی اہمیت و برکات(ارشادات خلفائے احمدیت کی روشنی میں)

حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”قرآن کریم پڑھنے کے بعد سوچنے کی عادت ڈالو اور سوچنے کے بعد اس پر عمل کرو۔اگر تم ایسا کروگے تو ایک زندہ فعال قوم نظر آنے لگ جاؤ گے۔ “
(تفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 640 )

مزید پڑھیں
brown book on brown wooden table

تلاوتِ قرآنِ کریم کی اہمیت وفضیلت اور آداب

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’قرآن شریف کی تلاوت کی اصل غرض تو یہ ہے کہ اس کے حقائق اور معارف پر اطلاع ملے اور انسان ایک تبدیلی اپنے اندر پیدا کرے۔‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ 285ایڈیشن 1988ء)

مزید پڑھیں

امثال الاحادیث(تقریرنمبر2)

حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کعبہ کا دروازہ پکڑ کر یوں بیان کیا
’’ مَیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یاد رکھو! تمہارے حق میں میرے اہلِ بیت کی مثال وہی ہے جو نوح کی کشتی کی ہے جو اس میں سوار ہو گیا اس نے نجات پالی اور جو شخص اس کشتی میں سوار ہونے سے رہ گیا وہ ہلاک ہوا ۔ ‘‘
( احمد فی فضائل الصحابۃ )

مزید پڑھیں