نُون غُنَّہ کے استعمال کو اپنائیں
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
”أَكْرِمُوا أَوْلَادَكُمْ وَأَحْسِنُوا أَدَبَهُمْ “
(ابن ماجہ)
کہ اپنی اولاد کی عزت کرو اور اُن کی بہترین تربیت کرو۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
”أَكْرِمُوا أَوْلَادَكُمْ وَأَحْسِنُوا أَدَبَهُمْ “
(ابن ماجہ)
کہ اپنی اولاد کی عزت کرو اور اُن کی بہترین تربیت کرو۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’ پس اگر آپ نے ترقی کرنی ہے اور دنیا پر غالب آنا ہے تو میری آپ کو یہی نصیحت ہے اور میرا یہی پیغام ہے کہ آپ خلافت سے وابستہ ہوجائیں۔اس حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ ہماری ساری ترقیات کا دارومدار خلافت سے وابستگی میں پنہاں ہے ۔“
(الفضل انٹر نیشنل 23تا 30مئی 2003ءصفحہ اول)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لیے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اُس کا آنا تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک مَیں نہ جاؤں ۔ ‘‘
(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد20صفحہ305)
ٹکٹ گھر (پیش لفظ ) ” مشاہدات “کے پلیٹ فارم نمبر 1 سے 25 ڈبوں پر مشتمل جو گاڑی(ٹرین) اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے کے لیے روانہ ہونے والی ہے ۔ اُس کو ہم نے اسلامی اصطلاحات (Terminologies) کے استعمال کے فوائد اور برکات کا نام دیا ہے اور عرصہ تین سالوں میں یہ […]
مزید پڑھیںحضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کثرت سے کیا کرتے تھے کہ :
”اے اللہ! مَیں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی اور غنا کا سوال کرتا ہوں۔‘‘
(ترمذی کتاب الدعوات)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے دشمنان احمدیت کو صد سالہ خلافت جوبلی کے تاریخی خطاب میں مخاطب ہو کر فرمایا تھا ۔
” اے دشمنان احمدیت! مَیں تمہیں دو ٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ اگر تم خلافت کے قیام میں نیک نیت ہو تو آؤ! اور مسیح محمدی کی غلامی قبول کرتے ہوئے اس کی خلافت کے جاری و دائمی نظام کا حصہ بن جاؤ ورنہ تم کوششیں کرتے کرتے مرجاؤ گے اور خلافت قائم نہ کرسکو گے ۔ تمہاری نسلیں بھی اگر اسی ڈگر پر چلتی رہیں تو وہ بھی کسی خلافت کو قائم نہیں کرسکیں گی ۔ قیامت تک تمہاری نسل در نسل یہ کوشش جاری رکھے تب تک کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ “
( خطاب 27 مئی 2008ء)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ یاد رکھو کہ انسان کو چاہئے کہ… اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (الضحیٰ:12) پر عمل کرے۔ خداتعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی تحدیث کرنی چاہئے۔اس سے خدا تعالیٰ کی محبت بڑھتی ہے اور اُس کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے ایک جوش پیدا ہوتا ہے۔ تحدیث کے یہی معنی نہیں ہیں کہ انسان صرف زبان سے ذکر کرتارہے بلکہ جسم پر بھی اس کا اثر ہونا چاہئے۔ ‘‘
(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ زیر سورۃ الضحیٰ آیت12 )
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’ اگر حکومت اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کے واضح حکم کے خلاف کوئی حکم دے تو پھر بہرحال اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کا حکم مقدّم ہے۔ لیکن اگر مذہبی معاملات میں دخل اندازی نہیں ہے تو پھر حُکّام، چاہے مسلم ہوں یا غیر مسلم اُن کی اطاعت ضروری ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ5دسمبر2014ء )
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’قرآن شریف کی اصطلاح کے روسے خدا تعالیٰ رحیم اس حالت میں کہلاتا ہے جبکہ لوگوں کی دعا اور تضرّع اور اعمالِ صالحہ کو قبول فرما کر آفات اور بلاؤں اور تضییعِ اعمال سے ان کو محفوظ رکھتا ہے۔“
(تفسیر سورۃ الفاتحہ از حضرت مسیح موعودؑ جلد اول صفحہ 83 – 85)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ جس بات کو وہ چاہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور جو کچھ وہ دیوے کوئی اس کو ردّ نہیں کر سکتا وہ اپنے دین کا حافظ ہے اور تمام ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اس کے دین کی مدد کریں ۔‘‘
( روحانی خزائن جلد8نور الحق الحصۃ الاولیٰ صفحہ 24)