”متاعِ آسمانی“ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) (تقریر نمبر4)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں:
’’ کاش کہ مخالفین آپؑ کی کتب پڑھیں۔ آپؑ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائیدات و نشانات کو دیکھیں جو صفحات پر نہیں جیساکہ میں نے کہا کئی کتابوں پر مشتمل ہیں۔ زمانے کی ضرورت کو بھی دیکھیں بلکہ زمانے کی ضرورت کے مطابق خود یہ اعتراض کرنے والے علماء بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ زمانہ کسی مصلح اور مہدی کو چاہتا ہےلیکن پھر بھی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہے اس کا خود بھی انکار کر رہے ہیں اور عامۃ المسلمین کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔ آسمانی نشانیاں پوری ہوئیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں پوری ہوئیں، لیکن پھر بھی یہ اپنی بدقسمتی کو ہی آواز دے رہے ہیں۔ اس طرف نہیں دیکھتے۔
آج مسلمان اگر اس حقیقت کو سمجھ لیں کہ جو مسیح ومہدی آنے والا تھا وہ آ گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی عاشق اور غلامِ صادق بھی یہی ہے اور اس کی بیعت میں آنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بموجب ضروری ہے اور کامل وفا کے ساتھ اس کی بیعت میں شامل ہو جائیں تو مسلمان ان کو ماننے کے بعد دنیا میں اپنی برتری منوا سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے بن سکتے ہیں ورنہ یہی ان کا حال رہنا ہے جو ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو عقل اور سمجھ دے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 24؍مارچ2023ء )

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (قرآنِ کریم) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’میرا بڑا حصہ عمر کا مختلف قوموں کی کتابوں کے دیکھنے میں گزرا ہے مگر مَیں سچ مچ کہتا ہوں کہ میں نے کسی دوسرے مذہب کی تعلیم کو خواہ اس کا عقائد کا حصہ اور خواہ اخلاقی حصہ اور خواہ تدبیر منزلی اور سیاست مدنی کا حصہ اور خواہ اعمال صالحہ کی تقسیم کا حصہ ہو۔ قرآن شریف کے بیان کے ہم پہلو نہیں پایا۔‘‘
(پیغام صلح، روحانی خزائن جلد23 صفحہ62 طبع اول)

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا تھا۔ یعنی انسان کامل کو ۔ وہ ملائک میں نہیں تھا ۔ نجوم میں نہیں تھا ۔ قمر میں نہیں تھا ۔ آفتاب میں بھی نہیں تھا ۔ وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا ۔ وہ لعل اور یاقوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا ۔ غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا ۔ صرف انسان میں تھا ۔ یعنی انسان کامل میں ۔ جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سیّد ومولیٰ سید الانبیاء سیّد الاحیاء محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 160)

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (اللہ تعالیٰ) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ کیا بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے ہماری اعلیٰ لذّات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اُس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اُس میں پائی ۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ عمل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑوکہ وہ تمہیں سیراب کرے گا یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ مَیں کیا کروں اور کس طرح اِس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں ۔ کس دَف سے مَیں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔‘‘
(کشتی نوح،روحانی خزائن جلد19 صفحہ 22-21)

مزید پڑھیں

کِرمِ خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ ہمارے لئے بھی بہتر ہے کہ جیسے ہم درحقیقت خاکسار ہیں۔ خاک ہی بنے رہیں جبکہ ہمارا مولیٰ ہم سے تکبّر اور نخوت پسند نہیں کرتا تو کیوں کریں۔ ہمارے لئے ایسی عزّت سے بے عزتی اچھی ہے جس سے ہم مورد عتاب ہو جائیں۔ ‘‘
( مکتوبات ِاحمد جلد 1صفحہ316مکتوب نمبر8)

مزید پڑھیں

ایک مؤمن، نکیل والے اونٹ کی طرح ہے

حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں۔
’’ دیکھو! اونٹ کتنا بڑا حیوان ہے مگر ایک بچہ بھی نکیل ڈال کر کہیں کا کہیں لئے پھرتا ہے مگر گڑھے میں داخل کرنے کے لئے اُسے کھینچیں تو وہ نہیں جاتا۔ صرف اِس لئے اُسے صحیح علم گڑھے کا حاصل ہے وہ یہ کہ اس میں ہلاکت ہے۔‘‘
(حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ 448)

مزید پڑھیں

گلشنِ احمد کی ہیں ہم چہچہاتی بُلبلیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں:
’’ناصرات بھی عہد کرتی ہیں۔ ان کو بھی اپنے عہدوں کو نبھانا چاہئے۔ چودہ پندرہ سال کی عمر ہوش کی عمر ہوتی ہے اور اچھا بُرا سمجھنے کی عمر ہوتی ہے اور یہ آخری عمر ہے ناصرات کی اور اس عمر میں ہی بہت ساری خواہشات بھی ہوتی ہیں۔ اگر دنیا کی طرف نظر ہو تو دنیاوی خواہشات دین پر حاوی ہو جاتی ہیں۔ اس لئے ہر احمدی بچی کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور اپنے عہد کو بار بار دہراتے رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ہر احمدی بچی بجائے فضول دنیاوی خواہشات کے پیچھے چلنے کے اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لئے کوشش کرنے والی ہو اور وہ اعلیٰ مقاصدناصرات کے عہد میں یہ بیان کئے گئے ہیں کہ مذہب، قوم اور وطن کی خدمت کے لئے تیار رہنا، ہمیشہ سچائی پر قائم رہنا، خلافت احمدیہ کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار رہنا۔ پس اگر ہماری بچیاں اس عہد کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں تو جہاں اپنی زندگیاں محفوظ کر لیں گی وہاں آئندہ نسلوں کی زندگیوں کو بھی محفوظ کرنے والی ہوں گی اور انہیں خلافت سے جوڑنے والی ہوں گی۔“
(خطبہ جمعہ 30؍ستمبر2016ء)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ جو شخص کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا اور پھر ہمیشہ کے لئے استغفار اپنی عادت نہیں پکڑتا وہ کیڑا ہے، نہ انسان اور اندھا ہے، نہ سوجاکھا اور ناپاک ہے، نہ طیّب۔‘‘
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد10 صفحہ413)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر4)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں:
’’ پس لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ صرف ایک معبود ہونے کا خیال ہی دل میں پیدا نہیں کرتا بلکہ اس بات کو بھی دل میں راسخ کرتا ہے اور کرنا چاہیے کہ ہمارا خدا وہ واحد خدا ہے جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا اور ہر مخلوق کا خالق ہے اور اس کے اذن سے ہی یہ تمام نظامِ کائنات چل رہا ہے اور تمام حاجات کے لیے ہم نے اس کے حضور ہی جھکنا ہے۔ پس جب یہ ایمان کی حالت ہو جائے تو وہ کامل ایمان ہوتا ہے جس میں شرک کی ملونی ہو ہی نہیں سکتی اور یہی وہ ایمان ہے جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خالص ہو کرلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ پر ایمان لانے والوں پر جہنم کی آگ حرام ہے۔‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 14؍اپریل2023ء )

مزید پڑھیں