پانچویں  شرطِ بیعت

’’ ہر حال رنج وراحت اور عسر اور یسر اور نعمت اور بلاء میں خدا تعالیٰ کے ساتھ وفا داری کرے گا اور بہر حالت راضی بقضا ہو گا۔ اور ہر ایک ذلت اور دکھ کے قبول کرنےکے لئے اُس کی راہ میں تیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اُس سے منہ نہیں پھیرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا‘‘

مزید پڑھیں

تیسری  شرطِ بیعت

’’ بلا ناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور ہر روزاپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا اور دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اُس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزہ ورد بنائے گا ۔‘‘

مزید پڑھیں

”زمین کے حقیقی وارث“

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”زمین کی وراثت کا راز تقویٰ میں ہے۔ زمین کے حقیقی وارث وہ نہیں ہیں جن کے پاس مادی دولت یا طاقت ہے بلکہ وہ ہیں جن کے پاس ایمان اور تقویٰ کی دولت ہے۔“
(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 69)

مزید پڑھیں

ہُن مَیں چھ مہینے لئی تیرا ربّ نہیں رہیا؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اصل رازق خدا تعالیٰ ہے۔ وہ شخص جو اس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے اپنے پر توکّل کرنے والے شخص کے لئے رزق پہنچاتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور توکّل کرے مَیں اس کے لئے آسمان سے برساتا اور قدموں میں سے نکالتا ہوں۔ پس چاہئے کہ ہر ایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔ ‘‘
(ملفوظات جلد 5صفحہ 273 ایڈیشن 1988ء)

مزید پڑھیں

اطاعت کے ذریعہ پراگندہ موتیوں کا اجتماع

حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”اطاعت کا مادہ نظام کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔ پس جب بھی خلافت ہو گی اطاعتِ رسول بھی ہو گی کیونکہ اطاعتِ رسول یہ نہیں کہ نماز پڑھو یا روزے رکھو یا حج کرو۔ یہ تو خدا کے احکام کی اطاعت ہے۔ اطاعتِ رسول یہ ہے کہ جب وہ کہےکہ اب نمازوں پر زور دینے کا وقت ہے تو سب نمازوں پر زور دینا شروع کر دیں ۔“
(تفسیر کبیر سورۃنور صفحہ 369)

مزید پڑھیں

ہمسایوں سے حسن سلوک

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ مَیں دیکھتا ہوں کہ بہت سے ہیں جن میں اپنے بھا ئیوں کے لئے کچھ بھی ہمدردی نہیں۔ اگر ایک بھا ئی بھوکا مر تا ہو تو دوسرا تو جہ نہیں کرتا اور اس کی خبر گیری کے لئےتیار نہیں ہوتا۔ یا اگر وہ کسی اورقسم کی مشکلات میں ہے تو اتنانہیں کرتے کہ اس کے لئے اپنے مال کا کوئی حصہ خرچ کریں۔ حدیث شریف میں ہمسا یہ کی خبر گیری اور اس کے ساتھ ہمدردی کا حکم آیا ہے بلکہ یہاں تک بھی ہے کہ اگر تم گوشت پکا ؤ تو شوربہ زیادہ کرلو تا کہ اُسے بھی دے سکو۔ اب کیا ہوتا ہے، اپنا ہی پیٹ پالتے ہیں لیکن اس کی کچھ پر واہ نہیں۔ یہ مت سمجھو کہ ہمسایہ سے اتنا ہی مطلب ہے جو گھرکے پاس رہتا ہو۔ بلکہ جو تمہارے بھائی ہیں وہ بھی ہمسایہ ہی ہیں خواہ وہ سو کوس کے فاصلے پر بھی ہوں۔‘‘
(ملفو ظات جلد 4صفحہ 215)

مزید پڑھیں

ہمیشہ مسکراتے رہو

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
” ہر ایک سے مسکراتے ہوئے ملیں چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو۔ بعض عہدیدار مَیں نے دیکھا ہے بڑی سخت شکل بنا کر دفتر میں بیٹھے ہوتے ہیں یا ملتے ہیں۔ اِن کو ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُس اسوہ پر عمل کرنا چاہئے جس کا روایت میں یوں ذکر آتا ہے کہ حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب سے مَیں نے اسلام قبول کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاقات سے منع نہیں فرمایا اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے تو مسکرا دیتے تھے۔ (بخاری کتاب الأدب باب التبسم والضحک)۔ تو کوئی پابندی نہیں تھی جب بھی ملتے مسکرا کر ملتے۔“
(خطبہ جمعہ 31 دسمبر2004ء)

مزید پڑھیں