بیعت کی حقیقت کو جاننے کی ضرورت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”اب وقت تنگ ہے مَیں بار بار یہی نصیحت کرتا ہوں کہ کوئی جوان یہ بھروسہ نہ کرے کہ اٹھارہ یا انیس سال کی عمر ہے اور ابھی بہت وقت باقی ہے۔ تندرست اپنی تندرستی اور صحت پر ناز نہ کرے اسی طرح اور کوئی شخص جو عمدہ حالت رکھتا ہے وہ اپنی وجاہت پر بھروسہ نہ کرے۔ زمانہ انقلاب میں ہے، یہ آخری زمانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ صادق اور کاذب کو آزمانا چاہتا ہے۔ اِس وقت صدق و وفا کے دکھانے کا وقت ہے اور آخری موقع دیا گیا ہے۔ یہ وقت پھر ہاتھ نہ آئے گا۔ یہ وہ وقت ہے کہ تمام نبیوں کی پیشگوئیاں یہاں آ کر ختم ہو جاتی ہیں اس لئے صدق اور خدمت کا یہ آخری موقع ہے جو نوع انسان کو دیا گیا ہے۔ اب اس کے بعد کوئی موقع نہ ہو گا۔ بڑا ہی بد قسمت وہ ہے جو اس موقع کو کھو دے۔
نِرا زبان سے بیعت کا اقرار کرنا کچھ چیز نہیں ہے بلکہ کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگو کہ وہ تمہیں صادق بنا دے۔ اس میں کاہلی اور سُستی سے کام نہ لو بلکہ مستعد ہو جاؤ اور اس تعلیم پر جو مَیں پیش کر چکا ہوں۔ عمل کرنے کے لئے کوشش کرو اور اس راہ پر چلو جو مَیں نے پیش کی ہے۔ عبد اللطیف کے نمونہ کو ہمیشہ مدِّ نظر رکھو کہ اس سے کس طرح پر صادقوں اور وفاداروں کی علامتیں ظاہر ہوئی ہیں۔ یہ نمونہ خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے پیش کیا ہے۔“
(ملفوظات جلد6 صفحہ263-264 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

ایک خوبصورت، انوکھا اخلاص اور قربانی کا جذبہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”دوسری قسم اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کا یہ ہے کہ اُس کے بندوں کی خدمت اور ہمدردی اور چارہ جوئی اور بار برداری اور سچّی غم خواری میں اپنی زندگی وقف کردی جائے دوسروں کو آرام پہنچانے کے لئے دُکھ اُٹھا ویں اور دوسروں کی راحت کے لئے اپنے پر رنج گوارا کرلیں۔“
( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5صفحہ 60)

مزید پڑھیں

مذہب میں ۔ آزادی ،بااختیاری اور خودمختاری کہاں تک جائز ہے؟ (تقریر نمبر 3)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
”وہ کام کرو جو اولاد کے لئے بہترین نمونہ اور سبق ہو اور اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے اوّل خود اپنی اصلاح کرو۔ اگر تم اعلیٰ درجہ کے متقی اور پرہیز گار بن جاؤ گے اور خدا تعالیٰ کو راضی کر لو گے تو یقین کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرے گا۔ قرآن شریف میں خضر اور موسیٰ علیہما السلام کا قصہ درج ہے کہ ان دونوں نے مل کر ایک دیوار کو بنا دیا جو یتیم بچوں کی تھی۔ وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَکَانَ اَبُوْھُمَا صَالِحًا (الکہف :83 ) اِن کا والد صالح تھا۔ یہ ذکر نہیں کیا کہ وہ آپ کیسے تھے۔ پس اس مقصد کو حاصل کرو۔ اولاد کے لئے ہمیشہ اس کی نیکی کی خواہش کرو۔“
(ملفوظات جلد8 صفحہ110 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

مذہب میں ۔ بااختیاری اور خودمختاری کہاں تک جائز ہے؟ (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’پس احمدی خوش قسمت ہیں ۔ ان کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ان کو احمدی گھروں میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور کچھ کو احمدی ہونے کی توفیق عطا فرمائی اور ان باتوں سے بچا کے رکھا جو باغیانہ روش پیدا کرتی ہیں ۔ بعض احمدی بچیوں میں بھی ردّعمل ہوتا ہے، ان کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ غیر آکر ہمارے سے متأثر ہوتے ہیں اس لئے کسی بھی قسم کے کمپلیکس میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ۔ اسلام کی جو خوبصورت تعلیم ہے یہ ہر ایک کے لئے ایسی تعلیم ہے جس کا فطرت تقاضا کرتی ہے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 5؍ستمبر 2014ء)

مزید پڑھیں

مذہب میں ۔ آزادی اور روشن خیالی کہاں تک جائز ہے؟ (تقریر نمبر1)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضورؐ نے میرے کندھے کو پکڑ کر فرمایا:
کُنۡ فِیۡ الدُّنۡیَا کَأنَّکَ غَرِیۡبٌ اَوۡ عَابِرُ سَبِیۡلٍ
(بخاری کتاب الرقاق)
کہ اے عبداللہ ! دنیا میں ایسے زندگی بسر کر کہ گویا تو مسافر ہے یا راہ چلتا مسافر۔

مزید پڑھیں

دسویں شرطِ بیعت

’’یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض للہ باقرار طاعت در معروف باندھ کر اُس پر تا وقتِ مرگ قائم رہے گا اور اس عقدِ اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہو گا کہ اس کی نظیر دنیاوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔‘‘

مزید پڑھیں