حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد10 ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)
حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”حدیث ہے طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةً عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَمُسْلِمة ۔مَيں پہلے مردوں کا ذکر کرتا ہوں کہ قبل اس کے جو اسلام کی حقیقت معلوم ہو اور اس کی خوبیاں معلوم ہوں پہلے ان علوم کی طرف مشغول ہو جانا سخت خطرناک ہے۔ چھوٹے بچوں کو جب دین سے بالکل آگاہ نہ کیا جائے اور صرف مدرسہ کی تعلیم دی جائے تو وہی باتیں ان کے بدن میں شیرِ مادر کی طرح رَچ جائیں گی۔ پھر سوا اس کے اور کیا ہے کہ وہ اسلام سے پھر جائیں۔ عیسائی تو بہت کم ہوں کیونکہ تثلیث و کفارہ اور ایک انسان کو خدا ماننے کا عقیدہ ہی کچھ ایسا لغو ہے کہ اسے کوئی عقیل و فہیم قبول نہیں کر سکتا ۔ البتہ دہریّہ ہو جانے کا بہت خطرہ ہے۔ پس ضرور ہے کہ پہلے روز ساتھ ساتھ روحانی فلسفہ پڑھایاجاوے۔ جب آجکل کی تعلیم نے مردوں پر مذہب کے لحاظ سے اچھا اثر نہیں کیا تو پھر عورتوں پر کیا توقع ہے؟ ہم تعلیمِ نسواں کے مخالف نہیں ہیں بلکہ ہم نے تو ایک سکول بھی کھول رکھا ہے ۔ مگر یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ پہلے دین کا قلعہ محفوظ کیا جائے تا بیرونی باطل تاثرات سے محفوظ رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو سواء السّبیل ، تو بہ، تقویٰ و طہارت کی توفیق دے۔“
( ملفوظات جلد10 صفحہ 379)
