اسلام، محمد رسو ل اللہؐ کا مدرسہ ہے(حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
” ہر ایک مدرسہ کے لیے جُدا جُدا ہیڈماسٹر ہیں۔ پس تمہیں چھٹی مدرسہ احمدیہ یا تعلیم الاسلام ہائی سکول میں جو پڑھائی ہوتی ہے اُس سے ملتی ہے لیکن اسلام جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مدرسہ ہے۔ اُس کے احکام سے چھٹی نہیں ملتی ۔ اِس مدرسہ کے بانی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ….یہ کالج جو ہے یہ کسی انجمن کے سپرد نہیں اس کے پہلے پرنسپل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن آپ کو بھی اِس کے قواعد بنانے میں کوئی اختیار نہیں کیونکہ یہ وہ یونیورسٹی ہے جس کے تمام اصول و قواعد و احکام، خدا کی طرف سے آئے ہیں ۔“
(الفضل 12 اگست 1919ء)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی نظر میں حضرت امام حسینؓ کا مقام ومرتبہ

پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت علیؓ اور حضرت حسینؓ سے اپنی ایک مناسبت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
’’مجھے حضرت علیؓ اور حضرت حسینؓ کے ساتھ ایک لطیف مناسبت ہے اور اس مناسبت کی حقیقت کو مشرق و مغرب کے ربّ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور مَیں حضرت علیؓ اور آپ کے دونوں بیٹوں سے محبت کرتا ہوں اور جواُن سے عداوت رکھے اس سے مَیں عداوت رکھتا ہوں‘‘
(سرالخلافۃ اُردو ترجمہ صفحہ112)

مزید پڑھیں

اُم المؤمنین حضرت جویریہ بنتِ حارث رضی اللہ عنہا

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا ایک بہادر ، ذہین اور سادہ مزاج خاتون تھیں حالانکہ آپؓ کی پرورش ایک امیر گھرانے میں ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بالکل سادگی میں باقی ازواج مطہرات کی طرح آپؓ نے بھی اپنی زندگی گزاری ۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے دل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنے کا بہت جذبہ تھا ۔آپؓ اپنا اکثر وقت عبادت میں گزارتی تھیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے حجرے کے ایک کونے کو مخصوص کر لیا تھا ۔

مزید پڑھیں

اُمّ المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت زینب رضی الله عنہا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات سے فخریہ کہا کرتی تھیں کہ تمہارا نکاح تمہارے گھر والوں نے کیا اور میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپرکیا۔
(صحیح بخاری کتاب: التوحيد، باب: وکان عرشه علي الماء)

مزید پڑھیں

اُمُّ المؤمنین حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا

علمی حیثیت میں اگرچہ تمام ازواج بلند مرتبہ تھیں، تاہم عائشہ اور ام سلمہ کا ان میں کوئی جواب نہیں تھا، چنانچہ محمود بن لبید کہتے ہیں،”آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج احادیث کا مخزن تھیں، تاہم عائشہ اور ام سلمہ کا ان میں کوئی حریف و مقابل نہ تھا۔“
( طبقات ابن سعد جلد 6 صفحہ 317)

مزید پڑھیں

اُمُّ المؤمنین حضرت زینبؓ بنتِ خزیمہ

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ حضرت زینب کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مزاج آشنائی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’ ایک دفعہ حضرت زینبؓ اپنے کپڑے گیری میں رنگنے لگیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باہر سے تشریف لائے اور کپڑے رنگتے ہوئے دیکھ کر واپس تشریف لے گئے ۔ حضرت زینبؓ تاڑ گئیں کہ آپ کس بات کی وجہ سے واپس تشریف لے گئے ہیں ۔ ہادیوں کے گھر میں ہر وقت الٰہی رنگن چڑھی رہتی ہے ۔ جس کا ذکر صِبۡغَۃَ اللّٰہِ ۚ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبۡغَۃً (البقرہ:139)میں ہے ۔ یہ رنگینیاں اس کے مقابل میں کیا چیز ہے ۔ پس یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ بناوٹ ، زیور اور لباس سے خوش نہیں ہوتا بلکہ نیک بیبیوں کی بناوٹ اور زیور ان کے نیک عمل ہیں۔ ‘‘
( خطبات نورصفحہ 226)

مزید پڑھیں

اُمّ المومنین حضرت حفصہ بنتِ عمر رضی اللہ عنہا

ایک مرتبہ حضرت جبرائیل نے حضرت حفصہؓ کے بارہ میں یہ الفاظ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہے
’’ وہ بہت عبادت کرنے والی بہت روزے رکھنے والی ہیں ۔اے محمد! وہ جنت میں آپؐ کی زوجہ ہیں ‘‘
(الاستیعاب )

مزید پڑھیں

اُمّ المومنین حضرت سودہ بنتِ زمعہ رضی اللہ عنہا

حضرت سودہ ؓ کے پاکیزہ اخلاق اور ان کی محبت کی تعریف کرتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ
’’ مَیں نے کسی عورت کو جذبہ رقابت سے خالی نہ دیکھا سوائے سودہؓ کے ۔‘‘
( مطہر عائلی زندگی صفحہ34-33)

مزید پڑھیں

انفاق فی سبیلِ للہ از روئے اقوال رسولؐ

حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
”صدقہ دے کرآگ سے بچو خواہ آدھی کھجور خرچ کرنے کی ہی استطاعت ہو۔“
(بخاری کتاب الزکوٰۃ باب اتقوالنار ولو بشق تمرۃ)

مزید پڑھیں

رمضان اور درود شریف کے فضائل-درس نمبر25

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”درود جو حصولِ استقامت کا ایک زبردست ذریعہ ہے بکثرت پڑھو مگر نہ رسم و عادت کے طور پر بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان کو مدِ نظر رکھ کر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدارج اور مراتب کی ترقی کے لیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابیوں کے واسطے ۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قبولیتِ دعا کا شیریں اور لذیذ پھل تم کو ملے گا۔ ‘‘
( ملفوظات جلد3صفحہ 38)

مزید پڑھیں