بہتان طرازی اور الزام تراشی۔ایک گنا ہِ کبیرہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ رہائی یافتہ مومن وہ لوگ ہیں جو لغو کاموں اور لغو باتوں اور لغو حرکتوں اور لغو مجلسوں اور لغو صحبتوں سے اور لغو تعلقات سے اور لغو جوشوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔‘‘
(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد سوم صفحہ359)

مزید پڑھیں

انسان اور کِردار

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ تمہاری بیعت کا اقرار کرنا زبان تک محدود رہا تو یہ بیعت کچھ فائدہ نہ پہنچائے گی۔ چاہئے کہ تمہارے اعمال تمہارے احمدی ہونے پر گواہی دیں۔ مَیں ہرگز یہ بات نہیں مان سکتا کہ خداتعالیٰ کا عذاب اس شخص پر وارد ہو جس کا معاملہ خداتعالیٰ کے ساتھ ہو۔ خداتعالیٰ اسے ذلیل نہیں کرتا جو اس کی راہ میں ذلت اور عاجزی اختیار کرے۔ یہ سچی اور صحیح بات ہے۔ پس راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں مانگو۔ کوٹھڑی کے دروازے بند کرکے تنہائی میں دعا کرو کہ تم پر رحم کیاجائے۔ اپنا معاملہ صاف رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا فضل تمہارے شامل حال ہو۔ جو کام کرو نفسانی غرض سے الگ ہو کر کرو تا خداتعالیٰ کے حضور اجر پاؤ‘‘
(ملفوظات جلد 5صفحہ 272)

مزید پڑھیں

ایمان بالغیب کیوں ضروری ہے؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ایمان بالغیب کے یہ معنے ہیں کہ وہ خدا سے اَڑ نہیں باندھتے ۔ بلکہ جو بات پردۂ غیب میں ہو ۔ اس کو قرائنِ مرجّحہ کے لحاظ سے قبول کرتے ہیں اور دیکھ لیتے ہیں کہ صدق کے وجوہ کذب کے وجوہ پر غالب ہیں ۔ یہ بڑی غلطی ہے کہ انسان یہ خیال رکھے کہ آفتاب کی طرح ہر ایک امر اُس پر منکشف ہوجاوے ۔ اگر ایسا ہو تو پھر بتلاؤ کہ اس کے ثواب حاصل کرنے کا کونسا موقعہ ملا ؟ کیا اگر آفتاب کو دیکھ کر کہیں کہ ہم اُس پر ایمان لائے تو ہم کو ثواب ملتا ہے ؟ ہر گز نہیں ۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ اس میں غیب کا پہلو کوئی بھی نہیں ۔ لیکن جب ملائکہ ، خدا اور قیامت وغیرہ پر ایمان لاتے ہیں ثواب ملتا ہے ۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ ان ایمان لانے میں ایک پہلو غیب کا پڑا ہوا ہے۔ ایمان لانے کے لئے ضروری ہے کہ کچھ اخفاء بھی ہو اور طالبِ حق چند قرائنِ صدق کے لحاظ سے اِن باتوں کو مان لے ۔ “
(ملفوظات جلد 6 صفحہ 218-219)

مزید پڑھیں

ذاتی اصلاح کے بغیر معاشرے کی اصلاح ممکن نہیں

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”انسان کے دل میں اگر پختہ ایمان ہو اور اللہ تعالیٰ سے اس کا تعلق ہوتو…کوئی مشکل ایسی نہیں رہتی جو آسان نہ ہوجائے۔“
(خطباتِ محمود جلد 17 صفحہ344)

مزید پڑھیں

احمدی بچوں کا مقام اور ان کے فرائض

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے اطفال سے مخاطب ہوکر فرمایا:
”الہٰی سلسلہ کے بچے فقید المثال ہوتے ہیں۔ آپ لوگ اسلام کے بچے ہیں ۔ مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے بچے ہیں۔جسمانی لحاظ سے ماں باپ والدین ہیں ۔ مگر روحانی لحاظ سے مسیح موعودؑ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آپ منسوب ہوتے ہیں ۔اگر تم حقیقی احمدی بن جاؤ تو دنیا میں کوئی بھی تمہارا مقابلہ نہیں کر سکے گا اور دنیا ہمیشہ تمہیں یاد رکھے گی ۔“

مزید پڑھیں

اسلامی تہذیب و تمدّن

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اسلامی تمدّن کی تعریف میں فرماتے ہیں:
”اسلام نے ہمارے لئے ہر بات کے متعلق احکام دے رکھے ہیں ۔ یہ احکام بیکار اور فضول نہیں بلکہ نہایت ضروری ہیں اور انہی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے مجموعہ کا نام اسلامی تمدّن ہے۔ اسلامی تمدّن نماز کا نام نہیں ، روزے کا نام نہیں ، زکوٰۃ کا نام نہیں بلکہ ان چھوٹے چھوٹے احکام کے مجموعہ کا نام ہے جو ایسا تغیّر پیدا کردیتے ہیں کہ اس کی وجہ سے وہ سوسائٹی دوسری سوسائیٹیوں سے نمایاں اور ممتاز نظر آتی ہے۔ “
(خطبہ جمعہ 21 اپریل 1933ء)

مزید پڑھیں

اسلامی سال نو کا آغاز اور ہماری ذمہ داریاں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
’’ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی ایک جگہ فرمایا ہے کہ اصل عید اور خوشی کا دن اور مبارک دن وہ ہوتا ہے جو انسان کی توبہ کا دن ہوتا ہے۔ اس کی مغفرت اور بخشش کا دن ہوتا ہے۔ جو انسان کی روحانی منازل کی طرف نشان دہی کروانے کا دن ہوتا ہے۔ جو دن ایک انسان کو روحانی ترقی کے راستوں کی طرف رہنمائی کرنے والا دن ہوتا ہے۔ جو دن حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانے والا دن ہوتا ہے۔ جو دن اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کو بروئے کار لانے کی طرف توجہ دلانے والادن ہوتا ہے۔ جو دن اللہ تعالیٰ کا قرب پانےکے لیے عملی کوششوں کا دن ہوتا ہے۔ پس ہمارے سال اور دن اُس صورت میں ہمارے لیے مبارک بنیں گے جب ان مقاصد کے حصول کے لیے ہم خالص ہو کر، اللہ تعالیٰ کی مدد مانگتے ہوئے، اس کے آگے جھکیں گے۔ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ یکم جنوری 2010ء)

مزید پڑھیں

تقوٰی تمام دینی علوم کی کُنجی ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ یقیناً یاد رکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو تقوٰی سے خالی ہے۔ ہر ایک نیکی کی جڑ تقوٰی ہے جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہو گی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہو گا۔“
(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19صفحہ15)

مزید پڑھیں
blue flower in tilt shift lens

اپنے نفس کا مطالعہ کرتے رہو

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ گناہ ایک ایسا کیڑا ہے جو انسان کے خون میں ملا ہوا ہے مگر اس کا علاج استغفار سے ہی ہو سکتا ہے ۔ استغفار کیا ہے ؟ یہی کہ جو گناہ صادر ہو چکے ہیں ان کے بد ثمرات سےخدا تعالیٰ محفوظ رکھے اور جو ابھی صادر نہیں ہوئے اور جو بالقوۃ انسان میں موجود ہیں اُن کے صدور کا وقت ہی نہ آوے اور اندر ہی اندر وہ جل بھن کر راکھ ہوجاویں۔یہ وقت بڑے خوف کا ہے ۔ اس لیے توبہ استغفار میں مصروف رہو اور اپنے نفس کا مطالعہ کرتے رہو ۔ ‘‘
( ملفوظات جلد 5صفحہ 299ایڈیشن1984ء )

مزید پڑھیں