کانوں کی افادیت اور اِن کا درست و برمحل استعمال
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ جب انسان اپنے نفس کو کھو دیتا ہے اور غیر اللہ کی طرف التفات نہیں رہتی اور کسی کو اپنی نظر میں نہیں دیکھتا اور خدا ہی کو دیکھتا اور اس کو ہی سناتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ بھی اس کو سناتا ہے۔ مگر وہ لوگ جن کے باوجودیکہ دوکان ہوتے ہیں مگر وہ حرص، ہوا، غصّہ، کینہ وغیرہ ہر قسم کی طاقتوں کی باتیں سنتے ہیں وہ خدا تعالٰی کی بات کیوں کر سُن سکتے ہیں ہاں ایک قوم ہوتی ہے جو باقی سب کو ذبح کر ڈالتے ہیں اور سب طرف سے کانوں کو بند کر لیتے ہیں نہ کسی کی سنتے ہیں نہ کسی کو سناتے ہیں انہیں ہی خدا بھی اپنی سناتا ہے اور ان کی سنتا ہے اور وہی مبارک ہوتا ہے۔“
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 105)
