سُستیاں ترک کرو طالبِ آرام نہ ہو
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کام کی یہ حالت ہوتی کہ ہم جب سوتے تو آپ کو کام کرتے دیکھتے اور جب آنکھ کھلتی تب بھی آپ کوکام کرتے دیکھتے اور باوجود اتنی محنت اور مشقّت برداشت کرنے کے جو دوست آپ کی کتابوں کے پروف پڑھنے میں شامل ہوتے آپ ان کے کام کی اس قدر، قدر فرماتے کہ اگر عشاء کے وقت بھی کوئی آواز دیتا کہ حضور! مَیں پروف لے آیا ہوں تو آپ چارپائی سے اُٹھ کر دروازہ تک جاتے ہوئے راستہ میں کئی دفعہ فرماتے جزاک اللّٰہ۔ آپ کو بڑی تکلیف ہوئی جزاک اللّٰہ۔ آپ کو بڑی تکلیف ہوئی۔ حالانکہ وہ کام اس کام کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہوتا تھا جو آپ خود کرتے تھے۔ غرض اس قدر کام کرنے کی عادت ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں دیکھی ہے کہ اس کی وجہ سے ہمیں حیرت آتی۔ بیماری کی وجہ سے بعض دفعہ آپ کو ٹہلنا پڑتا مگر اس حالت میں بھی آپ کام کرتے جاتے۔ سیر کے لئے تشریف لے جاتے تو راستہ میں بھی مسائل کا ذکر کرتے اور سوالات کے جوابات دیتے۔“
