خلافت از افاضات حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ سارا عالَمِ اسلام مل کر زور لگا لے اور خلیفہ بنا کر دکھا دے، وہ نہیں بنا سکتے، کیونکہ خلیفہ کا تعلق خدا کی پسند سے ہے“
(الفضل انٹر نیشنل، 12 ؍پریل 1993 ء)

مزید پڑھیں

خلافت از افاضات حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ اللہ تعالیٰ ہی بناتا ہے۔ اگر بندوں پر اس کو چھوڑا جاتا تو جو بھی بندوں کی نگاہ میں افضل ہوتا اسے ہی وہ اپنا خلیفہ بنا لیتے۔ لیکن خلیفہ خود اللہ تعالیٰ بناتا ہے اور اس کے انتخاب میں کوئی نقص نہیں۔ وہ اپنے ایک کمزور بندے کو چنتا ہے ، جسے وہ بہت حقیر سمجھتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کو چن کر اس پر اپنی عظمت اور جلال کا ایک جلوہ کرتا ہے اور جو کچھ وہ تھا اور جو کچھ اس کا تھا اس میں سے وہ کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیتا اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے سامنے کلّی طور پر فنا اور بے نفسی کا لبادہ وہ پہن لیتا ہے اور اس کا وجود دنیا سے غائب ہو جاتا ہے اور خدا کی قدرتوں میں وہ چھپ جاتا ہے تب اللہ تعالیٰ اسے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیتا ہے “
(الفضل، 17مارچ1967)

مزید پڑھیں

خلافت از افاضات حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”…خلافت کے تو معنے ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اُس وقت سب سکیموں، سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم ، وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ ٔوقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔ جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اُس وقت تک سب خطبات رائیگاں، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکام ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ24؍جنوری 1936ءمطبوعہ خطبات محمود جلد 17صفحہ 74)

مزید پڑھیں

خلافت از افاضات حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’بیعت کے معنے اپنے آپ کو بیچ دینے کے ہیں اور جب انسان کسی کو دوسرے ہاتھ پر بیچ دیتا ہے تو اُس کا اپنا کچھ نہیں رہتا ۔ ‘‘
( خطبات نور صفحہ171)

مزید پڑھیں

بابت خلافت خلافت از افاضات حضرت مسیح موعود علیہ السلام

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’خلیفہ کے معنےجانشین کے ہیں، جو تجدید دین کرے، نبیوں کے زمانہ کے بعد جو تاریکی پھیل جاتی ہے اس کو دور کرنے کے واسطے جو ان کی جگہ آتے ہیں، انہیں خلیفہ کہتے ہیں“
(ملفوظات، جلد چہارم صفحہ 383 )

مزید پڑھیں

نظام خلافت (تعارف ، تعریف، اہمیت اور اقسام)

حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ
مَا کَانَت نُبوَّۃُ قَطُّ اِلَا تَبِعَتْہَا خِلَافَۃٌ
یعنی ہر نبوت کے بعد لازماًخلافت کا سلسلہ قائم ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں

درس نمبر22 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور اطاعتِ خلافت کا سبق

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایده الله تعالىٰ فرماتے ہیں:
’’اگر خلیفہ وقت کی باتوں پر کان نہیں دھریں گے تو آہستہ آہستہ نہ صرف اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے فضلوں سے دور کر رہے ہوں گے بلکہ اپنی نسلوں کو بھی دین سے دور کرتے چلے جائیں گے۔‘‘
(خطبات مسرور جلد 8 صفحہ 191)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کے خلافت کے بارے میں اقتباسات

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے وہی ہوسکتا ہے جو ظلِّی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو اس واسطے رسول کریم نے نہ چاہا کہ ظالم بادشاہوں پر خلیفہ کا لفظ اطلاق ہو کیونکہ خلیفہ درحقیقت رسول کاظلّ ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کے لئے دائمی طور پر بقا نہیں لہٰذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف و اولیٰ ہیں ظلی طور پر ہمیشہ کیلئے تاقیامت قائم رکھے۔ سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تادنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے۔“
(شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد 6صفحہ353)

مزید پڑھیں

خلافت کیا ہے اک فضلِ عظیم ربِّ رحمان ہے

ایک مراکشی دوست مصطفی صاحب نے لمبا عرصہ احمدیت کے بارے میں تحقیق کر کے بیعت کی ۔ کہتے ہیں میں نے بچپن سے ہی بہت سے علماء کی صحبت میں وقت گزارا ہے لیکن خلیفہ وقت کے خطبات نہ صرف قرآن کریم کی صحیح تفسیر ہیں بلکہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب لے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ خطبات سننے کے بعد مجھے نمازوں کا مزہ آنے لگا ہے۔ خدا تعالیٰ نے مجھے سچی خوابیں بھی دکھائی ہیں۔ احمدیت نے میری زندگی بدل دی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کا ذکر کرتے ہوئے موصوف آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔

مزید پڑھیں

خلافت خامسہ میں مالی قربانیوں کے چند ایمان افروزواقعات

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
”آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی ہی ہیں جو دین کی خاطر مالی قربانی کرنے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ یہ شبنم کی طرح تھوڑی تھوڑی رقمیں بھی دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بے انتہا پھل لگاتا ہے…..کبھی یہ بات کسی کمزور احمدی کے دل میں بھی نہیں آنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نیک نیتی سے کی گئی قربانی کو نوازتا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے خزانے لامحدود ہیں۔ اس کو ہمارے چند پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ قربانیاں جو اللہ تعالیٰ مانگتا ہے یہ تو وہ ہمیں مزید فضلوں کا وارث بنانے کے لیے موقع میسر فرماتا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 5جنوری2024ء )

مزید پڑھیں