اسلامی تہوار اور تقریبات

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’یہ گوشت اور خون جو تم نے جانور کو ذبح کر کے حاصل کیا ہے اور بہایا ہے اگر یہ تقویٰ سے خالی ہے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے مقصد سے خالی ہے تو اللہ تعالیٰ کو اِن مادی چیزوں سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ تو یہ ظاہری قربانی کی روح تم میں پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ جب تم جانوروں کو ذبح کرو تو تمہیں یہ احساس ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک حکم پورا کروانے کے لیے اس جانور کو میرے قبضہ میں کیا ہے اور مَیں نے اس کی گردن پر چُھری پھیری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے حضرت ابراہیم ؑ کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق دی ہے ۔ اللہ تعالٰی نے مجھے توفیق دی ہے کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کی ……تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب اس نیت سے قربانی کر رہے ہو تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے قربانی کرو گے تو یہ قربانی مجھ تک پہنچے گی تو جیسا کہ مَیں نے کہا کہ یہ روح ہے جس کے ساتھ اللہ کے حضور قربانیاں پیش ہونی چاہئیں ۔ ‘‘
( خطبہ عید الاضحہ 21جنوری 2005ء)

مزید پڑھیں

اولاد دین کی پہلوان ہو (سیرت حضرت مسیح موعودؑ کے تناظر میں )

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں:
مَیں بچپن میں اکثر دیکھتا کہ حضورؑ تہجد میں لمبی لمبی دعائیں کرتے اور اپنے بچوں کے لیے بھی بہت دعا کیا کرتے۔ کئی دفعہ مَیں نے سنا کہ حضور دعا میں روتے ہوئے یہ الفاظ دہرا رہے ہیں کہ
”اے اللہ! میری اولاد کو اپنا صالح بندہ بنا دے۔“

مزید پڑھیں

اِسۡتِیۡنَاس کیا ہے اور اس کے آداب

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :
” دوسرے گھروں میں وحشیوں کی طرح خود بخود بے اجازت نہ چلے جاؤ۔ اجازت لینا شرط ہے اور جب تم دوسروں کے گھروں میں جاؤ تو داخل ہوتے ہی السلام علیکم کہو اور اگر ان گھروں میں کوئی نہ ہو تو جب تک کوئی مالک خانہ تمہیں اجازت نہ دے اُن گھروں میں مت جاؤ اور اگر مالک خانہ یہ کہے کہ واپس چلے جاؤ توتم واپس چلےجاؤ۔“
( اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 336)

مزید پڑھیں

آج کا نوجوان  بطور ایک اُمید  کے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”اولاد کی خواہش تو لوگ بڑی کرتے ہیں اور اولاد ہوتی بھی ہے مگر یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ وہ اولاد کی تربیت اور ان کو عمدہ اور نیک چلن بنانے اور خدا تعالی کے فرمانبردار بنانے کی سعی اور فکر کریں، نہ کبھی ان کے لئے دعا کرتے ہیں اور نہ مراتبِ تربیت کو مدنظر رکھتے ہیں۔ میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں مَیں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔ بہت سے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولاد کو بُری عادتیں سکھا دیتے ہیں ابتداء میں جب وہ بدی کرنا سیکھنے لگتے ہیں۔ تو ان کو تنبیہہ نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دِ ن بدن دلیر اور بے باک ہوتے جاتے ہیں۔“
(ملفو ظات جلد اوّل صفحہ 562 )

مزید پڑھیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ پس (اے جنّ و اِنس!) تم دونوں اپنے ربّ کی کس کس نعمت کا انکار کروگے

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا بِشَیْئٍ مِنْ نِعْمَکَ رَبَّنَا نُکَذَّبُ فَلَکَ الْحَمْد
اے ہمارے ربّ! ہم تیری کسی بھی نعمت کا انکار نہیں کرتے۔ پس سب تعریف تیرے لیے ہے۔

مزید پڑھیں

جدید ایجادات کا درست اور برمحل استعمال

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں:
”آجکل انٹر نیٹ اور ای میل …کے بارے میں …غور کریں کہ کس طرح استعمال کرنا ہے، کس طرح زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس کے غلط استعمال جو ہورہے ہیں تو اس کا صحیح استعمال کیوں نہ کیا جائے۔“
(خطبہ جمعہ 22؍دسمبر 2006ء)

مزید پڑھیں

20تقاریربعنوان صحبتِ صالحین

تحریر اوّل کوئی تحریر لکھنا خواہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو آسان امر نہیں ہے۔ اس کے لیے اللہ کی مدد درکار ہوتی ہے ۔ اُس کے بغیر انسان کچھ نہیں لکھ سکتا ۔اگر خدا پر توکّل نہ ہو اور انسان اپنی تحریر کو اپنی طاقت کا سرچشمہ قراردے تو پھر تکبر کے ذرات […]

مزید پڑھیں

صحبتِ صالحین کی اہمیت ( خلفاء کے اِرشادات کی روشنی میں)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحبت صالحین کے متعلق میں فرماتے ہیں کہ
’’انسان ہمیشہ اپنے گندے جلیسوں کی و جہ سے تباہی کے گڑھے میں گرا کرتا ہے۔ وہ پہلے تواپنے دوستوں کی مصاحبت پر فخر کرتا ہے۔ مگر جب اسے کسی مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ لَیْتَنِیْ لَمْ اَ تَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا کہ اے کاش! مَیں فلاں کو اپنا دوست نہ بناتا اس نے تو مجھے گمراہ کردیا۔ اسی و جہ سے قرآن کریم نے مومنوں کو خاص طور پر نصیحت فرمائی ہے کہ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(التوبہ: 119)یعنی اے مومنو! تم ہمیشہ صادقوں کی معیت اختیار کیا کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے گردوپیش کی اشیاء سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا مگر وہ اپنی دوستی اور ہم نشینی کے لئے ان لوگوں کا انتخاب کرے گا جو اعلیٰ اخلاق کے مالک ہوں گے اور جن کا مطمح نظر بلند ہو گا تو لازماً وہ بھی اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرے گا اور رفتہ رفتہ اس کی یہ کوشش اس کے قدم کو اخلاقی بلندیوں کی طرف بڑھانے والی ثابت ہوگی۔ لیکن اگر وہ بُرے ساتھیوں کا انتخاب کرے گا تو وہ اسے کبھی راہ راست کی طرف نہیں لے جائیں گے۔ بلکہ اسے اخلاقی پستی میں دھکیلنے والے ثابت ہوں گے۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد ششم صفحہ481)

مزید پڑھیں

صحبتِ صالحین کے ذرائع

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ کتب حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے متعلق فرماتے ہیں:
’’آپؑ کی کتب پڑھنے کی طرف بھی بہت توجہ دینی چاہئے یہ بات بھی صحبتِ صادقین کے زمرے میں آتی ہے کہ آپؑ کے علم کلام سے فائدہ اٹھایا جائے۔‘‘
(خطبات مسرور جلد سوم صفحہ394)

مزید پڑھیں