ایمان کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود کے افاضات کی روشنی میں (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ”یہ ںخوب ںیا ں د ںرکھو کہ اللہ تعالے کسی ںنابینا ںمذہب کی ںتا ں ئی ں ں نہیں ںکرتا اور کوئی ںنصرت اسے نہیں ںد ں ی ںجاتی۔ اسلام کی ںسچائی ں ں کی ںیہی ںبڑی ںزبردست دلیل ںہے کہ ہر زمانہ ں میں
اللہ . ں
تعال اس کی ںنصرت فرماتا ہے اور اس زمانہ میں ں ں بھی ںخدا تعالیٰ ںنے مجھے ں بھیجہے ں ں ں
ئَ
تا م اس کی تازہ بتازہ ںنصرتوں کا ثبوت دوں ۔ چنانچہ تم ں میں ںسے کوئی بھی ںا ں یس ںنہیں ہو ں گا
جس نے خدا تعالیٰ ںکے نشانات نہ دیکھے ںہوں۔ اس کے بالمقابل ہمیں ںکوئی ںبتائے کہ وید ں ں کیا ں ں لایا ں؟ وہ تو بالکل ادھورا ہے۔ دوسرے لوگوں کو تو خواب بھی ںآجاتی ںہے مگر ں و ں ید
والوں کے نزدیک ںخواب بھی ںبے حقیقت چیز ںہے اور وہ بھی ںنہیں ںآسکتی جبکہ وہ دروازہ جو اللہ تعالیٰ ںکی ںطرف جانے کے لئے ںیقینی ں ںدروازہ ہے ، بند ہے تو اور وسائل خدا ر ں سیں
کے ں کیاہو سکتے ں ہیں ؟
ں
ئَ
م سچ
کہتا ہوں کہ جہان ں
ئَ
م نے اس فرقہ کے حالات دیکھے ں ہی، ان میں شوخیوں کے سوا کچھ نہیں ں دیکھا یا بعض ںایسے لوگ اس میں داخل ہوتے ں ہیکہ انہیں خبر ں بھیں
نہیں ہوتی کہ مذہب کی اصل غرض ں کیاں ہے ں ؟ ں
غرض اسلام ایک ایس پاک مذہب ہے جو ساری نیکیوں کا حقیقی سرچشمہ اور منبع ہے۔ اس لئے کہ نیکیوں کی جڑھ ہے۔ اللہ تعالیٰ پر کامل ایمانں اور وہ بدُوں اس کے پیدا نہیںں
ہوتا کہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں کے عجائبات اور نشانات تازہ بتازہ ں دیکھتا رہے اورں یہ بجز اسلامں کے کسی دوسرے کو حاصل نہیں۔ اگر ہے تو کوئیں پیش کرے۔ ں “
)ملفوظات جلد 8 ایڈیشنں 1984 ۔ صفحہں 316 ں ( ں

مزید پڑھیں

قرآن کریم کے آئینہ میں (تقریر نمبر 2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
” ں ں
ئَ
م ںتو ں ں کبھی ں ں نہیں ںمان سکتا کہ جوشخص ںدل ںسے خدا تعالیٰ کی طرف قدم ںرکھے ںوہ ضائع ہو ۔ مؤمن آدمی کبھی ںضائع ںنہیں ںکیا جاتا ۔ ںاُس ںکو ں ں دین ں ں بھی ںملتا ںہے اور دنیا میں ں ں بھیں
عزّت ملتی ہے اور مالں بھی ں “
)ملفوظات جلد 9 صفحہ 409 ( ں

مزید پڑھیں

قرآن کریم کے آئینہ میں (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہی: ں
’’ یہ جو اللہ تعالیٰ رجوع کرتا ہے اپنے ایسے بندے پر جو کئے ہوئے گناہوں پر نادم بھی ہو اور اس کی معافی بھی مانگ رہا ہو توایک د ودفعہ تک محدود نہیں ہے۔ مستقل انسا ں ن
استغفار کرتا رہتا ہے، مستقل اس سے معافی مانگتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی ہمیشہ اس کی نیت دیکھ ں کر اس کے گناہوں کو بخشتا رہتا ہے۔ یہ نہیں کہ ہر مرتبہ جان بوجھ ں کے
گناہ کرتے چلے جاؤ بلکہ نیت ایسی ہو کہ شرمندگی ہو اور گناہوں سے بچنے کی کوشش بھی ہو تو پھر اللہ تعالیٰ بھی ہمیشہ معاف کرتا چلا جاتا ہے۔ ’’ ا ں ور جب تک کوئی گناہگار توبہں
کی حالت میں اس کی طرف رجوع کرتا ہے وہ خاصہ اس کا ضرور اس پر ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ ‘‘ں ں
)براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 ں صفحہ 187-186 حا ں شیں (

مزید پڑھیں

تیرنا ہو تو کبھی ، دریا کے مخالف تیرو

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ں
’’ ں ں
ئَ
م نےمحض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پا یا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے بر گزیدوں کو دی گئی تھی اور میر ں ے
لئے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا اگر ں ں
ئَ
م اپنے سیّدومولیٰ، فخرالانبیاء اور خیر الور ی حضرت محمد مصطفیٰ ںصلی اللہ علیہ ںوسلم ںکے ںراہوں کی پیروی نہ کرتا۔ سو ں ں
ئَ
م نے جو کچھ پا یا ں
اس پیروی سے پایا اور ں ں
ئَ
م اپنے سچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اس ںنبی ںصلی اللہ علیہ وسلم ںکے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفت کاملہ کا حصہ
پاسکتا ہے۔‘ں‘
)حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 65-64 (

مزید پڑھیں

بدگمانی، آکاس بیل کی طرح تمام نیکیوں کو بھسم کر دیتی ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ں
’’ اکثر لوگوں میں بدظنّی ںکا مرض بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ وہ اپنے بھائی سے نیک ں ظنّینہیں رکھتے اور ادنیٰ ادنیٰ سی بات پر اپنے دوسرے بھائی کی نسبت بُرے بُرے خیالات کر ں نے
لگتے ہی اور ایسے عیوب اس کی طرف منسوب کرنے لگتے ہی کہ اگر وہی عیب اس کی طرف منسوب ہوں تو اس کو سخت ناگوار معلوم ہو۔ اس لئے ں ل ضروری ہے ں کہ
ّ
او
ں
ّ
حت
ی ںالوسع ںاپنے بھائیوں پر بدظنّی ںنہ کی جاوے اور ہمیشہ نیک ظنّ ںرکھا جاوے کیونکہ اس سے محبت بڑھتی ہے۔ اور اُنس پیدا ہوتا ہے اور آپس میں قوّت ںپیدا ہوتی ہے او ں ر
اس کے باعث انسان بعض دوسرے عیوب مثلاً کینہ، بغض حسد وغیرہ سے بچا رہتا ہے‘ں‘ ں
)ملفوظات جلد 4 صفحہ 214 ۔ 215 ا ں یڈیشن 1988 ء( ں

مزید پڑھیں

بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ں
” یہ خوب یا د رکھو کہ ساری خرابیاں اورں بُرائیاں بدظنّی سے پیدا ہوتی ہی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس سے بہت منع کیا ہے اور فرمایاں مٌ
ْ
إِث
ن
الظ
َّ
بَّعْض
اِن )الحجرات : 13 ں ( ا ں گر
مولوی ہم سے بدظنّی نہ کرتے اور صدق اور استقلال کے ساتھ آکر ہماری باتیں ںسنتے، ںہماری کتابیں پڑھتے اور ہمارے پاس رہ کر ہمارے حالات کا مشاہدہ کرتے تو وہ الزا ں م
جو ہم پر لگاتے ہی نہ لگاتے۔ لیکن جب انہوں نے خدا تعالیٰ کے اس ارشاد کی عظمت نہ کی اور اس پر کاربند نہ ہوئے تو اس کا نتیجہ یہ ںہوا کہ مجھ پر بدظنّی ںکی اور میری
جماعت پر بھی بدظنّی ںکی اور جھوٹے الزام اور ں ہّ ا
ات یہاں تک کہ بعض نے بڑی بے باکی سے لکھ دیا کہ یہ تو دہریوں کا گروہ ہے۔ نمازیں نہیں پڑھتے
ے
م لگانے شروع کر د ئ ی
۔ روزے نہیں رکھتے ۔ وغیرہ وغیرہ۔ اب اگر وہ اس بدظنّی ںسے بچتے تو ان کو جھوٹ کی لعنت کے نیچے نہ آنا پڑتا وہ اس سے بچ جاتے۔ ں ں
ئَ
م سچ کہتا ہوں کہ یہ بدظنّی ںبہت ں ہی
بُری بلا ہے انسان کے ایمان کو تباہ کر دیتی ہے اور صدق اور راستی سے دور پھینک دیتی ہے۔ دوستوں کو دشمن بنا دیتی ہے۔ صدیقوں کے کمال کو حاصل کرنے کے ں لئے
ضروری ہے کہ انسان بدظنّی سے بہت ہی بچے اورں اگر کسی کی نسبت کوئی سوں ءظنّ پیدا ہو تو کثرت کے ساتھ استغفار کرے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرے تا کہ اس ں معصیت
اور اس کے بُرے نتیجے سے بچ جاوے جو اس بدظنّی ںکے پیچھے آنے والا ہے ۔ اس کو کبھی معمولی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ بہت ہی خطرناک بیماری ہے جس سے انسان بہت
جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔ “
(ملفوظات جلد اول، صفحہں 335 ں ۔ 336 ، ایڈیشن 2022 ء)

مزید پڑھیں

” مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ “ (از روئے قرآن کریم ) (تقریر نمبر4)

حضرت خلیفۃُ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے سورۃ الانبیاء آیت 80 کے تحت فٹ نوٹ میں تحریر فرمایا ہے کہ
” ( طیّور کا لفظ استعارہ ہے یعنی ) وہ انسان جن کو روحانی طور پر اُڑنے کی طاقت دی گئی اور وہ تیز رفتار سوار جو پرندوں کی طرح تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتے تھے۔ حضرت سلیمانؑ کی فوج کے سب سے تیز رسالہ کو بھی پرندوں کا لشکر قرار دیا گیا ہے۔ “

مزید پڑھیں

” مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ “ (تقریر نمبر3)

حضرت خلیفۃُ المسیح الثالث رحمہ اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
”لیکن ایک شخص جسے مثلاً اللہ تعالیٰ نے ترقی کرنے کی سوا کائیاں عطا کی ہوں مگر وہ اپنے نکمے پن کی وجہ سے ان میں سے پچاس کو ضائع کر دے تو وہ اس سیب کی طرح ہے جس کا آدھا حصہ گلا سڑا ہواہوتا ہے یا اس کی حالت اس آم کی سی ہے جس کی ایک طرف کیڑا لگ جاتا ہے اور دوسری طرف سے قابلِ استعمال بھی ہوتا ہے یا ایک ایسی سیڑھی کی طرح ہے جو درمیان میں سے ٹوٹ گئی ہو یا اس کی مثال ایسے پرندے کی ہے جس کے اڑن پروں ( پرندوں کے جو پر ہوتے ہیں ان کے بعض حصے پرندے کو اڑنے میں مدد دیتے ہیں اور بعض اس کے Balance ( توازن ) کو قائم رکھنے میں مدد دیتےہیں ) میں سے دو چار پَر گر گئے ہوں اور وہ اتنی پرواز کے قابل نہ رہا ہو جتنی پرواز کی طاقت اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کر رکھی ہے۔ ہم نے بعض دفعہ شکار کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ اگر کسی مرغابی کے پر کا اگلا حصہ معمولی سا بھی زخمی ہو جائے تو وہ اپنی ڈار کے ساتھ اُڑ نہیں سکتی ۔ غرض جو چیز اپنی ڈار کے ساتھ اڑ نہیں سکتی اس کے متعلق آپ سمجھ سکتے ہیں کہ پھر وہ منافقوں کی ڈار کے ساتھ مل جاتی ہے۔ منافق کے اندر بھی پہلے تھوڑی سی کمزوری پیدا ہوتی ہے پھر گلے شکوے پیدا ہوتے ہیں جس کی ذمہ داری دراصل خود اس پر عائد ہوتی ہے پھر وہ ایسی تکلیف محسوس کرتا ہے جو درحقیقت کسی اور کی پیدا کردہ نہیں ہوتی ۔“
(خطبات ناصر جلد 2 صفحہ 752(

مزید پڑھیں