ایمان کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود کے افاضات کی روشنی میں (تقریر نمبر 5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
’’ یاد رکھو ! ایمان ایک راز ہوتا ہے جو ں مؤمن اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہوتا ہےںاور جس کو مخلوق میں سے اُس مؤمن کے سوا دوسرا نہیں جان سکتاں ۔ یْدِیْ بِ عَّبْ ِ
ن
َّ
دَّ ظ
ْ
ا عِن
َّ
آن ں
ں
کی حقیقت یہی ہے بعض اوقات وہ لوگ جو علوم ںحقّہ ںاور معارف الٰہیہ ںسے بہرہ ور نہیں ہوتے۔ کسی ںمؤ ں
من کے ان تعلقات کے عدم ںعلم کی وجہ سے جو اللہ تعا ں
ل ںکے ساتھں
اُس کو ہوتے ہی۔ اُس کی بعض حالتوں مثلاً معاملات رزق و معاش پر حیرت اور تعجّب ںظاہر کرتے ہی اور کبھی یہ تعجّب ںاُن کو بدظنّی ںاور گمراہی تک لے جاتا ہے۔ ںاں س لئے
اُن کی نظر اپنے ہی محدود اسباب ں تک ہوتی ہےاور وہ اس راز اور ںسِرّ ںسے ںجو ں ں ں
ئَ
اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہ رکھتا ہےنا واقف ہوتے ہی۔ م چاہتا ہوں کہ ہمارے دوست ںاللہ ں ںتعا ں لیٰ
کے ساتھ اپنے ںا س راز کو ایس بنائیں جو صحابہ کرا ں م کا تھا۔‘ں‘ ں
) ملفوظات جلد 2 ایڈیشن 1984 ء صفحہں 98 ( ں

مزید پڑھیں

ایمان کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود کے افاضات کی روشنی میں (تقریر نمبر 4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
” ںایمان ںبالغیب ںکے ںیہ ںمعنی ں ں ہی ںکہ وہ خدا سےاَڑ نہیں ں غیب
ٔ
باندھتے۔ بلکہ جو بات پردہ ںمیں ں حّہ کے لحاظ سے قبول کرتے ہی
ج
ہو۔ اس کو قرائن مر ںاور دیکھ ںلیتے ں ں ہی ںکہ صدق ں
کے وجوہ کذب کے وجوہ پر غالب ں ہی۔ ںیہ بڑی غلطی ہے کہ انسان یہ خیال رکھے کہ آفتاب کیں طرح ہر ایک امر اس پر منکشف ہو جاوے۔ اگر ایس ہو تو پھر بتلاؤ کہ اس کے ں
ثواب حاصل کرنے کا کونسا موقعہ ملا؟ ں کیا ںاگر ہم آفتاب کو د ں یکھ ںکر ں کہی ںکہ ہم اُس پر ایمان ںلائے تو ہم کو ثواب ملتا ہے؟ ہرگز ں نہیں۔ کیوں ں ؟ ںصرف اس لئے کہ اس ں میںں
غیب ںکا پہلو کوئی ںبھی ںنہیں۔ لیکن ںجب ملائکہ، خدا اور ں ں قیامت ںوغیرہ ںپر ایمان ںلاتے ں ہی ںتو ثواب ملتا ہے۔ اس کی ںیہی ںوجہ ہے کہ ان پر ایمان ںلانے میں ںایک ںپہلو غیب ںکا پڑا
ہوا ہے۔ ایمان لانے کے لئے ضرو ں ریں ہے کہ کچھ اخفاء بھی ہو اور طالب حق چند قرائن صدق کے لحاظ سے ان باتوں کو مان لے۔ ں “ ں
)ملفوظات جلد 6 ں ایڈیشن 1984 ء صفحہ 218 – 219 ں (

مزید پڑھیں

ایمان کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود کے افاضات کی روشنی میں (تقریر نمبر 3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
تو ہمیشہ دعا کرتا ہوں مگر تم لوگوں کو بھی چاہئ کہ ہمیشہ دعا میں لگے رہو۔نمازیں پڑھو اَور توبہ کرتے رہو۔ جب یہ حالت ہو
ئَ
’’ م گی تو اللہ تعالیٰ حفاظت کرے گا اَور ا ں گر
سارے گھر میں ایک شخص بھی ایس ہو گا تو اللہ تعالیٰ اُس کے باعث سے دوسروں کی بھی حفاظت کرے ں کھ اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے سوا نہیں آتا اَور وہ اُس
ُ
گا۔ کوئی بَلا اَور د
وقت آتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی نافرمان اَور مخالفت کی جاوے۔ ایسے وقت پر عام ایمان کام نہیں آتا بلکہ خاص ایمان کام آتا ہے۔ جو لوگ عام ایمان رکھتے ہی وہ اُن بَلاؤ ں
سے حصّہ لیتے ہی اَور اللہ تعالیٰ اُن کی پروا نہیں کرتا مگر جو خاص ایمان رکھتے ہی اللہ تعالیٰ اُن کی طرف رجوع کرتا ہے اَور آپ اُن کی حفاظت فرماتا ہے۔
انَّ لل
َّ
مَّنْ ک انَّ
َّ
هِ ک
الل ہٗ۔
َّ
هُ ل بہت سے لوگ ہی جو زبان سے
االل
لاَّ اِلّٰہَّ اِل هُ کھ یا
ُ
کھ نہیں اُٹھاتے۔کوئی د
ُ
کا اقرار کرتے ہی اَور اپنے اسلام اَور ایمان کا دعو ی کرتے ہی مگر وہ اللہ تعالیٰ کے لئے د
تکلیف یا مقدّمہ آ جاوے تو فوراً خدا کو چھوڑنے کو تیارہو جاتے ہی اَور ا س کی نافرمانی کر بیٹھتے ہی۔ اللہ تعالیٰ اُن کی کوئی ںپروا نہیں ںکرتا مگر جو خاص ایمان رکھتا ہو اَور ہر حا ں ل
کھ اُٹھا لیتا ہے اَوردو مصیبتیں اُس پر جمع نہیں کر
ُ
کھ اُٹھانے کو تیار ہو جاوے تو خدا تعالیٰ اُس سے د
ُ
میں خدا کے ساتھ ہو اَور د کھ ہی ہے اَور مؤمن پر دں و
ُ
کھ کا اصل علاج د
ُ
تا۔ د
بَلائیں جمعنہیں کی جاتیں۔‘ں‘ ں
) ملفوظات جلد 5 صفحہ 67 ۔ 68 ں ( ں

مزید پڑھیں

ایمان کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود کے افاضات کی روشنی میں (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ”یہ ںخوب ںیا ں د ںرکھو کہ اللہ تعالے کسی ںنابینا ںمذہب کی ںتا ں ئی ں ں نہیں ںکرتا اور کوئی ںنصرت اسے نہیں ںد ں ی ںجاتی۔ اسلام کی ںسچائی ں ں کی ںیہی ںبڑی ںزبردست دلیل ںہے کہ ہر زمانہ ں میں
اللہ . ں
تعال اس کی ںنصرت فرماتا ہے اور اس زمانہ میں ں ں بھی ںخدا تعالیٰ ںنے مجھے ں بھیجہے ں ں ں
ئَ
تا م اس کی تازہ بتازہ ںنصرتوں کا ثبوت دوں ۔ چنانچہ تم ں میں ںسے کوئی بھی ںا ں یس ںنہیں ہو ں گا
جس نے خدا تعالیٰ ںکے نشانات نہ دیکھے ںہوں۔ اس کے بالمقابل ہمیں ںکوئی ںبتائے کہ وید ں ں کیا ں ں لایا ں؟ وہ تو بالکل ادھورا ہے۔ دوسرے لوگوں کو تو خواب بھی ںآجاتی ںہے مگر ں و ں ید
والوں کے نزدیک ںخواب بھی ںبے حقیقت چیز ںہے اور وہ بھی ںنہیں ںآسکتی جبکہ وہ دروازہ جو اللہ تعالیٰ ںکی ںطرف جانے کے لئے ںیقینی ں ںدروازہ ہے ، بند ہے تو اور وسائل خدا ر ں سیں
کے ں کیاہو سکتے ں ہیں ؟
ں
ئَ
م سچ
کہتا ہوں کہ جہان ں
ئَ
م نے اس فرقہ کے حالات دیکھے ں ہی، ان میں شوخیوں کے سوا کچھ نہیں ں دیکھا یا بعض ںایسے لوگ اس میں داخل ہوتے ں ہیکہ انہیں خبر ں بھیں
نہیں ہوتی کہ مذہب کی اصل غرض ں کیاں ہے ں ؟ ں
غرض اسلام ایک ایس پاک مذہب ہے جو ساری نیکیوں کا حقیقی سرچشمہ اور منبع ہے۔ اس لئے کہ نیکیوں کی جڑھ ہے۔ اللہ تعالیٰ پر کامل ایمانں اور وہ بدُوں اس کے پیدا نہیںں
ہوتا کہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں کے عجائبات اور نشانات تازہ بتازہ ں دیکھتا رہے اورں یہ بجز اسلامں کے کسی دوسرے کو حاصل نہیں۔ اگر ہے تو کوئیں پیش کرے۔ ں “
)ملفوظات جلد 8 ایڈیشنں 1984 ۔ صفحہں 316 ں ( ں

مزید پڑھیں

قرآن کریم کے آئینہ میں (تقریر نمبر 2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
” ں ں
ئَ
م ںتو ں ں کبھی ں ں نہیں ںمان سکتا کہ جوشخص ںدل ںسے خدا تعالیٰ کی طرف قدم ںرکھے ںوہ ضائع ہو ۔ مؤمن آدمی کبھی ںضائع ںنہیں ںکیا جاتا ۔ ںاُس ںکو ں ں دین ں ں بھی ںملتا ںہے اور دنیا میں ں ں بھیں
عزّت ملتی ہے اور مالں بھی ں “
)ملفوظات جلد 9 صفحہ 409 ( ں

مزید پڑھیں

قرآن کریم کے آئینہ میں (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہی: ں
’’ یہ جو اللہ تعالیٰ رجوع کرتا ہے اپنے ایسے بندے پر جو کئے ہوئے گناہوں پر نادم بھی ہو اور اس کی معافی بھی مانگ رہا ہو توایک د ودفعہ تک محدود نہیں ہے۔ مستقل انسا ں ن
استغفار کرتا رہتا ہے، مستقل اس سے معافی مانگتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی ہمیشہ اس کی نیت دیکھ ں کر اس کے گناہوں کو بخشتا رہتا ہے۔ یہ نہیں کہ ہر مرتبہ جان بوجھ ں کے
گناہ کرتے چلے جاؤ بلکہ نیت ایسی ہو کہ شرمندگی ہو اور گناہوں سے بچنے کی کوشش بھی ہو تو پھر اللہ تعالیٰ بھی ہمیشہ معاف کرتا چلا جاتا ہے۔ ’’ ا ں ور جب تک کوئی گناہگار توبہں
کی حالت میں اس کی طرف رجوع کرتا ہے وہ خاصہ اس کا ضرور اس پر ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ ‘‘ں ں
)براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 ں صفحہ 187-186 حا ں شیں (

مزید پڑھیں

تیرنا ہو تو کبھی ، دریا کے مخالف تیرو

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ں
’’ ں ں
ئَ
م نےمحض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پا یا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے بر گزیدوں کو دی گئی تھی اور میر ں ے
لئے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا اگر ں ں
ئَ
م اپنے سیّدومولیٰ، فخرالانبیاء اور خیر الور ی حضرت محمد مصطفیٰ ںصلی اللہ علیہ ںوسلم ںکے ںراہوں کی پیروی نہ کرتا۔ سو ں ں
ئَ
م نے جو کچھ پا یا ں
اس پیروی سے پایا اور ں ں
ئَ
م اپنے سچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اس ںنبی ںصلی اللہ علیہ وسلم ںکے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفت کاملہ کا حصہ
پاسکتا ہے۔‘ں‘
)حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 65-64 (

مزید پڑھیں

بدگمانی، آکاس بیل کی طرح تمام نیکیوں کو بھسم کر دیتی ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ں
’’ اکثر لوگوں میں بدظنّی ںکا مرض بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ وہ اپنے بھائی سے نیک ں ظنّینہیں رکھتے اور ادنیٰ ادنیٰ سی بات پر اپنے دوسرے بھائی کی نسبت بُرے بُرے خیالات کر ں نے
لگتے ہی اور ایسے عیوب اس کی طرف منسوب کرنے لگتے ہی کہ اگر وہی عیب اس کی طرف منسوب ہوں تو اس کو سخت ناگوار معلوم ہو۔ اس لئے ں ل ضروری ہے ں کہ
ّ
او
ں
ّ
حت
ی ںالوسع ںاپنے بھائیوں پر بدظنّی ںنہ کی جاوے اور ہمیشہ نیک ظنّ ںرکھا جاوے کیونکہ اس سے محبت بڑھتی ہے۔ اور اُنس پیدا ہوتا ہے اور آپس میں قوّت ںپیدا ہوتی ہے او ں ر
اس کے باعث انسان بعض دوسرے عیوب مثلاً کینہ، بغض حسد وغیرہ سے بچا رہتا ہے‘ں‘ ں
)ملفوظات جلد 4 صفحہ 214 ۔ 215 ا ں یڈیشن 1988 ء( ں

مزید پڑھیں

بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ں
” یہ خوب یا د رکھو کہ ساری خرابیاں اورں بُرائیاں بدظنّی سے پیدا ہوتی ہی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس سے بہت منع کیا ہے اور فرمایاں مٌ
ْ
إِث
ن
الظ
َّ
بَّعْض
اِن )الحجرات : 13 ں ( ا ں گر
مولوی ہم سے بدظنّی نہ کرتے اور صدق اور استقلال کے ساتھ آکر ہماری باتیں ںسنتے، ںہماری کتابیں پڑھتے اور ہمارے پاس رہ کر ہمارے حالات کا مشاہدہ کرتے تو وہ الزا ں م
جو ہم پر لگاتے ہی نہ لگاتے۔ لیکن جب انہوں نے خدا تعالیٰ کے اس ارشاد کی عظمت نہ کی اور اس پر کاربند نہ ہوئے تو اس کا نتیجہ یہ ںہوا کہ مجھ پر بدظنّی ںکی اور میری
جماعت پر بھی بدظنّی ںکی اور جھوٹے الزام اور ں ہّ ا
ات یہاں تک کہ بعض نے بڑی بے باکی سے لکھ دیا کہ یہ تو دہریوں کا گروہ ہے۔ نمازیں نہیں پڑھتے
ے
م لگانے شروع کر د ئ ی
۔ روزے نہیں رکھتے ۔ وغیرہ وغیرہ۔ اب اگر وہ اس بدظنّی ںسے بچتے تو ان کو جھوٹ کی لعنت کے نیچے نہ آنا پڑتا وہ اس سے بچ جاتے۔ ں ں
ئَ
م سچ کہتا ہوں کہ یہ بدظنّی ںبہت ں ہی
بُری بلا ہے انسان کے ایمان کو تباہ کر دیتی ہے اور صدق اور راستی سے دور پھینک دیتی ہے۔ دوستوں کو دشمن بنا دیتی ہے۔ صدیقوں کے کمال کو حاصل کرنے کے ں لئے
ضروری ہے کہ انسان بدظنّی سے بہت ہی بچے اورں اگر کسی کی نسبت کوئی سوں ءظنّ پیدا ہو تو کثرت کے ساتھ استغفار کرے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرے تا کہ اس ں معصیت
اور اس کے بُرے نتیجے سے بچ جاوے جو اس بدظنّی ںکے پیچھے آنے والا ہے ۔ اس کو کبھی معمولی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ بہت ہی خطرناک بیماری ہے جس سے انسان بہت
جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔ “
(ملفوظات جلد اول، صفحہں 335 ں ۔ 336 ، ایڈیشن 2022 ء)

مزید پڑھیں