قرآن عظیم میں اعداد کا استعمال (سو(100) کے  ہندسے   کا   ذکر  اور ہماری ذمّہ داریاں ) ( تقریر نمبر 12)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے سورۃ البقرہ آیت 262 کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
” یعنی خدا کی راہ میں جو لوگ مال خرچ کرتے ہیں، ان کے مالوں میں خدا اس طرح برکت دیتا ہے کہ جیسے ایک دانہ جب بویا جاتا ہے تو گووہ ایک ہی ہوتا ہے، مگر خدا اس میں سے سات خوشے نکال سکتا ہے اور ہر ایک خوشے میں سو دانے پیدا کر سکتا ہے۔ یعنی اصل چیز سے زیادہ کر دینا یہ خدا کی قدرت میں داخل ہے اور درحقیقت ہم تمام لوگ خدا کی اسی قدرت سے ہی زندہ ہیں۔ اگر خدا اپنی طرف سے کسی چیز کو زیادہ کرنے پر قادر نہ ہوتا تو تمام دنیا ہلاک ہو جاتی اور ایک جاندار بھی روئے زمین پر باقی نہ.رہتا۔“
(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 170۔ 171)

مزید پڑھیں

قرآن عظیم میں اعداد کا استعمال (50 سے 99 تک کا معلوماتی تذکرہ) (تقریر نمبر 11)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے سورۃ العنکبوت آیت 15کے حوالہ سے فرمایا :
” اِس آیت میں جو یہ ذکر آتا ہے کہ لَبِثَ فِیۡہِمۡ اَلۡفَ سَنَۃٍ اِلَّا خَمۡسِیۡنَ عَامًا۔ نوحؑ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ حضرت نوح ؑ کی عمر ساڑھے نو سو سال تھی بلکہ اِس رہنے کے معنی روحانی رہنے کے ہیں یعنی نوح ؑ کی تعلیم اپنی قوم میں ساڑھے نَو سو سال تک رہی پھر مٹ گئی۔“
( تفسیر کبیر جلد 7صفحہ 601 )

مزید پڑھیں

قرآن عظیم میں اعداد کا استعمال (چالیس کے ہندسے کا دلچسپ ذکراور ہماری ذمّہ داری) (تقریر نمبر 10)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’عاجزی کو اپنا شعار بنا لو اور رونے کی عادت ڈالو کیونکہ رونا اسے بہت پسند ہے اگر 40 دن تک رونا نہ آئے تو سمجھ لو دل سخت ہو گیا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد5 صفحہ132)

مزید پڑھیں

قرآن عظیم میں اعداد کا استعمال (11سے 30 تک ہندسوں کے ذکر کی تفصیل) (تقریر نمبر 9)

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ سورۃ الاعراف آیت 161 کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
’’ ہم نے بنی اسرائیل سے وعدہ لیا تھا اور ان میں 12 سردار بنائے ۔ چھاؤنیوں کو اب تک بارہ پتھر کہتے ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام نےبھی بارہ حواری بنائے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بارہ شخص قریشی بڑے خلیفہ ہوں گے ۔ ‘‘
(حقائق الفرقان جلد دوم صفحہ 86 )

مزید پڑھیں

قرآنِ عظیم میں اعداد کا استعمال (دس کے ہندسے کا معلوماتی ذکر) (تقریر نمبر 8)

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”چالیس کے عدد سے انسان کو ایک مناسبت ہے۔ نُطفہ چالیس دن میں صورتِ انسان اختیار کرتا ہے۔ 40 دن کے بعد اُس کی ماں تندرست ہوتی ہے۔ 40 سال پر آدمی.کے تمام قویٰ کمال کو پہنچتے ہیں ۔ خدا نے موسیٰ ؑ سے فرمایا ۔ روحانی برکات کے حصول کے لئے 30 دن ہماری طرف تبتّل قائم کرو اور اگر 10 دن اَور رہو تو یہ درجہ اکمل ہے۔“
( حقائق الفرقان جلد 2 صفحہ 230)

مزید پڑھیں

قرآنِ عظیم میں اعداد کا استعمال ( آٹھ اور نَو کے ہندسے کے متعلق ذکر) (تقریر نمبر 7)

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف بھی ایک موسیٰ ( حضرت سیّدنا محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام ) تِسۡعَ اٰیٰتٍ کے ساتھ بھیجا ۔ پس جو ان کے خلاف کرتا ہے وہ بھی فرعون کی طرح مثبور یعنی رسومات اور عادات میں محبوس ہے۔ شرک مت کرنا، ناجائز روپیہ نہ کماؤ ، نہ ناجائز طور پر خرچ کرو، زنا نہ کرو، جھوٹ نہ بولو، کسی کو دُکھ نہ دو، قتل نہ کرو ۔ اکڑ بازی سے نہ چلو ، کسی کو بے جا گالی مت دو۔ مقابلہ کے وقت مت بھاگو ، بیاج نہ کھاؤ …غضب ، رسوم، عادات کی پابندی چھوڑ دو۔ حرص میں نہ بڑھو ۔ غفلت نہ کرو ۔ علم حاصل کرو تو اس پر عمل بھی کرو ۔ اپنی جانوں پر رحم کرو۔ آئندہ آنے والی قومیں تمہارا نمونہ پکڑیں گے۔ پس تمہارا فرض نازک ہے۔“
( حقائق الفرقان جلد 2 صفحہ 573)

مزید پڑھیں

قرآن عظیم میں اعداد کا استعمال (سات کے ہندسے کا دلچسپ ذکر) (تقریر نمبر 6)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ جہنم کے سات دروازوں کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
” یہ جو سات دروازے بتائے ہیں ان سے مراد ضروری نہیں کہ سات ہی دروازے ہوں کیونکہ سات اور ستّر کا ہندسہ عربوں میں تکمیل یا کثرت کے اظہار کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس محاورہ کی رُو سے دوزخ کے سات دروازوں سے یہ مراد ہے کہ اس کے کثرت سے دروازے ہوں گے۔“
(تفسیر کبیر جلد 4 صفحہ81)

مزید پڑھیں

قرآن عظیم میں اعداد کا شمار (چھ کے ہندسے کا ایمان افروز ذکر ) (تقریر نمبر 5)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
” خدا تعالیٰ نے جو کچھ زمین میں ہے سب پیدا کرکے اور آسمان کو بھی سات طبقے بنا کر غرض اس عالَم کی پیدائش سے بکلّی فراغت پاکر پھر چاہا کہ آدم کو پیدا کرے۔ پس اُس نے اُس کو روزِ ششم یعنی جمعہ کے آخری حصّہ میں پیدا کیا کیونکہ جو چیزیں از روئے نصِّ قرآنی چھٹے دن پیدا ہوئی تھیں۔ آدم اُن سب کے بعد میں پیدا کیا گیا اور اس پر دلیل یہ ہے کہ سورۃ حٰمّ السجدہ جزو چوبیس میں اس بات کی تصریح ہے کہ خدا نے جمعرات اور جمعہ کے دن سات آسمان بنائے اور ہر ایک آسمان کے ساکن کو جو اس آسمان میں رہتا تھا اس آسمان کے متعلق جو امر تھا وہ اس کو سمجھا دیا اور ورلے آسمان کو ستاروں کی قندیلیوں سے سجایا اور نیز اُن ستاروں کو اس لئے پیدا کیا کہ بہت سے امورحفاظت دنیا کے ان پر موقوف تھے۔ یہ اندازے اُس خدا کے باندھے ہوئے ہیں جو زبردست اور دانا ہے۔“
(تحفہ گولڑویہ از روحانی خزائن جلد17 صفحہ 277۔278 حاشیہ )

مزید پڑھیں

قرآنِ عظیم میں اعداد کا استعمال (4 اور 5 ہندسوں کی وضاحت) (تقریر نمبر 4)

پَروں سے مراد اللہ کی صفات ہیں ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے لکھا ہے کہ :
”اب اِس رسول (حضرت محمدؐ) پر ایسے فرشتے نازل ہوں گے جو خداتعالیٰ کی کئی کئی صفات کے حامل ہوں گے۔ دو دو صفات کے، تین تین کے اور چار چار کے۔ مگر اِن پر ہی بس نہیں ۔ خداتعالیٰ چاہے گا تو قرآنی وحی لانے والے فرشتوں کے پَروں یعنی صفات الٰہیہ کو جس کے وہ ظاہر کرنے والے ہو گے، بڑھا دے گا۔“
( فٹ نوٹ زیر آیت 2 الفاطر)

مزید پڑھیں

قرآنِ عظیم میں اعداد کا استعمال (3 کےہندسہ کا قرآن کریم میں ذکر) (تقریر نمبر 3)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے تین ظلمتوں کے متعلق لکھا ہے کہ :
” انسانی زندگی کا آغاز نفسِ واحدہ سے ہوا تھا ۔ پھر جب انسان ماں کے رِحم میں بطور جنین اپنی ترقی کی منازل طے کرنے لگا تو وہ جنین تین اندھیروں میں چھپا ہوا تھا ۔ پہلا اندھیرا ماں کے پیٹ کا اندھیرا ہے جس نے رِحم کو ڈھانکا ہوا ہے۔ دوسرا اندھیرا خود رِحم کا اندھیرا ہے۔ جس میں جنین پرورش پاتا ہے اور تیسرا اُس پلیسنٹا (Placenta) کااندھیرا ہے جو رِحمِ مادر کے اندر جنین کو سمیٹے ہوئے ہوتا ہے ۔ “
( تعارف سورۃ الزمر از ترجمۃ القرآن صفحہ 873)

مزید پڑھیں