’’ نفس کا اِمام ‘‘ (حضرت خلیفۃُ المسیح الرابعؒ ؒ )

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’مخالفتِ نفس بھى اىک عبادت ہے۔ انسان سویا ہواہوتا ہے۔ جى چاہتا ہے کہ اَور سولے مگر وہ مخالفتِ نفس کرکے مسجد جاتا ہے تو اس مخالفت کا بھى اىک ثواب ہے‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ416 )

مزید پڑھیں

گر حفظِ مراتب نہ کنی زندیقی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اصل یہ ہے کہ صالحین اور فانین فی اللہ کی محبت ایک عمدہ شے ہے لیکن حفظ مراتب ضروری ہے۔
گر حفظ مراتب نہ گنی زندیقی
پس خدا کو خدا کی جگہ، رسول کو رسول کی جگہ سمجھو اور خدا کے کلام کو دستور العمل ٹھہرا لو۔ “
(ملفوظات جلد2 صفحہ 305)

مزید پڑھیں

حفظ ِمراتب

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچے دل سے پیروی کرنا اور آپ سے محبت رکھنا انجام کار انسان کو خدا کا پیارا بنا دیتا ہے ۔ اس طرح پر کہ خود اس کے دل میں محبت الہٰی کی ایک سوزش پیدا کر دیتا ہے۔ تب ایسا شخص ہر ایک چیز سے دل برداشتہ ہو کر خدا کی طرف جھک جاتا ہےاور اس کا اُنس و شوق صرف خدا تعالیٰ سے باقی رہ جاتا ہے۔ تب محبت الہٰی کی ایک خاص تجلّی اس پر پڑتی ہے اور اس کو ایک پورا رنگ عشق اور محبت کا دیکر قوی جذبہ کے ساتھ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ تب جذباتِ نفسانیہ پر وہ غالب آ جاتا ہے اور اس کی تائید اور نصرت میں ہر ایک پہلو سے خدا تعالیٰ کے خارق عادت افعال نشانوں کے رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ 67-68)

مزید پڑھیں

تربیتِ اولاد اور مالی قربانی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” خود نیک بنو اور اپنی اولاد کے لئے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤ اور اس کو متقی اور دیندار بنانے کے لیے سعی اور دعا کرو ۔ جس قدر کوشش تم ان کے لئے مال جمع کرنے کی کرتے ہو اُسی قدر کوشش اس امر میں کرو “
(ملفوظات جلد صفحہ109)

مزید پڑھیں

انسانی جسم بطور ایک خِلعتِ فَاخرہ

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”انسان کے تمام اعمال کا منبع اُس کا دل ہے۔ اگر انسان کے دل میں نیک اور پاکیزہ جذبات ہوں گے تو اس کے سارے اعمال لازماً نیکی کے رستہ پر چلیں گے لیکن اگر دل کے جذبات ناپاک اور گندے ہوں گے تو اعمال بھی لامحالہ گندے رستہ پر پڑ جائیں گے کیونکہ دل کے جذبات بیج کا رنگ رکھتے ہیں اور عمل وہ درخت ہے جو اُس کے بیج سے پیدا ہوتا ہے۔ “
( چالیس جواہر پارے صفحہ 115)

مزید پڑھیں

حسِّ مزاح، انسان کی چھٹی حسّ اور زندگی کے ہر مقام سے گزرنے کا ہنر

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
مَا رَآنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي (صحیح بخاری)
یعنی مَیں جب سے اسلام لایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جب بھی دیکھا آپؐ کے رُخِ انور پر ایک دل نشین مسکراہٹ سج گئی۔

مزید پڑھیں

چالیس اقوال رسولؐ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنۡبِ کَمَنۡ لَّا ذَنۡبَ لَہُ (سنن ابن ماجہ)
ترجمہ : گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جس نے گناہ کیا ہی نہیں۔
Translation: The one who repents from a sin is like one who has not committed the sin.

مزید پڑھیں

غلُوّ سے اجتناب

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ
(سنن النسائی)
کہ دین میں غلوّ سے بچو! کیونکہ تم سے پہلی امّتوں کو دین میں غلوّ اور حد سے تجاوز کرنے ہی نے ہلاک کیا۔

مزید پڑھیں

حقیقی مؤمن کی خصوصیات (حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر3)

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’مَیں بھیجا گیا ہوں کہ تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو۔‘‘ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد 13صفحہ 293۔ حاشیہ)
ایک احمدی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سلسلہ بیعت میں داخل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اُسے ان الفاظ کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائے ہیں، ہر وقت سامنے رکھنا چاہئے۔ ان پر غور کرنا چاہئے۔ ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہئے اور جب ایک احمدی یہ کر رہا ہو گا تو تبھی وہ اُسے بیعت کا حق ادا کرنے والا بناتا ہے۔ ورنہ تو صرف ایک دعویٰ ہے کہ ہم احمدی ہیں۔ وہ سچائی اور ایمان جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لانا چاہتے ہیں یا جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے، جس سے دلوں میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے، یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، جیسا کہ آپ کے اس فقرے سے ظاہر ہے کہ ’’ سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے‘‘ یعنی یہ سچائی اور ایمان اور تقویٰ کا زمانہ کسی وقت میں تھا جو اَب مفقود ہو گیا ہے اور اس کو پھر لانا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کام.ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 22؍ اپریل 2011ء)

مزید پڑھیں

حقیقی مؤمن کی خصوصیات (حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر2)

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ایک مؤمن کے لئے سال اور دن اس صورت میں مبارک ہوتے ہیں جب وہ اس کی توبہ کی قبولیت کا باعث بن رہے ہوں اور اس کی روحانی ترقی کا باعث بن رہے ہوں اور اس کی مغفرت کا باعث بن رہے ہو… نئے سال کے پہلے دن کو ہی اس طرح دعاؤں کے ساتھ سجاؤکہ سارا سال ہی قبولیت دعا کے نظارے نظر آتے چلے جائیں…حقیقی مؤمن وہی ہے جو تقوی کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اعمال بجا لانے کی کوشش کرے۔ اس دعا کے ساتھ اپنے ہردن اورہرسال میں داخل ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے ہمیشہ تقویٰ پر قائم رکھے اور دین و دنیا کی حسنات سے نوازتا رہے ۔‘‘
(خطبہ جمعہ 1؍جنوری 2010ء)

مزید پڑھیں