حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا
حضرت فاطمہؓ کے بارہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتے کے ذریعہ اطلاع پاکر ’’سَیِّدَۃُنِّسَاء الْجَنّۃ‘‘ کی خوشخبری دی تھی۔
( صحیح بخاری جلد دوم صفحہ500کتاب الانبیاء )
حضرت فاطمہؓ کے بارہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتے کے ذریعہ اطلاع پاکر ’’سَیِّدَۃُنِّسَاء الْجَنّۃ‘‘ کی خوشخبری دی تھی۔
( صحیح بخاری جلد دوم صفحہ500کتاب الانبیاء )
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے دو عمدہ اوصاف کی گواہی دیتے ہوئے فرماتی ہیں:
”میمونہ ہم میں خدا خوفی اور صلہ رحمی میں ممتاز مقام رکھتی ہیں۔“
بابُ الدُّخُول جامعہ احمدیہ کی تعلیم کے دوران شیعہ ازم وہ مضمون تھا جو مجھے مشکل لگا کرتا تھا شاید اس کی ایک وجہ کم سِنی میں محرم کے دردناک واقعات کو پڑھنے یا سننے کی سکت نہ ہوتی تھی۔ دل اُس محبت اور عقیدت کی وجہ سے جو بالطبع ایک احمدی کو حضرت مسیح […]
مزید پڑھیںحضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے فارسی کلام میں فرماتے ہیں۔
جان و دلم فدائے جمال محمد است
خاکم نثار کوچہٴ آل محمد است
مشاہدات عنوان 1 شاگرد نے جو پایا استاد کی دولت ہے 2 آپ مسلمانوں کے مزے ہیں جی! 3 تلاوت قرآن کریم اور بعض مسنون کلمات 4 دعا کے لیے اگر جواب جلدی مل جائے تع عموما اچھا نہیں ہوتا 5 محتاج ہے کچھ تھوڑے سے اسے دے دو 6 برائیوں کے چوہے 7 تعلق […]
مزید پڑھیںآنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا
’’ حضرت خدیجہ ؓ نے اس وقت اپنے مال سے میری مدد کی جب باقی لوگوں کو اس کی توفیق نہیں ملی۔‘‘
(مسند احمد جلد6صفحہ118)
حضرت صفیہؓ نے جتنی زندگی بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزاری ہمیشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کا بہت خیال رکھا۔ آنحضورؐ جب اعتکاف بیٹھتے تو آپؓ اپنے ہاتھوں سے کھانا تیار کرتی تھیں اور حضورؐ کو دینے جاتیں ۔ آپؓ کھانا بہت اچھا بناتی تھیں اور اس کا اعتراف حضرت عائشہؓ بھی کیا کرتی تھیں کہ
’’میں نے کوئی عورت صفیہ سے اچھا کھانا پکانے والی نہیں دیکھی ۔ ‘‘
( مطہر عائلی زندگی صفحہ85)
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر نہایت شدت سے عمل کرتی تھیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتی تھیں۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص ہر روز بارہ رکعات پڑھ لے جو نفل کے زمرے میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنادیتا ہے۔ حضرت ام حبیبہ ؓنے اپنی پوری زندگی پھر ان بارہ رکعات کو کبھی نہیں چھوڑا۔
(صحیح مسلم کتاب المسافرین و قصر ھا)
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”تمہاری ہمیں ضرورت نہیں۔ پہلے ہر نبی کو کہا گیا، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد ہر بزرگ کو یہ کہا گیا ۔ حضرت امام حسین سے شروع ہو گیا یہ سلسلہ (علیہ السلام)۔ ان پر کفر کا فتوی لگا۔ واجب القتل قرار دیئے گئے۔ بڑا ملحد بن گیا ہے یہ شخص، اس فتوی میں سیاسی اقتدار اور بادشاہ وقت بھی تھا۔ ان کو نہایت ہی ظالمانہ طریق پر قتل کر دیا گیا۔ ان کے ساتھیوں کو، کم عمر نابالغ بچوں کو بھی، بہت سخت ظلم ہوا ہے وہ۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے درجات کو بلند کرے اور جو نمونہ انہوں نے پہلا جو زبردست واقعہ ہوا ہے۔ جو میں نے تفصیل بتائی ہے اس کی روشنی میں اور بڑا زبردست نمونہ قائم کیا اسلام پر قربان ہو جانے کا۔ نبی اکرم کے لائے ہوئے نور اور حسن کو نہ مٹنے دینے کا اور ظلمت کے سامنے سر نہ جھکانے کا۔‘‘
(خطبات ناصر جلد نہم صفحہ136)
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”اے اللہ! میں ان دونوں (حسنؓ اور حسینؓ) کو محبوب رکھتا ہوں تو بھی اے اللہ! انہیں محبوب رکھ اور جو انہیں محبوب رکھے تو انہیں بھی محبوب رکھ۔“
(اسدالغابہ جلد2 زیر لفظ حسین)