آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت منتظم
ڈبلیو منٹگمری واٹ اپنی کتاب’’محمد ایٹ مدینہ‘‘ میں رقمطراز ہے:
’’جتنا ایک انسان محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی ابتدائی اسلام کی تاریخ پر غورکرتا ہے اتنا ہی وہ آپؐ کی وسیع کامیابیوں کو دیکھ کر محوحیرت ہوجاتا ہے۔ حالات نے آپؐ کو وہ موقع دیا جو بہت کم ہی کسی کو میسر آیا ہوگا تاہم آپؐ کی ذات زمانے کے جملہ تقاضوں پرپوری اُترتی تھی، غیب پر اطلاع پانے ،مدّبراور منتظم ہونے کے علاوہ اگر آپؐ کا اس بات پرمحکم ایمان نہ ہوتا کہ خدانے آپؐ کو بھیجا ہے تو انسانی تاریخ کا ایک قابل ذکر باب ضبط تحریر میں آنے سے رہ جاتا‘‘
(اسوۂ انسانِ کامل از حافظ مظفر احمد صفحہ 673)
