حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8 ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)
حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’قرآن شریف میں آیا ہے وَالصُّلۡحُ خَیۡرٌ ( النساء: 129) اس لئے اگر آپس میں کوئی لڑائی جھگڑا ہو بھی جائے تو صلح کر لینی چاہیے کیونکہ اس میں خیر اور برکت ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ غیر مذاہب کے ساتھ بھی یہ بات رکھی جائے بلکہ اُن کے ساتھ سخت مذہبی عداوت رکھنا چا ہئے ۔ جب تک مذہب کی غیرت نہ ہو انسان کا مذہب ٹھیک نہیں ہوتا۔ اب یہ جو ہندو عیسائی ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتے ہیں تو کیا ہم اُن کے ساتھ صلح رکھ سکتے ہیں بلکہ ان کی محفلوں میں بیٹھنا اور ان کے ساتھ دوستی کرنا اور ان کے گھروں میں جانا تو معصیت میں داخل ہے۔ ہاں! آپس میں جو ایک فرقہ میں ہوں تو لڑائی جھگڑا کی زیادہ تر بنیاد بدظنی ہوتی ہے۔
حدیث میں ہے کہ دوزخ میں دو تہائی آدمی بدظنّی کی وجہ سے داخل ہوں گے۔ خدا تعالٰی قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ قیامت کے دن میں لوگوں سے پوچھوں گا کہ اگر تم مجھ پر بد ظنّی نہ کرتے تو یہ کیوں ہوتا ۔ حقیقت میں اگر لوگ خدا تعالیٰ پر بدظنّی نہ کرتے۔ تو اس کے احکام پر کیوں نہ چلتے۔ انہوں نے خدا تعالیٰ پر بدظنّی کی اور کفر اختیار کیا اور بعض تو خدا تعالیٰ کے وجود تک کے منکر ہو گئے۔ تمام فسادوں اور لڑائیوں کی وجہ یہی بدظنّی ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد 8صفحہ446)
