60 تقاریر بابت افراد خاندان حضرت مسیح موعودؑ   (حصہ اول)

الحمدللّٰہ ثم الحمدللّٰہ! مجھ حقیر اور بے نفس انسان کو مامُورِ  زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جو غیرمعمولی محبت و عقیدت ہے اس کا اظہار خاکسار بہت دفعہ اپنے آپ سے مخاطب ہو کر یوں کرتا رہا ہے کہ کاش! خاکسار بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دَور میں ہوتا۔  مال، وقت،عزت و آبرو کی قربانی کرتا اور ایک پیسہ، دو پیسہ اعلائے کلمۃُ الاسلام کے لیے چندہ دیتا اور میرا نام بھی تاابد روحانی خزائن کی جلدوں میں لکھا جاتا ۔ گو یہ مبارک و مقدس موقع میرے لیے مقدر نہ تھا لیکن آج آپؑ سے اِسی محبت و عقیدت کا نتیجہ ہے کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی نسلِ طیبہ پر قلم اٹھانے اور 100 سے زائد اپنےنام زندہ کر جانے والوں کی سیرت و سوانح پر تقاریر کی صورت میں مضامین لکھنے کی توفیق ملی

مزید پڑھیں

محترم میاں عبدالرحیم احمد صاحب

حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ نے محترم میاں عبد الرحیم صاحب کی وفات پر آپ کی اہلیہ محترمہ صاحبزادی امۃ الرشید صاحبہ کے نام اپنے تعزیتی مکتوب میں تحریر فرمایا:
’’مَیں اُن کی نیک طبیعت اور میٹھے، دھیمے مزاج اور خادمِ دین ہونے کے حوالہ سے اُن کے لئے محبت و احترام کے جذبات رکھتاہوں۔‘‘

مزید پڑھیں

محترمہ صاحبزادی  امۃ الرشید صاحبہ بنت حضرت مصلح موعودؓ

محترمہ صاحبزادی امۃ الرشید صاحبہ کی وفات پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
’’آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پوتی اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی، اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الثالث اور خلیفۃ المسیح الرابع کی بہن اور میری خالہ تھیں۔ گویا حضرت خلیفہ اول سے لے کر اب تک خلفاء سے ان کا رشتہ تھا۔ پہلے بھی ان کا میرے سے بڑا پیار کا تعلق رہا۔ پھر جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے مجھے امیر مقامی اور ناظرِ اعلیٰ بنایا تو اُس وقت پیار کے ساتھ احترام بھی شامل ہو گیا اور خلافت کے بعد تو اس تعلق میں ایک عجیب طرح کا رنگ آ گیاکہ حیرت ہوتی تھی۔ انتہائی ملنسار اور خوش اخلاق خاتون تھیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 4؍اکتوبر2013ء )

مزید پڑھیں

”تیری عاجزانہ راہیں اُس کو پسند آئیں “

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’میرا یہ مسلک نہیں کہ میں ایسا تُندخُواور بھیانک بن کر بیٹھوں کہ لوگ مجھ سے ایسے ڈریں جیسے درندہ سے ڈرتے ہیں اور مَیں بُت بننے سے سخت نفرت کرتا ہوں۔ مَیں تو بُت پرستی کے ردّ کرنے کو آیا ہوں نہ یہ کہ مَیں خود بُت بنوں اور لوگ میری پُوجا کریں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ مَیں اپنے نفس کو دوسروں پر ذرا بھی ترجیح نہیں دیتا ۔ میرے نزدیک متکبِّر سے زیادہ کوئی بُت پرست اور خبیث نہیں۔ متکبِّر کسی خدا کی پرستش نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی پرستش کرتا ہے۔‘‘
(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 41- 42)

مزید پڑھیں

سیّدہ  بشریٰ بیگم صاحبہ بنت حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ

مکرم سید سعید احمد صاحب اپنی اہلیہ محترمہ سیدہ بشریٰ بیگم صاحبہ کی وفات کے بعد ذکر خیر کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ
’’مرحومہ ساری زندگی دینی شِعار پر قائم رہیں اور برقعہ پوشی ہر حال میں اپنائی حتّٰی کہ مشترکہ تقریبات میں بھی برقعہ پہن کرحصہ لیتی رہیں اور آپ پردہ پر اعتراض کرنے والوں کو اس مؤثر رنگ میں تعلیم پیش کرتیں کہ دوسری عورتیں فوراً قائل ہوجاتیں۔ ‘‘
(روزنامہ الفضل ربوہ 20؍جون 1997ء )

مزید پڑھیں

مکرم سیّد طالع احمد صاحب  شہید

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مکرم سید طالع احمد شہید کے متعلق اپنے خطبہ میں فرمایا:
’’ایک ہیرا تھا جو ہم سے جدا ہو گیا ہے۔ لیکن اس کا نقصان ایسا ہے جس نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اے میرے پیارے طالع! میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً تم نے اپنے وقف کے اعلیٰ ترین معیاروں کو قائم کر لیا ہے۔‘‘

مزید پڑھیں

محترم صاحبزادہ مرزا غلام قادر صاحب شہید

محترم صاحبزادہ مرزا غلام قادر صاحب شہید کی شہادت پر حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ میں فرمایا:
اے شہید !تو ہمیشہ زندہ رہے گا اور ہم سب آکر ایک دن تجھ سے ملنے والے ہیں، زندہ باد، غلام قادر شہید، پائندہ باد۔‘‘

مزید پڑھیں

مکرم سیّد میر مسعود احمد صاحب

مکرم سیّد میر مسعود احمد صاحب ایک بہت بڑی علمی شخصیت تھے ۔ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور سلسلہ کتب اور سلسلہ تاریخ کا بڑا گہرا اور وسیع علم تھا ۔ آپ کی ہر بات با دلیل اور جماعتی روایات کے مطابق ہوتی ۔ بہت محبت کرنے والے وجود تھے ۔ وسیع النظر اور وسیع القلب تھے ۔ سادہ لباس زیب تن کرتے ۔ ہمیشہ مسکرا کر بات کرتے اور طبیعت میں پاکیزہ مزاح کا رنگ بھی تھا ۔

مزید پڑھیں

مکرم نواب عباس احمدخان صاحب

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے آپ کے خطبہ نکاح میں فرمایا کہ عزیز عباس احمد خان ہمارے خاندان میں سے دوسرا بچہ ہے جو حقیقی طور پر دین کی خدمت کرنے کے لئے تیاری کر رہا ہے اوراس نے اپنی زندگی دین کے لئے وقف کی ہوئی ہے… اور عزم اور ارادہ کے ساتھ باقاعدہ دینی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں

مکرمہ سیّدہ امۃ اللطیف صاحبہ حرمِ ثانی حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ

حضرت میر محمد اسمٰعیل صاحبؓ خداتعالیٰ کی نعمتوں کا شمار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
’’ عزیز رشتہ دار ایسے ملے کہ یا جنت میں ہیں یا جنت میں جائیں گے۔ہمسائے وہ ملے جو فرشتہ سیرت ہیں۔ بیویاں ہیں کہ تیس سال سے ایک نے دوسری کو تُو کہہ کر خطاب نہیں کیا۔‘‘

مزید پڑھیں