اَلْخَلْقُ عِیَالُ اللّٰهِ ( سیرتِ رسولؐ کے آئینہ میں)
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’قرابت نوازی ،حسن خلق اور خوشگوار ہمسائیگی سے بستیاں آباد ہوتی ہیں اور عمریں دراز ہوتی ہیں۔‘‘
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’قرابت نوازی ،حسن خلق اور خوشگوار ہمسائیگی سے بستیاں آباد ہوتی ہیں اور عمریں دراز ہوتی ہیں۔‘‘
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”سب سے اکمل نمونہ اور نظیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔جو جمیع اخلاق میں کامل تھے۔ اسی لئے آپ کی شان میں فرمایا۔ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔“
( ملفوظات جلد 1صفحہ 133 ایڈیشن 1984ء)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ نبی دیا، جو خَاتَمُ المؤمنینؐ، خَاتَمُ العارِفینؐ اور خَاتَمُ النَّبِیِّیْنؐہے اور اسی طرح پروہ کتاب اس پر نازل کی جو جَامِع الکُتُب اور خَاتَمُ.الکُتب.ہے۔ “
(ملفوظات جلداول صفحہ311 )
ایک جنگ میں مسلمانوں کو سخت پیاس کا سامنا کرنا پڑا، پانی میسر نہ تھا۔حضرت عمر ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی درخواست کی۔ آپؐ نے دعا کی، ’’اچانک ایک بادل اٹھا اور اتنا برسا کہ مسلمانوں کی ضرورت پوری ہو گئی اور پھر وہ بادل چھٹ گئے۔“
(الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ للقاضی عیاض جلد 1 صفحہ457)
حضرت جابرؓ کے والد حضرت عبداللہ ؓ شہید ہو گئے تھے جن کے ذمہ یہودی ساہوکاروں کا کچھ قرض تھا،جس کا وہ حضرت جابرؓ سے سختی کے ساتھ مطالبہ کر رہے تھے۔پتہ چلنے پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باغ میں تشریف لا کر دعا کی۔ اس دعا کی برکت سے کھجور کا اتنا پھل ہوا کہ قرض ادا کر کے بھی نصف کے قریب کھجور بچ رہی۔
(بخاری کتاب المغازی باب غزوہ احد و کتاب الاستقراض)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تربیت کی خاطر بعض چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی خیال رکھتے تھے۔ حتّٰی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہؓ کو کسی کے گھر جانے کے آداب بھی سکھلائے۔ حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ: ’’ایک دفعہ مَیں آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا، دروازہ کھٹکھٹایا۔آپؐ نے فرمایا: ’’کون ہے؟‘‘۔ مَیں نے عرض کیا: ’’مَیں‘‘۔آپؐ نے فرمایا: ’’مَیں‘کیا مطلب ہوا؟‘‘یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نا پسند کیا اور یہ چاہا کہ نام لیا جائے۔ چنانچہ بعد میں صحابہؓ نام لے کر اجازت لیا کرتے تھے۔
(بخاری کتاب الصلٰوۃ باب حد اتمام الرکوع)
معاویہ بن حکمؓ بیان کرتے ہیں: ’’ایک دفعہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران ایک آدمی کو چھینک آگئی۔ مَیں نے نماز میں ہی کہہ دیا ’ یَرْحَمْکُمُ اللّٰہُ کہ اللہ آپ پر رحم کرے‘۔ لوگ تعجب سے مجھے دیکھنے اور اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے لگے۔ میں نے محسوس کیا کہ مجھے خاموش کرانے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ میں خاموش ہو گیا، نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا۔ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں، میں نے آپؐ سے بہتر تعلیم دینے والا کوئی انسان نہیں دیکھا۔ آپؐ نے نہ مجھے مارا اور نہ بُرا بھلا کہا،صرف اتنا فرمایا: ’’نماز کے دوران کوئی اور بات کرنا جائز نہیں ہے۔ نماز تو ذکر الٰہی اور اللہ تعالیٰ کی تعریف اور بڑائی کے اظہار پر مشتمل ہوتی ہے‘‘
(مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ:836)
حضرت ام شریکؓ نے جب اسلام قبول کیا تو مشرک رشتہ داروں نے ان کو ان کے گھر سے پکڑ لیا اور ان کو ایک بدترین مست اور شریر اونٹ پر سوار کر دیا اور ان کو شہد کے ساتھ روٹی دیتے رہے اور پینے کے لیے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیتے تھے اور انہیں سخت دھوپ میں کھڑا کر دیتے تھے جس سے ان کے ہوش و ہواس جاتے رہے۔ انہوں نے تین دن تک یہی سلوک روا رکھا اور پھر کہنے لگے جس دین پر تم قائم ہواس کو چھوڑ دو۔ حضرت ام شریکؓ کہتی ہیں کہ مَیں ان کی بات نہ سمجھ سکی۔ ہاں چند کلمے سن لیے۔ پھر مجھے انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کر کے بتایا گیا کہ توحید کو چھوڑ دو۔ فرماتی ہیں ۔مَیں نے کہا اللہ کی قسم! میں توحید پر قائم ہوں چاہے مر جاؤں۔
(طبقات الکبریٰ جلد 8 صفحہ 123 )
ام سنان اسلمیہ کہتی ہیں مَیں نے حضرت عائشہؓ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک کپڑا بچھا ہوا دیکھا جس میں خوشبو، بازو بند، کنگن، کانٹے اور انگوٹھیاں تھیں اور پازیب بھی تھیں جو سب عورتوں نے مسلمانوں کے جہاد کے لیے دی تھیں۔
(کتاب المغازی للواقدی جلد3 صفحہ 992 )
مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد یہاں آباد یہود، مشرکین اور دیگرعرب قبائلِ مدینہ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معاہدہ کیا جو’’میثاقِ مدینہ‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ یہ میثاق عدل وانصاف اور آزادی مذہب کی بہترین ضمانت ہےجس سے اندازہ کیاجاسکتاہے کہ مظلوم مسلمانوں نے طاقت حاصل ہوتے ہی اپنی اسلامی ریاست میں عدل وانصاف کا سکّہ کس طرح رائج کرکے دکھایا۔یہوداوردیگر قبائل مدینہ سے کیےگئے اس معاہدے کےمطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ریاست مدینہ کےسربراہ اعلیٰ تھے اور جملہ تنازعات کےفیصلوں کا اختیار آپؐ کو حاصل تھا۔آپؐ نے خوبصورت عادلانہ فیصلے فرمائے
مزید پڑھیں