انصار اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
” چندہ دینے والے یہ سوچیں کہ خداتعالیٰ کا اُن پراحسان ہے کہ اُن کو چندہ دینے کی توفیق دے رہا ہے، نہ کہ یہ احسان کسی شخص کا، اللہ تعالیٰ پر یا اللہ تعالیٰ کی جماعت پر ہے کہ وہ اُسے چندہ دے رہے ہیں۔ پس ہر چندہ دینے والے کو یہ سوچ رکھنی چاہئے کہ وہ چندے دے کر خداتعالیٰ کے فضلوں کے وارث بننے کی کوشش کررہا ہے۔ “
(خطبہ جمعہ 31 مارچ 2006ء)

مزید پڑھیں

رمضان اور نظام وصیت میں شمولیت-درس نمبر29

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو۔ آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ مچ تقویٰ کی راہوں پرقدم مارو گے۔ سواپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خداتعالیٰ کو دیکھتے ہو۔ اور اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ ہر ایک جو زکوٰۃ کے لائق ہے وہ زکوٰۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔ نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔ یقینا یاد رکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو خود تقویٰ سے خالی ہے۔ ہر ایک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہو گی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہو گا۔‘‘
(کشتی نوح،روحانی خزائن جلد 19 صفحہ15)

مزید پڑھیں

رمضان اور مالی قربانی(فدیہ ،فطرانہ، صدقات و خیرات)-درس نمبر17

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ہر صبح دو فرشتےاُترتے ہیں۔ ان میں سے ایک کہتا ہے۔ اے اللہ ! خرچ کرنے والے سخی کو اَور دے اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے اَور پیدا کر۔ ‘‘
(صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ)

مزید پڑھیں

نظام وصیت۔روحانی،اخلاقی اور مادی ترقیات کا ذریعہ

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’جب وصیت کا نظام مکمل ہوگا تو صرف تبلیغ ہی اس سے نہ ہوگی بلکہ اسلام کے منشا کے ماتحت ہر فرد بشر کی ضرورت کو اس سے پورا کیا جائے گا اور دکھ اور تنگی کو دنیا سے مٹا دیا جائے گا انشاءاللہ۔ یتیم بھیک نہ مانگے گا ۔ بیوہ لوگوں کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے گی۔ بے سامان پریشان نہ پھرے گا کیونکہ وصیت بچوں کی ماں ہوگی ، جوانوں کی باپ ہوگی ،عورتوں کا سہاگ ہوگی اور جبر کے بغیر محبت اور دلی خوشی کے ساتھ بھائی بھائی کو اس کے ذریعے سے مدد کرے گا اور اس کا دینا بے بدلہ نہ ہوگا بلکہ ہر دینے والا خداتعالی ٰسے بہتر بدلہ پائے گا ۔ نہ امیر گھاٹے میں رہے گا نہ غریب، نہ قوم قوم سے لڑے گی بلکہ اس کا احسان سب دنیا پر وسیع ہوگا۔‘‘
( نظامِ نو صفحہ130)

مزید پڑھیں

نظام وصیت اور صحابہ و تابعین مسیح موعودؑ کی قربانیاں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”عرصہ ہوا کہ خداتعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا تھا کہ ایک بہشتی مقبرہ ہو گا گویا اس مَیں وہ لوگ داخل ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے علم اور ارادہ میں جنتی ہوں گے۔ پھر اس کے متعلق الہام ہوا۔ اُنْزِلَ فِیْھَا کُلَّ رَحْمَۃٍ ۔ اس سے کوئی نعمت اور رحمت باہر نہیں رہتی۔ اب جو شخص چاہتا ہے کہ وہ ایسی رحمت کے نزول کی جگہ میں دفن ہو کیا عمدہ موقع ہے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کرے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کو اپنی مرضی پر مقدم کرے ۔ “
(ملفوظات جلد 5صفحہ 216)

مزید پڑھیں