درس نمبر26 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور حسنِ معاشرت

عَنۡ عَبۡدِ اللّٰہِ بۡنِ عَمۡرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ اِنَّمَا الدُّنۡیَا مَتَاعٌ، وَلَیۡسَ مِنۡ مَتَاعِ الدُّنۡیَا شَیٔ ءٌ أَفۡضَلَ مِنَ الۡمَرۡ أَۃِ الصَّالِحَۃِ
(ابن ماجہ کتاب النکاح باب افضل النساء1855)
حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دنیا تو صرف ایک عارضی فائدہ کی چیز ہے اور اس دنیا کے عارضی فائدے میں صالحہ عورت سے بڑھ کر افضل کوئی چیز نہیں ۔

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء حضرت خلیفۃُ المسیح الرابعؒ کے فتاویٰ  بابت روزے

عید کے بعد جو نفلی روزے ہیں یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع کئے تھے اور جن لوگوں کو توفیق رکھنے کی ہوان کو رکھنے چاہئیں۔ اس سے ان کی ایک قسم کی وصیت ادا ہوجاتی ہے کیونکہ 30 روزے میں 6 اور ڈال لو تو چھتیس بن گئے اور سال کے 360 دن اور 36 روزے یہ ان کی گویا وصیت ہوگئی تو بدن کی بھی وصیت ہوجاتی ہے۔ اس پہلو سے جو رکھ سکتے ہیں جن کو توفیق ہے وہ رکھیں شوق سے بعضوں کو رمضان میں ہی مشکل ہوتی ہے اور ان کے لئے زائد روزے رکھنا طبیعت کے لحاظ سے یا بیماری کے لحاظ سے آسان نہیں ہوتا۔ اس لئے ان کو اجازت ہے وہ بیشک نہ رکھیں۔
(لجنہ سے ملاقات، الفضل 8؍مئی 2000ء)

مزید پڑھیں

درس نمبر25 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان سے متعلقہ بنیادی مسائل کے جوابات ( حضورِ انور ایدہ اللہ کے إرشادات کی روشنی میں)  (قسط نمبر 2)

نماز کے دوران قرآن کریم کی تلاوت آغاز سے شروع کرتے وقت بھی طریق یہی ہے کہ نماز میں پڑھی جانے والی سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد سورۃ البقرہ کی تلاوت شروع کی جائے گی، دوبارہ سورۃ۔فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی۔ البتہ فقہاء نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ قرآن کریم ختم کرنے کی صورت میں اگر کوئی شخص نماز میں سورۃ الناس کے بعد دوبارہ قرآن کریم کا کچھ ابتدائی حصہ پڑھنا چاہے تو وہ سورۃ فاتحہ سے آغاز کر سکتا ہے اور اس کے بعد سورۃ البقرہ کا بھی کچھ پڑھ سکتاہے، اس میں کچھ حرج کی بات نہیں لیکن ابتداء میں سورۃ فاتحہ کا تکرار بعض فقہاء کے نزدیک موجب سجدہ سہو ہے۔

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان کے روزوں سے متعلقہ چند مسائل

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” ایک دفعہ میرے دل میں آیا کہ فدیہ کس لئے مقرر کیا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ توفیق کے واسطے ہے تاکہ روزہ کی توفیق اِس سے حاصل ہو۔ خداتعالیٰ ہی کی ذات ہے جو توفیق عطا کرتی ہے اور ہر شے خدا تعالیٰ ہی سے طلب کرنی چاہئے ۔ خد اتعالیٰ تو قادرِ مطلق ہے وہ اگر چاہے تو ایک مدقوق کو بھی روزہ کی طاقت عطا کر سکتا ہے تو فدیہ سے یہی مقصود ہے کہ وہ طاقت حاصل ہو جائے اور یہ خداتعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے۔ پس میرے نزدیک خوب ہے کہ دعا کرے کہ الٰہی! یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور مَیں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم کہ آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ یا اِن فوت شدہ روزوں کو ادا کرسکوں یا نہ اور اس سے توفیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کو خدا تعالیٰ طاقت بخش دے گا۔“
(البدر12دسمبر1902ء صفحہ52)

مزید پڑھیں

درس نمبر24 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان سے متعلقہ بنیادی مسائل کے جوابات ( حضورِ انور ایدہ اللہ کے إرشادات کی روشنی میں) (قسط نمبر1)

جو شخص کسی بیماری یا سفر کی وجہ سے رمضان میں روزے نہیں رکھ سکا اسے چاہیے کہ اولین فرصت میں جب اسے سہولت ہو فرض روزے مکمل کرلے۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ حضور ﷺ کی ازواج کا یہ طریق تھا کہ وہ اپنے چھوٹے ہوئے روزے اگلا رمضان آنے سے قبل شعبان میں پورے کر لیا کرتی تھیں۔
(صحیح مسلم کتاب الصیام باب قضاء رمضان فی شعبان)

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء ذکرِ الٰہی، اطمینانِ قلب کا مُوجب ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
”نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمدِ الٰہی ہے ،استغفار ہے اور درود شریف۔ تمام وظائف … کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اِس سے ہر ایک قسم کے غم وہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپؐ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اسی لئے فرمایا ہے اَ لَا بِذِکرِ اللّٰہِ تَطمَئِنُّ القُلُوبُ (الرعد:29)۔ اطمینان، سکینتِ قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر اَور کوئی ذریعہ نہیں…میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لئے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو ۔ اس سے تمہیں اطمینانِ قلب حاصل ہو گا اور سب مشکلات خدا تعالیٰ چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔ نماز یادِ الٰہی کا ذریعہ ہے اسی لئے فرمایا ہے اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکرِی۔“
(الحکم 31 مئی 1903ء صفحہ9)

مزید پڑھیں

درس نمبر23 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور رسومات سے اجتناب

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللّٰهِ وَخَيْرُ الْھَدْیِ ھَدْیُ مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالۃ
(مسلم کتاب الجمع)
کہ بہترین بات اللہ کی کتاب ہے۔ بہترین طریق محمدؐ کا طریق ہے۔بدترین فعل دین میں نئی نئی بدعات کو پیدا کرنا ہے۔ہر بدعت گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔

مزید پڑھیں

درس نمبر22 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور اطاعتِ خلافت کا سبق

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایده الله تعالىٰ فرماتے ہیں:
’’اگر خلیفہ وقت کی باتوں پر کان نہیں دھریں گے تو آہستہ آہستہ نہ صرف اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے فضلوں سے دور کر رہے ہوں گے بلکہ اپنی نسلوں کو بھی دین سے دور کرتے چلے جائیں گے۔‘‘
(خطبات مسرور جلد 8 صفحہ 191)

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان کی اہمیت ، مثالوں سے ( تقریر نمبر 2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’رَمَضَ سورج کی تپش کو کہتے ہیں۔ رَمَضَان میں چونکہ انسان اَکلْ و شُرب اور تمام جسمانی لذّتوں پر صبر کرتا ہے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ کے احکام کے لئے ایک حرارت اور جوش پیدا کرتا ہے۔ روحانی اور جسمانی حرارت اور تپش مل کر رَمضان ہوا۔ اہلِ لُغت جو کہتے ہیں کہ گرمی کے مہینہ میں آیا، اس لئے رمضان کہلایا۔ میرے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ عرب کے لئے یہ خصوصیت نہیں ہو سکتی۔ روحانی رَمَضَ سے مراد رُوحانی ذوق و شوق اور حرارتِ دینی ہوتی ہے۔ رَمَضَ اس حرارت کو بھی کہتے ہیں، جس سے پتھر گرم ہو جاتے ہیں۔‘‘
)ملفوظات جلد1 صفحہ136 ایڈیشن 1988ء(

مزید پڑھیں

درس نمبر21 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور نمازِ تہجد و نوافل

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ؓ تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ 1895ء میں مجھے تمام ماہ رمضان قادیان میں گزارنے کا اتفا ق ہوا اور میں نے تمام مہینہ حضرت صاحب کے پیچھے نماز تہجد یعنی تراویح ادا کی۔ آپ کی یہ عادت تھی کہ وتر اوّل شب میں پڑھ لیتے تھے اور نماز تہجد آٹھ رکعت دو دو رکعت کرکے آخر شب میں ادا فرماتے تھے ۔ جس میں آپ ہمیشہ پہلی رکعت میں آیت الکرسی تلاوت فرماتے تھے یعنی اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ سے وَھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْم تک اوردوسری رکعت میں سورۃ اخلاص کی قرأت فرماتے تھے اور رکوع و سجود میں یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ اکثر پڑھتے تھے۔ اور ایسی آواز سے پڑھتے تھے کہ آپ کی آواز میں سُن سکتا تھا۔
(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 295)

مزید پڑھیں