حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ ( الرعد:29) اس کے عام معنی تو یہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے قلوب اطمینان پاتے ہیں۔ لیکن اس کی حقیقت اور فلاسفی یہ ہے کہ جب انسان سچے اخلاص اور پوری وفاداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے اور ہر وقت اپنے آپ کو اس کے سامنے یقین کرتا ہے ۔ اِس سے اُس کے دل پر ایک خوف عظمتِ.الٰہی کا پیدا ہوتا ہے وہ خوف اس کو مکروہات اور منہیات سے بچاتا ہے اور انسان تقویٰ اور طہارت میں ترقی کرتا ہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالٰی کے ملائکہ اُس پر نازل ہوتے ہیں اور وہ اُس کو بشارتیں دیتے ہیں اور الہام کا دروازہ اُس پر کھولا جاتا ہے۔ اُس وقت وہ اللہ تعالٰی کو گویا دیکھ لیتا ہے اور اس کی وراءُ الوراء طاقتوں کا مشاہدہ کرتا ہے۔ پھر اُس کے دل پر کوئی ہمّ و غم نہیں آسکتا اور طبیعت ہمیشہ ایک نشاط اور خوشی میں رہتی ہے۔ اسی لئے دوسرے مقام پر آیا ہے لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ
( الاحقاف:14) اگر کوئی ہمّ و غم واقع بھی ہو تو اللہ تعالیٰ اپنے الہام سے اس کے لئے خارجی اسباب اُن کے دُور کرنے کے پیدا کر دیتا ہے۔ یا خارق عادت صبر اُن کو عطا کرتا ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد 8صفحہ2-1)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ سب دوستوں کے واسطے ضروری ہے کہ ہماری کتب کم از کم ایک دفعہ ضرور پڑھ لیا کریں کیونکہ علم ایک طاقت ہے اور طاقت سے شجاعت پیدا ہوتی ہے ۔ جس کو علم نہیں ہوتا مخالف کے سوال کے آگے حیران ہوتا ہے ۔ ‘‘
(ملفوظات جلد8صفحہ8)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور قرآن شریف خاتم الکتب ۔ اب کوئی اور کلمہ یا کوئی اور نماز نہیں ہو سکتی ۔ جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا کر کے دکھایا اور جو کچھ قرآن شریف میں ہے اُ س کو چھوڑ کر نجات نہیں مِل سکتی ۔ جو اُس کو چھوڑے گا وہ جہنم میں جاوے گا ۔ یہ یمارا مذہب اور عقیدہ ہے ۔ ‘‘
( ملفوظات جلد8صفحہ 252)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’اللہ تعالیٰ مخفی ہے مگر وہ اپنی قدرتوں سے پہچانا جاتا ہے ۔دُعا کے ذریعہ سے اُس کی ہستی کا پتہ لگتا ہے ۔ کوئی بادشاہ یا شہنشاہ کہلائے ہر شخص پر ضرور ایسے مشکلات پڑتے ہیں جن میں انسان بالکل عاجز رہ جاتا ہے اور نہیں جانتا کہ اب کیا کرنا چاہیے ۔ اُس وقت دعا کے ذریعہ سے مشکلات حل ہو سکتے ہیں ۔‘‘
( ملفوظات جلد 8صفحہ 35)

مزید پڑھیں

اِرْکَبْ مَعَنَا (القرآن)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلی درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں ۔ یعنی وہی نبیوں کا سردار ۔ رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفےٰ واحمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزاروں برس تک نہیں مل سکتی تھی ۔‘‘
( سراج منیر، روحانی خزائن جلد 12صفحہ 82)

مزید پڑھیں

اَنْتَ اَقْوٰی اَمِ اللّٰہ ؟

حضرت مسیح موعود موعود علیہ لسلام ا فرماتے ہیں :
’’دیکھو! ہم بھی رخصتوں پر عمل کرتے ہیں۔ نمازوں کو جمع کرتے ہوئے کوئی دو ماہ سے زیادہ ہوگئے ہیں بسبب بیماری کے اور تفسیر سورۃ فاتحہ کے لکھنے میں بہت مصروفیت کے سبب ایسا ہو رہا ہے اور اِن نمازوں کے جمع کرنے میں تُجْمَعُ لَہُ الصَّلٰوۃُ کی حدیث بھی پوری ہو رہی ہے کہ مسیح موعودؑ کی خاطر نمازیں جمع کی جائیں گی۔ اِس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود نماز کے وقت پیش امام نہ ہو گا بلکہ کوئی اور ہوگا اور وہ پیش امام مسیح کی خاطر نمازیں جمع کرائے گا۔ سو اب ایسا ہی ہوتا ہے۔ جس دن ہم بیماری کی وجہ سے بالکل نہیں آ سکتے اُس دن نمازیں جمع نہیں ہوتیں اور اس حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیار کے طریق سے یہ فرمایا ہے کہ اُس کی خاطر ایسا ہوگا… خداتعالیٰ نے ایسے ہی اسباب پیدا کر دیئے کہ اتنے عرصہ سے نمازیں جمع ہو رہی ہیں، ورنہ ایک دو دن کے لیے یہ بات ہوتی تو کوئی نشان نہ ہوتا۔ ہم حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لفظ لفظ اور حرف حرف کی تعظیم کرتے ہیں ‘‘۔
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 446 ایڈیشن 1988ء)

مزید پڑھیں

ہم یومِ مسیح موعودؑ کیوں مناتے ہیں؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’مسلمانوں کو چاہئے کہ جو انوار و برکات اس وقت آسمان سے اُتر رہے ہیں وہ ان کی قدر کریں اور اللہ تعالیٰ کا شکر کریں کہ وقت پر ان کی دستگیری ہوئی اور خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اس مصیبت کے وقت ان کی نصرت فرمائی۔ لیکن اگر وہ خدا تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر نہ کریں گے تو خدا تعالیٰ ان کی کچھ پروا نہ کرے گا۔ وہ اپنا کام کرکے رہے گا مگر ان پر افسوس ہوگا۔
مَیں بڑے زور سے اور پورے یقین اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ دوسرے مذاہب کو مٹا دے اور اسلام کو غلبہ اور قوت دے۔ اب کوئی ہاتھ اور طاقت نہیں جو خدا تعالیٰ کے اس ارادہ کا مقابلہ کرے۔ وہ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ (البروج: 17) ہے ۔ مسلمانو! یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تمہیں یہ خبر (دے) دی ہے اور مَیں نے اپنا پیغام پہنچا دیا ہے۔ اب اس کو سننا نہ سننا تمہارے اختیار میں ہے۔ یہ سچی بات ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اور مَیں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو موعود آنے والا تھا وہ مَیں ہی ہوں اور یہ بھی پکّی بات ہے کہ اسلام کی زندگی عیسیٰ کے مرنے میں ہے۔‘‘
(لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد20 صفحہ290)

مزید پڑھیں

ہم یوم مصلح موعودکیوں مناتے ہیں؟ (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’یہ ایک عظیم پیشگوئی ہےجو کسی شخص کی ذات سے وابستہ نہیں ہے بلکہ یہ پیشگوئی اسلام کی نشأۃ ثانیہ سے تعلق رکھتی ہے اور اس پیشگوئی کی اصل تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 18؍فروری 2011ء)

مزید پڑھیں

ایمان اور اُس کی حفاظت ؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
’’اصل بات یہ ہے کہ بعض اوقات حب دنیا کا غلبہ بھی سلب ایمان کا باعث ہوجایا کرتا ہے لہٰذا دنیوی امور میں بہت انہماک اوردنیوی امور کو اتنی اہمیت دے دینا کہ گویا دین ایمان اورآخرت کی پروا ہی نہ رہے یہ بھی خطرناک زہریلا مرض ہے۔یہ تووہ زمانہ ہے جس کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے جاؤ،درختوں کے تنوں سے لگ جاؤ اور جس طرح سے بن پڑے زمانہ کے فتن سے اپنے ایمان کو سلامت رکھنے کی کوشش کرو۔‘‘
(ملفوظات جلد 5صفحہ 526،ایڈیشن1988ء)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر10)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”دُعا کی مثال ایک چشمۂ شیریں کی طرح ہے جس پر مومن بیٹھا ہوا ہے۔ وہ جب چاہے اس چشمہ سے اپنے آپ کو سیراب کرسکتا ہے۔ جس طرح ایک مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح مومن کا پانی دُعا ہے کہ جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔ اس دعا کا ٹھیک محل نماز ہے جس میں وہ راحت اور سرور مومن کو ملتا ہے کہ جس کے مقابل ایک عیاش کا کامل درجہ کا سرور جو اُسے کسی بدمعاشی میں میسّر آسکتا ہے ، ہیچ ہے ۔ بڑی بات جو دعا میں حاصل ہوتی ہے وہ قرب الٰہی ہے۔ دُعا کے ذریعہ ہی انسان خداتعالیٰ کے نزدیک ہوجاتا اور اُسے اپنی طرف کھینچتا ہے ۔ جب مومن کی دُعا میں پورا اخلاص اور انقطاع پیدا ہوجاتا ہے ۔تو خداتعالیٰ کو بھی اس پر رحم آجاتا ہے اور خداتعالیٰ اس کا متولِّی ہوجاتا ہے ۔ اگر انسان اپنی زندگی پر غور کرے تو الٰہی تولّی کے بغیر انسانی زندگی قطعًا تلخ ہوجاتی ہے۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 59)

مزید پڑھیں