اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ کا بابرکت استعمال (تقریر نمبر1)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”حمد کے معنی تعریف کے ہیں۔ عربی میں تعریف کے لئے کئی الفاظ آتے ہیں ۔ حمد، مدح، شکر، ثنا اللہ تعالیٰ نے حمد کا لفظ چنا ہے جو بلاوجہ نہیں۔ شکر کے معنی احسان کے اقرار اور اس پر قدردانی کے اظہار کے ہوتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ لفظ استعمال ہو تو صرف قدردانی کے معنی ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ حمد اس سے زیادہ مکمل لفظ ہے کیونکہ حمد صرف احسان کے اقرار کا نام نہیں ہے بلکہ ہر حسین شے کے حسن کے احساس اور اس پر اظہار پسندیدگی اور قدردانی کا نام بھی ہے۔ پس یہ لفظ زیادہ وسیع ہے۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد اول صفحہ 18)

مزید پڑھیں

سُبْحَانَ اللّٰہِ پڑھنے کے فوائد اور برکات (تقریر نمبر 2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ اسی طرح انسان کامل کے نفس کا حال ہے کہ احکام الہی کی تخم ریزی سے عجیب سرسبزی لے کر اس کے اعمال صالحہ کے پودے نکلتے ہیں اور ایسے عمدہ اور غایت درجہ کے لذیذ اس کے پھل ہوتے ہیں کہ ہر یک دیکھنے والے کو خداتعالیٰ کی پاک قدرت یاد آکر سُبْحَانَ اللّٰہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہنا پڑتا ہے۔‘‘
(تفسیرحضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد ہشتم صفحہ263)

مزید پڑھیں

سُبْحَانَ اللّٰہِ پڑھنے کے فوائد اور برکات (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ، سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ کے ذکر میں فرمایا۔
’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ولی اللہ اور صاحب برکات وہی شخص ہے جس کو یہ جوش حاصل ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کا جلال ظاہر ہو۔ نماز میں جو سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ اور سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہا جاتا ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کے جلال کے ظاہر ہونے کی تمنّا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی ایسی عظمت ہو۔ جس کی نظیر نہ ہو۔ نماز میں تسبیح وتقدیس کرتے ہوئے یہی حالت ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ترغیب دی ہے کہ طبعاً جوش کے ساتھ اپنے کاموں سے اور اپنی کوششوں سے دکھاوے کہ اس کی عظمت کے برخلاف کوئی شے مجھ پر غالب نہیں آسکتی۔ یہ بڑی عبادت ہے۔ جو لوگ اس کی مرضی کے مطابق جوش رکھتے ہیں۔ وہی مؤیّد کہلاتے ہیں اور وہی بر کتیں پاتے ہیں ۔‘‘
(ملفوظات جلد1صفحہ395 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ کا استعمال

حضرت مسیح موعود علیہ السلام توکّل علیٰ اللہ کی تعریف میں فرماتے ہیں:
’’ توکّل یہی ہے کہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے کسی امر کےحاصل کرنے کے واسطے مقرر کئے ہوئے ہیں ان کو حتی المقدور جمع کرو اور پھر خود دعاؤں میں لگ جاؤ کہ اے خدا! تو ہی اس کا انجام بخیر کر ۔ صدہا آفات ہیں اور ہزاروں مصائب ہیں۔ جو ان اسباب کو بھی برباداور تہ وبالا کر سکتے ہیں، ان کی دست برد سے بچا کر ہمیں سچی کامیابی اور منزل مقصود پر پہنچا۔‘‘
(ملفوظات جلد 3صفحہ 146،ایڈیشن1988ء)

مزید پڑھیں

جنت کے خزانہ ’’ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ‘‘ کو پڑھنے کی ہدایت

حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّلؓ استغفار اور لَاحَوْل کا مطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’…لاف زنی وغیرہ کی غلطیاں انسان میں جو ہوتی ہیں ان کا علاج اور نیز ہر ایک مرض کا علاج کثرت سے استغفار اور لَاحَوْل پڑھنا ہے۔ خدا تعالیٰ سے دعا مانگنی چاہئے کہ وہ سابقہ گناہوں کے بد نتائج سے محفوظ رکھے اورآئندہ بدی کے ارتکاب سے حفاظت بخشے۔
استغفار اور لَاحَوْل کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ! تیری قوّت کے بغیر میں کوئی بدی نہیں چھوڑ سکتا اور نہ تیری قوت کے بغیر کوئی نیکی کا کام کرسکتا ہوں۔ تب خدا نیکی کی توفیق بخشے گا۔‘‘
( حقائق الفرقان جلد دوم صفحہ 36)

مزید پڑھیں

اَللّٰہُ اَکْبَرُ پڑھنے میں برکات ہیں اللہ کا ذکر یقیناً سب (ذکروں) سے بڑا ہے

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں۔
”نماز کیا ہے؟ ایک قسم کی دعا ہے جو انسان کو تمام برائیوں اور فواحش سے محفوظ رکھ کر حسنات کا مستحق اور انعام الہیہ کا مورد بنادیتی ہے۔ کہا گیا ہے کہ اللہ اسم اعظم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام صفات کو اس کے تابع رکھا ہے اب ذرا غور کرو نماز کی ابتداء اذاں سے شروع ہوتی ہے اذان اللّٰہ اکبر سے شروع ہوتی ہے یعنی اللہ کے نام سےشروع ہو کر لا اله الا اللّٰہ یعنی اللہ ہی پر ختم ہوتی ہے یہ فخر اسلامی عبادت ہی کو ہے کہ اس میں اول اور آخر میں اللہ تعالیٰ ہی مقصود ہے نہ کچھ اور ۔ میں دعولی سے کہتاہوں کہ اس قسم کی عبادت کسی قوم اور ملت میں نہیں ہے۔ پس نماز نماز : جو دعا ہے اور جس میں اللہ کو جو خدائے تعالیٰ کا اسم اعظم ہے مقدم رکھا ہے۔ ایسا ہی انسان کا اسم اعظم استقامت ہے۔ اسم اعظم سے مراد یہ ہے کہ جس ذریعہ سے انسانیت کے کمالات حاصل ہوں۔“
(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 6صفحہ 267)

مزید پڑھیں

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ پڑھنے کی برکات (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
’’حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جب تم میں کوئی شخص کھانا کھانے لگے تو پہلے اللہ تعالیٰ کا نام لے یعنی بِسْمِ اللّٰہِ پڑھے اور اگر شروع میں بھول جائے تو یاد آنے پر بِسْمِ اللّٰہ ِ فِیْٓ اَوَّ لِہٖ وَ اٰخِرِہٖ پڑھے۔ (جامع ترمذی، ابواب الاطعمہ باب ما جاء فی التسمیۃ علی الطعام حدیث نمبر 858) تو بِسْمِ اللّٰہِ کی عادت بھی بچپن ہی سے ڈالی جائے تو پڑتی ہے۔ ورنہ بڑے ہوکر بسا اوقات لوگ بِسْمِ اللّٰہِ پڑھنا بھول جاتے ہیں اور اگر کھاتے وقت یاد آجائے تو پھر یہ ضرور پڑھنا بِسْمِ اللّٰہ ِفِیْٓ اَوَّلِہٖ وَاٰخِرِہٖ۔ اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ مَیں کھانا کھاتا ہوں۔ اس سے پہلے بھی جب کھانا شروع کیا تھا تیرے ہی نام سے کھانا کھایا تھا اور کھانا ختم ہونے پر بھی تیرا ہی با برکت نام لیتا ہوں۔
صحیح مسلم کتاب الاشربہ میں وَھَب بن کَیْسَان بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عمر بن ابو سلمہؓ ..کو یہ کہتے ہوئے سنا ۔ مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھا۔ میرا ہاتھ پلیٹ میں اِدھر اُدھر جاتا تھا۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچے اللہ کا نام لو (بِسْمِ اللّٰہِ پڑھو) اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ (ہر طرف ہاتھ نہ دوڑاتے پھرو)۔“
(خطبہ جمعہ 19مئی 2000ء از خطبات طاہر جلد19 صفحہ316)

مزید پڑھیں

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ پڑھنے کی برکات )تقریر نمبر 1)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر قابل قدر اور سنجیدہ کام اگر خدا تعالیٰ کی حمد وثنا کے بغیر شروع کیا جائے تووہ بے برکت اور ناقص رہتا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ہر قابل قدر گفتگو (اور تقریر وغیرہ) اگر خدا تعالیٰ کی حمد وثنا کے بغیر شروع کی جائے تو وہ برکت سے خالی اور بے اثر ہوتی.ہے۔
(حدیقۃ الصالحین حدیث 20 صفحہ43)

مزید پڑھیں

تَعَوُّذ یعنی اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ پڑھنے کا حکم

ایک بچے نے حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ کوئی نیک کام کرنے سے پہلے جب شیطان ہمیں بہکاتا ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔
” تَعَوُّذ اور استغفار پڑھیں، ثابت قدم رہیں اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔“
(الفضل انٹرنیشنل 23 اکتوبر 2020ء)

مزید پڑھیں

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ کو ترویج دینا (ارشادات مسیح موعودؑ اور خلفاء کی روشنی میں) ( تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کو رواج دیں۔ اس کی یہاں تک تاکید ہے کہ اگر خالی مکان میں بھی کبھی جانا ہو تو اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَ عَلٰی عِبَادِہِ الصَّالِحِیْنَ کہیں۔‘‘
(ارشادات نورجلد دوم صفحہ 491)

مزید پڑھیں