اسلامی اصطلاحات، شعائر اللہ کی تعظیم وتکریم
حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ فرماتے ہیں:
’’ قرآن کریم کی بہت تعظیم ہے کہ یہ شعائر اللہ میں سے اعظم ہے۔‘‘
(حقائق الفرقان جلد 3 صفحہ 148)
حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ فرماتے ہیں:
’’ قرآن کریم کی بہت تعظیم ہے کہ یہ شعائر اللہ میں سے اعظم ہے۔‘‘
(حقائق الفرقان جلد 3 صفحہ 148)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے باوجود بیماری اور خرابئ صحت مسجد آ کر با جماعتِ ادا کرنے کے حوالے سے اپنی کیفیت یوں بیان فرمائی:
” میرے سر کی حالت آج بھی اچھی نہیں چکر آ رہا ہے جب جماعت کا وقت آتا ہے تو اس وقت خیال گزرتا ہے کہ جب جماعت ہو گی اور مَیں شامل نہ ہوں گا اور افسوس ہوتا ہے اس لئے افتاں وخیزاں چلا آتا ہوں۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ212)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’درود شریف جو حصولِ استقامت کا ایک زبردست ذریعہ ہے بکثرت پڑھو مگر نہ رسم اور عادت کے طورپر بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور احسان کو مدنظر رکھ کر اور آپؐ کے مدارج اور مراتب کی ترقی کے لئے اور آپ کی کامیابیوں کے واسطے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ قبولیت دعا کا شیریں اور لذیذ پھل تم کو ملے گا‘‘۔
(
حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں
”غالباً 1901ء کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ مَیں حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہِ اقدس میں حاضر تھا کہ حضور علیہ السلام نے توحیدِ باری تعالیٰ پر ایک تقریر فرمائی اور اس میں ارشاد کیا کہ
بعض لوگ کسی کے احسان پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنے کے بغیر ہی جَزَاکَ اللّٰہُ کہہ دیتے ہیں حالانکہ بہ نظرِ غایت دیکھا جائے تو از روئے معرفت یہ کلمہ بھی اپنے اندر ایک گونہ شرک کا پہلو رکھتا ہے کیونکہ احسان کرنے والے کی ذات اور وہ چیز جس کےذریعے وہ محسن بنا ہے وہ بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں۔ اس لیے ممنونِ.احسان کو چاہیے کہ وہ جَزَاکَ اللّٰہُ کہنے سے قبل اللہ تعالیٰ کی توصیف وتحمید بیان کرے اور احسان ہونے پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے کیونکہ معرفت اور حقیقت کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ سب سے اوّل خالقِ اسباب کا شکریہ ادا کیا جائے پھر جَزَاکَ اللّٰہُ اس شخص کا بھی کہہ دے۔“
(حیاتِ قدسی صفحہ 134)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اِنْ شَآءَ اللّٰہُ کہنا نہایت ضروری ہے کیونکہ انسان کے تمام معاملات اس کے اپنے اختیار میں نہیں۔ وہ طرح طرح کے مصائب اور مکارہ و موانع میں گھرا ہواہے۔ممکن.ہے کہ جو کچھ ارادہ اس نے کیا ہے وہ پُورا نہ ہو۔ پس اِنْ شَآءَ اللّٰہُ کہہ کر اللہ تعالیٰ سے جو تمام طاقتوں کا سرچشمہ ہے مدد طلب کی جاتی ہے۔آجکل کے ناعاقبت اندیش و نادان لوگ اس پر ہنسی اڑاتے ہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد10 صفحہ370 ایڈیشن 1984ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ صبر وصلوٰۃ اور شہادت پر تسلیم ورضا کا ردّ عمل دکھانے والوں کی راہ پر ڈال ایسے لوگوں کی راہ پر ڈال جو ابتلاؤں اور نقصانات پر صبر سے کام لیتے ہیں اور تیرے حضور ہر قسم کی قربانیاں دیتے ہوئے یہ عرض کرتے ہیں کہ اِنَّا لِلّٰہِ واِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ کہ سب کچھ گیا لیکن ہم بھی تو خدا ہی کے ہیں۔ ہم بھی چلے جائیں تو کچھ ہاتھ سے دینے والے نہیں ہوں گے۔ اِنَّا لِلّٰہِ ہم خدا کے تھے اور خدا کے ہیں اور ہم نے بھی تو آخر اسی کے پاس جانا ہے جہاں ہمارا سب کچھ جا رہا ہے۔‘‘
(خطبات طاہر جلد10 صفحہ298)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ ثمرات میں اولاد بھی داخل ہے اور محنتوں کے بعد آخر کی کامیابیاں بھی مراد ہیں ان کے ضائع ہونے سے بھی سخت صدمہ ہوتا ہے۔ امتحان دینے والے اگر کبھی فیل ہوجاتے ہیں تو بارہا دیکھا گیا ہے کہ وہ خودکشیاں کرلیتے ہیں……غرض اس قسم کے ابتلاء جن پر آئیں پھر اللہ تعالیٰ ان کو بشارت دیتا ہے وَبَشِّرِ الصّٰبِرِینَ یعنی ایسے موقع پر جہد کے ساتھ برداشت کرنے والوں کو خوشخبری اور بشارت ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں اِنَّا لِلّٰہِ واِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ۔ یاد رکھو کہ خدا کا خاص بندہ اور مقرّب تب ہی ہوتا ہے کہ ہر مصیبت پر خدا ہی کو مقدّم رکھے۔ غرض ایک وہ حصہ ہوتا ہے جس میں خدا اپنی منوانا چاہتا ہے۔ دعا کے معنیٰ تو یہی ہیں کہ انسان خواہش ظاہر کرتا ہے کہ یوں ہو، پس کبھی مولیٰ کریم کی خواہش مقدّم ہونی چاہیے اور کبھی اللہ کریم اپنے بندہ کی خواہش کو پورا کرتا ہے۔‘‘
(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد دوم صفحہ273)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ یہ سچی بات ہے کہ توبہ اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں اور خداتعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَ یُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ(البقرۃ: 223 ) سچی توبہ کرنے والا معصوم کے رنگ میں ہوتا ہے۔ پچھلے گناہ تو معاف ہو جاتے ہیں پھر آئندہ کے لیے خدا سے معاملہ صاف کر لے۔ اس طرح پر خدا کے اولیاء میں داخل ہو جائے گا اور پھر اس پر کوئی خوف و حزن نہ ہو گا۔ ‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ595-594، ایڈیشن 1988ء)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ توبہ استغفار کرتے رہو کیونکہ یہ اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ جو استغفار کرتا ہے اسے رزق میں کشائش دیتا ہے۔‘‘
(تفسیرحضرت مسیح موعودؑ جلد دوم صفحہ365)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ واضح ہو کہ حمد اس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی مستحق تعریف کے اچھے فعل پر کی جائے نیز ایسے انعام کنندہ کی مدح کا نام ہے جس نے اپنے ارادہ سے انعام کیا ہو۔ اور اپنی مشیت کے مطابق احسان کیا ہو۔ اور حقیقت محمد کما حقہ صرف اسی ذات کے لئے متحقق ہوتی ہے جو تمام فیوض وانوار کا مبدء ہو اور علی وجہ البصیرت کسی پر احسان کرے نہ کہ غیر شعوری طور پر یا کسی مجبوری سے۔ اور حمد کے یہ معنی صرف خدائے خبیر وبصیر کی ذات میں ہی پائے جاتے ہیں۔ اور وہی محسن ہے اور اول وآخر میں سب احسان اسی کی طرف سے ہیں۔ اور سب تعریف اسی کے لئے ہے اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی اور ہر حمد جو اس کے غیروں کے متعلق کی جائے اس کا مرجع بھی وہی ہے۔ ‘‘
(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ، سورۃ الفاتحہ صفحہ82)