اسلام ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’نوافل سے مومن میرا مقرّب ہو جاتا ہے ایک فرائض ہوتے ہیں دوسرے نوافل یعنی ایک تو وہ احکام ہیں جو بطور حق واجب کے ہیں اور نوافل وہ ہیں جو زائد از فرائض ہیں اور وہ اس لئے ہیں کہ فرائض میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہونوافل سے پوری ہو جاوے۔ لوگوں نے نوافل صرف نماز ہی کے نوافل سمجھے ہوئے ہیں نہیں یہ بات نہیں۔ ہر فعل کے ساتھ نوافل ہوتے ہیں۔ انسان زکوٰۃ دیتا ہے تو کبھی زکوٰۃ کے سوا بھی دے۔ رمضان میں روزے رکھتا ہے کبھی اس کے سوا بھی رکھے قرض لے تو کچھ ساتھ زائد دے کیونکہ اس نے مروّت کی ہے۔ نوافل متمّم فرائض ہوتے ہیں‘‘
(ملفوظات جلد2 صفحہ79-80)
