برداشت، انسانیت اَور سوسائٹی کی معراج ہے
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”صبر کے معنے یہ ہیں کہ اگر تمہیں کوئی گالی دے تو تم اسے گالی نہ دو ۔ اگر کوئی تم پر ظلم کرے تو تم اس وقت تک ظلم کا جواب نہ دو جب تک شریعت تمہیں جواب دینے کی اجازت نہیں دیتی۔ لیکن صبر کے یہ معنی نہیں کہ تم اپنا دفاع چھوڑ دو اور دین کے معاملے میں ذلّت برداشت کرلو۔ کیونکہ اس طرح بہادری اور دلیری نہیں بلکہ بزدلی پیدا ہوجائے گی ۔ صبر کےمعنے یہ ہیں کہ انسان متواتر اور استقلال کے ساتھ ان بدیوں کا مقابلہ کرے جو اس کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں اور ان بدیوں کے مقابلہ کے لئے تیار رہے جو اس کو آئندہ پیش آنے والی ہوں ۔ اسی طرح صبر کے ایک معنی یہ ہیں کہ انسان استقلال کے ساتھ اپنی نیکیوں پر قائم رہے جو اس کو حاصل ہوچکی ہوں اور ان نیکیوں کے حصول کے لئے کوشش کرے جو اس کو ابھی ملی نہیں۔ “
(تفسیر کبیر جلد 2صفحہ 115-116)
