”مساجد تو دراصل بیتُ المساکین ہوتی ہیں“ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’اگر اللہ تعالیٰ کو تلاش کرنا ہے تو مسکینوں کے دل کے پاس تلاش کرو۔ اسی لیے پیغمبروں نے مسکینی کا جامہ ہی پہن لیا تھا۔ اسی طرح چاہیئے کہ بڑی قوم کے لوگ چھوٹی قوم کو ہنسی نہ کریں اور نہ کوئی یہ کہے کہ میرا خاندان بڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میرے پاس جو آؤ گے تو یہ سوال نہ کروں گا کہ تمہاری قوم کیا ہے۔ بلکہ سوال یہ ہوگا کہ تمہارا عمل کیا ہے۔ اسی طرح پیغمبر خدا نے فرمایا ہے! اپنی بیٹی سے کہ اے فاطمہ خدا تعالیٰ ذات کو نہیں پوچھے گا۔ اگر تم کوئی برا کام کروگی تو خدا تعالیٰ تم سے اس واسطے درگزر نہ کرے گا کہ تم رسول کی بیٹی ہو۔ پس چاہیئے کہ تم ہر وقت اپنا کام دیکھ کر کیا کرو۔‘‘
( ملفوظات جلد سوم صفحہ370)

مزید پڑھیں

نجات حقیقی کا اصل سرچشمہ، خدائے عزّوجل سے ذاتی محبت

حضرت مسیح موعود موعود علیہ لسلام ا فرماتے ہیں :
’’ تُم اس خدا کے پہچاننے کے لئے بہت کوشش کرو جس کا پانا عین نجات اور جس کا ملنا عین رستگاری ہے۔ وہ خدا اسی پر ظاہر ہوتا ہے جو دل کی سچائی اور محبت سے اس کو ڈھونڈتا ہے۔ وہ اسی پر تجلی فرماتا ہے جو اسی کا ہو جاتا ہے۔ وہ دل جو پاک ہیں وہ اس کا تخت گاہ ہیں اور وہ زبانیں جو جھوٹ اور گالی اور یاوہ گوئی سے منزّہ ہیں۔ وہ اس کی وحی کی جگہ ہیں اور ہر ایک جو اس کی رضا میں فنا ہوتا ہے اس کی اعجازی قدرت کا مظہرہو جاتا ہے۔‘‘
(کشف الغطاء، روحانی خزائن جلد14صفحہ188)

مزید پڑھیں

ہم یومِ مسیح موعودؑ کیوں مناتے ہیں؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’مسلمانوں کو چاہئے کہ جو انوار و برکات اس وقت آسمان سے اُتر رہے ہیں وہ ان کی قدر کریں اور اللہ تعالیٰ کا شکر کریں کہ وقت پر ان کی دستگیری ہوئی اور خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اس مصیبت کے وقت ان کی نصرت فرمائی۔ لیکن اگر وہ خدا تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر نہ کریں گے تو خدا تعالیٰ ان کی کچھ پروا نہ کرے گا۔ وہ اپنا کام کرکے رہے گا مگر ان پر افسوس ہوگا۔
مَیں بڑے زور سے اور پورے یقین اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ دوسرے مذاہب کو مٹا دے اور اسلام کو غلبہ اور قوت دے۔ اب کوئی ہاتھ اور طاقت نہیں جو خدا تعالیٰ کے اس ارادہ کا مقابلہ کرے۔ وہ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ (البروج: 17) ہے ۔ مسلمانو! یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تمہیں یہ خبر (دے) دی ہے اور مَیں نے اپنا پیغام پہنچا دیا ہے۔ اب اس کو سننا نہ سننا تمہارے اختیار میں ہے۔ یہ سچی بات ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اور مَیں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو موعود آنے والا تھا وہ مَیں ہی ہوں اور یہ بھی پکّی بات ہے کہ اسلام کی زندگی عیسیٰ کے مرنے میں ہے۔‘‘
(لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد20 صفحہ290)

مزید پڑھیں

ہم عیدکیسے منائیں؟

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” آج عید کا دن ہے اور رمضان شریف کا مہینہ گزر گیاہے ۔ یہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ایام تھے جبکہ اس نے اس ماہ مبارک میں قرآن شریف کا نزول فرمایا اور عامہ.اہل.اسلام کے لئے اس ماہ میں ہدایت مقدر فرمائی۔ راتوں کو اُٹھنا اور قرآن شریف کی تلاوت اور کثرت سے خیرات وصدق اس مہینہ کی برکات میں سے ہے۔ آج کے دن ہر ایک کو لازم ہے کہ سارے کنبہ کی طرف سے محتاج لوگوں کی خبر گیری کرے۔ دوبُک گیہوں کے یا چار جَوکے ہر ایک نفس کی طرف سے صدقہ نماز سے پیشتر ضرور ادا کیا جاوے اور جن کو خدا نے موقع دیا ہے وہ زیادہ دیویں۔“
(خطبات نور صفحہ 179)

مزید پڑھیں

ہم یوم مصلح موعودکیوں مناتے ہیں؟ (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’یہ ایک عظیم پیشگوئی ہےجو کسی شخص کی ذات سے وابستہ نہیں ہے بلکہ یہ پیشگوئی اسلام کی نشأۃ ثانیہ سے تعلق رکھتی ہے اور اس پیشگوئی کی اصل تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 18؍فروری 2011ء)

مزید پڑھیں

ایمان اور اُس کی حفاظت ؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
’’اصل بات یہ ہے کہ بعض اوقات حب دنیا کا غلبہ بھی سلب ایمان کا باعث ہوجایا کرتا ہے لہٰذا دنیوی امور میں بہت انہماک اوردنیوی امور کو اتنی اہمیت دے دینا کہ گویا دین ایمان اورآخرت کی پروا ہی نہ رہے یہ بھی خطرناک زہریلا مرض ہے۔یہ تووہ زمانہ ہے جس کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے جاؤ،درختوں کے تنوں سے لگ جاؤ اور جس طرح سے بن پڑے زمانہ کے فتن سے اپنے ایمان کو سلامت رکھنے کی کوشش کرو۔‘‘
(ملفوظات جلد 5صفحہ 526،ایڈیشن1988ء)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر10)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”دُعا کی مثال ایک چشمۂ شیریں کی طرح ہے جس پر مومن بیٹھا ہوا ہے۔ وہ جب چاہے اس چشمہ سے اپنے آپ کو سیراب کرسکتا ہے۔ جس طرح ایک مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح مومن کا پانی دُعا ہے کہ جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔ اس دعا کا ٹھیک محل نماز ہے جس میں وہ راحت اور سرور مومن کو ملتا ہے کہ جس کے مقابل ایک عیاش کا کامل درجہ کا سرور جو اُسے کسی بدمعاشی میں میسّر آسکتا ہے ، ہیچ ہے ۔ بڑی بات جو دعا میں حاصل ہوتی ہے وہ قرب الٰہی ہے۔ دُعا کے ذریعہ ہی انسان خداتعالیٰ کے نزدیک ہوجاتا اور اُسے اپنی طرف کھینچتا ہے ۔ جب مومن کی دُعا میں پورا اخلاص اور انقطاع پیدا ہوجاتا ہے ۔تو خداتعالیٰ کو بھی اس پر رحم آجاتا ہے اور خداتعالیٰ اس کا متولِّی ہوجاتا ہے ۔ اگر انسان اپنی زندگی پر غور کرے تو الٰہی تولّی کے بغیر انسانی زندگی قطعًا تلخ ہوجاتی ہے۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 59)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر9)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مَیں پھر کہتا ہوں کہ مسلمان اور خصوصاً ہماری جماعت کو ہرگز ہرگز دعا کی بے قدری نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ یہ دعا تو ہے جس پر مسلمانوں کو ناز کرنا چاہیے اور دوسرے مذاہب کے آگے تودعا کے لئے گندے پتھر پڑے ہوئے ہیں اور وہ توجہ نہیں کر سکتے ۔ مَیں نے ابھی بیان کیا ہے کہ ایک عیسائی جو خونِ مسیح پر ایمان لا کر سارے گناہوں کو معاف شدہ سمجھتا ہے ۔ اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ دعا کرتا رہے اور ایک ہندو جو یقین کرتا ہے کہ توبہ قبول ہی نہیں ہوتی اور تناسخ کے چکّر سے رہائی ہی نہیں ہے وہ کیوں دعا کے واسطے ٹکڑیں مارتا رہے گا وہ تو یقیناً سمجھتا ہے کہ کُتّے، بلّے، بندر ، سؤر بننے سے چارہ ہی نہیں ہے ۔ اس لئے یاد رکھو کہ یہ اسلام کا فخر ہے اور ناز ہے کہ اس میں دعا کی تعلیم ہے اس میں کبھی سُستی نہ کرو اور نہ اس سے تھکو۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 267-268 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر8)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مَیں پھر جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ تم لوگ ان کی مخالفتوں سے غرض نہ رکھو۔ تقویٰ طہارت میں ترقی کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہوگا اور ان لوگوں سے وہ خود سمجھ لیوے گا وہ فرماتا ہے۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّالَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ (النحل: 129) اور خوب یاد رکھو کہ اگر تقویٰ اختیار نہ کرو گے اور اس نیکی سے جسے خدا چاہتا ہے کثیر حصّہ نہ لو گے تو اللہ تعالیٰ سب سے اوّل تم ہی کو ہلاک کرے گا کیونکہ تم نے ایک سچائی کو مانا ہے اور پھر عملی طور سے اس کے منکر ہوتے ہو۔ اس بات پر ہرگز بھروسہ نہ کرو اور مغرور مت ہو کہ بیعت کر لی ہے۔ جب تک پوری تقویٰ اختیار نہ کرو گے۔ ہرگز نہ بچو گے ۔ خداتعالیٰ کا کسی سے رشتہ نہیں نہ اس کو کسی کی رعایت منظور ہے ۔ جو ہمارے مخالف ہیں وہ بھی اسی کی پیدائش ہیں اور تم بھی اسی کی مخلوق ہو۔ صرف اعتقادی بات ہرگز کام نہ آوے گی جب تک تمہارا قول اور فعل ایک نہ ہو۔“
(ملفوظات جلد 7صفحہ 144-145 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”یاد رکھو کہ سارے فضل ایمان کے ساتھ ہیں ۔ایمان کو مضبوط کرو۔ قطع حقوق، معصیت ہے اور انسان کی زندگی ہمیشہ کے لیے نہیں ہے ۔ایسا پرہیز اور بُعد جو ظاہر ہوا ہے وہ عقل اور انصاف کی رُو سے صحیح نہیں ہے۔ ایسے امور سے اپنے آپ کو بچاؤ جو تجربہ میں مضرّ ثابت ہوئے ہیں۔
یہ جماعت جس کو خدا تعالیٰ نمونہ بنانا چاہتا ہے اگر اس کا بھی یہی حال ہوا کہ ان میں اخوّت اور ہمدردی نہ ہو تو بڑی خرابی ہوگی ۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 353)

مزید پڑھیں