حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد4 ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اب دوسری سیروں کو چھوڑ کر روحانی سیروں کی طرف متوجہ ہو جاویں۔ یہ آپ کی سعادت کی علامت ہے کہ اتنی دور سے اس جلسہ کے واسطے آئے اور یہاں ٹھہر گئے اور اس قدر مقابلہ نفس کا کیا ۔ ہر ایک کو یہ طاقت نہیں ہوتی کہ جذب نفس کے ساتھ کُشتی کریں ۔آپ نے جن کو وہاں جا کر دیکھنا تھا اُن کی صورتیں انسانوں کی ہی ہوں گی مگر دل کا کیا پتہ کہ وہ بھی انسانوں کے ہوں گے یا نہیں۔ لوگ باوجود اس کے کہ ابتلاؤں میں مبتلا ہیں مگر تکبّر ان کے دماغ سے نہیں گیا ۔ ہم سے تمسخر وغیرہ اسی طرح ہے اور دلی والے پنجابیوں کو تو بَیل کہتے ہیں جس کے معنی پنجابی میں ڈھگا ہے۔ ان کے خیالوں میں صرف دنیا کی زندگی ہے مگر جو لوگ بہروپیوں کے رنگ میں بولتے ہیں ان کو پاک عقل نہیں ملتی ۔‘‘
(ملفوظات جلد4 صفحہ 325-324)
