حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد4  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اب دوسری سیروں کو چھوڑ کر روحانی سیروں کی طرف متوجہ ہو جاویں۔ یہ آپ کی سعادت کی علامت ہے کہ اتنی دور سے اس جلسہ کے واسطے آئے اور یہاں ٹھہر گئے اور اس قدر مقابلہ نفس کا کیا ۔ ہر ایک کو یہ طاقت نہیں ہوتی کہ جذب نفس کے ساتھ کُشتی کریں ۔آپ نے جن کو وہاں جا کر دیکھنا تھا اُن کی صورتیں انسانوں کی ہی ہوں گی مگر دل کا کیا پتہ کہ وہ بھی انسانوں کے ہوں گے یا نہیں۔ لوگ باوجود اس کے کہ ابتلاؤں میں مبتلا ہیں مگر تکبّر ان کے دماغ سے نہیں گیا ۔ ہم سے تمسخر وغیرہ اسی طرح ہے اور دلی والے پنجابیوں کو تو بَیل کہتے ہیں جس کے معنی پنجابی میں ڈھگا ہے۔ ان کے خیالوں میں صرف دنیا کی زندگی ہے مگر جو لوگ بہروپیوں کے رنگ میں بولتے ہیں ان کو پاک عقل نہیں ملتی ۔‘‘
(ملفوظات جلد4 صفحہ 325-324)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد4  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اطاعت کوئی چھوٹی سی بات نہيں اور سہل امر نہیں۔ يہ بھی ايک موت ہوتی ہے۔ جيسے ايک زندہ آدمی کی کھال اُتاری جائے ويسی ہی اطاعت ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد 4 صفحہ 74 حاشيہ)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’یہ مجھے گالیاں دیتے ہیں لیکن مَیں ان کی گالیوں کی پرواہ نہیں کرتا اور نہ ان پر افسوس کرتا ہوں کیونکہ وہ اس مقابلہ سے عاجز آگئے ہیں اور اپنی عاجزی اور فرو مائیگی کو بجز اس کے نہیں چھپا سکتے کہ گالیاں دیں ،کفر کے فتوے لگائیں، جھوٹے مقدمات بنائیں اور قسم قسم کے افترا اور بہتان لگائیں۔ وہ اپنی ساری قوتوں کو کام میں لا کر میرا مقابلہ کر لیں اور دیکھ لیں کہ آخری فیصلہ کس کے حق میں ہوتا ہے ۔ مَیں اُن کی گالیوں کی اگر پرواہ کروں تو وہ اصل کام جو خدا تعالیٰ نے مجھے سپرد کیا ہے رہ جاتا ہے۔ اس لیے جہاں مَیں اُن کی گالیوں کی پرواہ نہیں کرتا مَیں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اُن کو مناسب ہے کہ اُن کی گالیاں سن کر برداشت کریں اور ہرگز ہرگز گالی کا جواب گالی سے نہ دیں کیونکہ اس طرح پر برکت جاتی رہتی ہے ۔ وہ صبر اور برداشت کا نمونہ ظاہر کریں اور اپنے اخلاق دکھائیں ۔ یقیناً یاد رکھو کہ عقل اور جوش میں خطرناک دشمنی ہے۔ جب جوش اور غصہ آتا ہے تو عقل قائم نہیں رہ سکتی۔ لیکن جو صبر کرتا ہے اور بردبادی کا نمونہ دکھاتا ہے اس کو ایک نور دیا جاتا ہے جس سے اس کی عقل و فکر کی قوتوں میں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے ۔ غصّہ اور جوش کی حالت میں چونکہ دل و دماغ تاریک ہوتے ہیں اس لیے پھر تاریکی سے تاریکی پیدا ہوتی ہے۔ ‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 180)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”انسان کوسچائی تک پہنچنے کے واسطے دو باتوں کی ضرورت ہے۔ اوّل خداداد عقل اور فہم ہو۔ دوم خداداد سمجھ اور سعادت ہو۔ جن لوگوں کو مناسبت نہیں ہوتی ۔ ان کے دلوں میں کراہت اور اعتراض ہی پیدا ہوتے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ لوگوں میں سے اکثرلوگوں نے راستبازوں کا انکارکیا۔
آپ دُور دراز سے آئے ہیں اورآپ کو آتے ہی ایک روک بھی پیدا ہوگی اور ہم نے تو ایک ہی روک کا ذکر سُنا ہے۔ مخالفانہ گفتگو کے بُجز احقاق حق نہیں ہوتا۔ بہت لوگ منافقانہ طور پر ہاں میں ہاں ملاتے ہیں ۔ پس ایسے لوگ کچھ فائدہ نہیں اُٹھاتے ۔ تم خوب جی کھول کر اعتراض کرو۔ ہم پورے طور پر جواب دینے کو تیار ہیں۔“
(ملفوظات جلد 3صفحہ 425)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہماری جماعت کو یہ نصیحت ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ وہ اس امر کو مد نظر رکھیں جو مَیں بیان کرتا ہوں۔ مجھے ہمیشہ اگر کوئی خیال آتا ہے تو یہی آتا ہے کہ دنیا میں تو رشتےناطے ہوتے ہیں ۔ بعض ان میں سے خوبصورتی کے لحاظ سے ہوتے ہیں بعض خاندان یا دولت کے لحاظ سے اور بعض طاقت کے لحاظ سے لیکن جنابِ الٰہی کو اِن امور کی پرواہ نہیں۔ اُس نے تو صاف طور پر فرما دیا کہ اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی معزّز و مکرّم ہے جو متقی ہے ۔اب جو جماعت اتقیاء ہے خدا اس کو ہی رکھے گا اور دوسری کو ہلاک کرے گا یہ نازک مقام ہے اور اس جگہ پر دو کھڑے نہیں ہوسکتے کہ متقی بھی وہیں رہے اور شریر اور ناپاک بھی وہیں ۔ ضرور ہے کہ متقی کھڑا ہواور خبیث ہلاک کیاجاوے اور چونکہ اس کا عِلم خدا کو ہے کہ کون اُس کے نزدیک متقی ہے ۔ پس یہ بڑے خوف کا مقام ہے ۔ خوش قسمت ہے وہ انسان جو متقی ہے اور بدبخت ہے جو لعنت کے نیچے آیا ہے۔“
(ملفوظات جلد 3 صفحہ 238)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’استغفار کرتے رہو اور موت کو یاد رکھو۔ موت سے بڑھ کر اور کوئی بیدار کرنے والی چیز نہیں ہے جب انسان سچے دل سے خدا کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ247)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مذہب ایک ایسی چیز ہے کہ مختلف مذہب کے لوگ یک جا جمع نہیں ہو سکتے ۔ سُنّۃُ اللّٰہ کا نہ سمجھنا بھی ایک زہر ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ بعض وقت بَلا کو ہم ٹلا دیتے ہیں۔ تو انسان بے باک ہو کر کہتا ہے کہ بَلا ٹل گئی اور پھر شوخیاں کرنے لگتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ پکڑتا ہے اور ہلاک کر دیتا ہے۔ پس اگر طاعون کم ہو جاوے تو اس سے دلیر نہیں ہونا چاہیے۔ خدا تعالیٰ کی مہلت سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔“
(ملفوظات جلد 3 صفحہ 384-385)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد2  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”بَیعت کے معنے ہیں اپنے تئیں بیچ دینا اور یہ ایک کیفیت ہے جس کو قلب محسوس کرتا ہے جبکہ انسان اپنے صِدق اوراخلاص میں ترقی کرتا کرتا اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ اس میں یہ کیفیت پیدا ہوجائے تو وہ بَیعت کے لئے خود بخود مجبور ہوجاتا ہے اورجب تک یہ کیفیت پیدا نہ ہو جائے تو انسان سمجھ لے کہ ابھی اس کے صِدق اور اخلاص میں کمی ہے۔“
(ملفوظات جلد 2۔صفحہ 294)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد2  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”دُعا کے لئے رِقّت والے الفاظ تلاش کرنے چاہئیں۔ یہ مُناسب نہیں کہ انسان مسنُون دعاؤں کے ایسا پیچھے پڑے کہ اُن کو جنترمنتر کی طرح پڑھتا رہے اورحقیقت کو نہ پہچانے۔ اتّباع سنّت ضروری ہے۔ مگر تلاشِ رقّت بھی اتباع سنّت ہے۔ اپنی زبان میں جس کو تم خوب سمجھتے ہو۔ دُعا کرو۔ تاکہ دُعا میں جوش پیدا ہو۔ الفاظ پرست مخذُول.ہوتا ہے۔ حقیقت پرست بننا چاہئے ۔ مسنُون دعاؤں کو بھی برکت کے لئے پڑھنا چاہئے۔ مگر حقیقت کو پاؤ ۔ہاں جس کو عربی زبان سے موافقت اور فہم ہو وہ عربی میں پڑھے۔“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 338 )

مزید پڑھیں