’’ میرے نور الدین کو ‘‘

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”مَیں نے کسی روایت کے ذریعہ سنا تھا کہ جب بیت اللہ نظرآئے تواس وقت کوئی ایک دعامانگ لو وہ ضرورہی قبول ہوجاتی ہے۔ مَیں علوم کا اس وقت ماہرتوتھاہی نہیں جوضعیف و قوی روایتوں میں امتیاز کرتا ۔ مَیں نے یہ دعامانگی۔”الٰہی! مَیں تو ہر وقت محتاج ہوں اب مَیں کون سی دعامانگوں ۔ پس مَیں یہی دعامانگتاہوں کہ مَیں جب ضرورت کے وقت تجھ سے دعامانگوں تواس کو قبول کرلیاکر“۔ روایت کا حال تومحدثین نے کچھ ایسا ویسا ہی لکھاہے مگر میراتجربہ ہے کہ میری تویہ دعاقبول ہی ہوگئی۔ بڑے بڑے نیچریوں ، فلاسفروں ، دہریوں سے مباحثہ کا اتفاق ہوا اور ہمیشہ دعاکے ذریعہ مجھ کو کامیابی حاصل ہوئی اور ایمان میں بڑی ترقی ہوتی گئی۔‘‘
(مرقاۃ الیقین )

مزید پڑھیں

نُورِالٰہی، نُورِمصطفویؐ اور نُورِقرآن احمدی مسمانوں کا ورثہ ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”خدا ہی ہے جو ہر دم آسمان کا نور اور زمین کا نور ہے۔ اس سے ہر ایک جگہ روشنی پڑتی ہے۔ آفتاب کا وہی آفتاب ہے۔ زمین کے تمام جانداروں کی وہی جان ہے۔“
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد10 صفحہ444)

مزید پڑھیں

جماعت احمدیہ کی صحافت اور روایتی صحافت میں فرق

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” اِس زمانہ میں خداتعالیٰ نے چاہا کہ سیف یعنی تلوار کا کام قلم سے لیا جائے اور تحریر سے مقابلہ کر کے مخالفوں کو پست کیاجائے۔ اس وقت جو ضرورت ہے و ہ یقیناً سمجھ لو سیف کی نہیں قلم کی ہے۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ59)

مزید پڑھیں

جماعت احمدیہ اور خدمتِ انسانیت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” ہمارا یہ اصول ہے کہ کل بنی نوع کی ہمدردی کرو ۔ اگر ایک شخص ایک ہمسایہ ہندو کو دیکھتا ہے کہ اس کے گھر میں آگ لگ گئی اور یہ نہیں اٹھتا کہ تا آگ بھجانے میں مدد دے تو مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ مجھ سے نہیں ہے۔ اگر ایک شخص ہمارے مریدوں میں سے دیکھتا ہے کہ ایک عیسائی کو کوئی قتل کرتا ہے اور وہ اس کے چھڑانے کے لئے مدد نہیں کرتا تو مَیں تمہیں بالکل درست کہتا ہوں کہ وہ ہم میں سے نہیں۔“
( سراج منیر ،روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 28)

مزید پڑھیں

جماعتِ احمدیہ کے اصحابِ صُفّہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا جس میں اصحابِ صُفَّہ کا ذکر ہے کہ
’’اَصْحَابُ الصُّفَّۃِ وَمَا اَدْرَاکَ مَا اَصْحَابُ الصُّفَّۃِ تَرٰی اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ۔ یُصَلُّوْنَ عَلَیْکَ۔ رَبَّنَا اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ وَ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ وَسِرَاجًا مُنِیْرًا۔ صُفَّہ کے رہنے والے اور تُو کیا جانتا ہے کہ کیا ہیں صُفَّہ کے رہنے والے؟ ۔ تُو دیکھے گا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے۔ وہ تیرے پر درود بھیجیں گے اور کہیں گے کہ اے ہمارے خدا ! ہم نے ایک منادی کرنے والے کی آواز سنی ہے جو ایمان کی طرف بلاتا ہے۔‘‘
(حقیقۃالوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 78)

مزید پڑھیں

جماعت احمدیہ کا تعارف

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں :
”مجھے اللہ جلشانہ کی قسم ہے کہ مَیں کافر نہیں لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مَحَمَّدُ رَّسُوۡلُ اللّٰہ میرا عقیدہ ہے اور لٰکِنِ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّنَ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت میرا ایمان ہے۔ مَیں اپنے اس بیان کی صحت پر اس قدر قسمیں کھاتا ہوں جس قدر خداتعالیٰ کے پاک نام ہیں اور جس قدر قرآن کریم کے حرف ہیں اور جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خداتعالیٰ کے نزدیک کمالات ہیں۔ کوئی عقیدہ میرا اللہ اور رسول کے فرمودہ کے برخلاف نہیں … مَیں اللہ جلشانہ کی قسم کھا کرکہتاہوں کہ میرا خدا اور رسول پر وُہ یقین ہے کہ اگر اس زمانہ کے تمام ایمانوں کو ترازو کے ایک پلّہ میں رکھا جائے اور میرا ایمان دوسرے پلّہ میں تو بفضلہٖ تعالیٰ یہی پلّہ بھاری ہوگا۔ “
( کرامات الصادقین ، روحانی خزائن جلد 7صفحہ 67 )

مزید پڑھیں

مالی قر بانی۔ جماعت احمدیہ کا طُرّہ امتیاز ہے

حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
” اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت پر اور اس پیاری جماعت پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس میں شامل ہونے کے بعد احباب جماعت اپنے عہد کے مطابق مالی قربانیوں میں پیش پیش رہتے ہیں ۔ “
(خطبات مسرور جلد 4صفحہ167)

مزید پڑھیں

خلافت کی ضرورت و اہمیت(اغیار کی نظر میں)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’سارا عالم اسلام مل کر زور لگالے اور خلیفہ بناکر دکھادے وہ نہیں بنا سکتا کیونکہ خلافت کا تعلق خدا کی پسند سے ہے اورخدا کی پسند اس شخص پر خود انگلی رکھتی ہے جسے وہ صاحب تقویٰ سمجھتا ہے اس کے بعد پھر وہ متقیوں کا ایک گروہ اپنے گرد پیدا کردیتا ہے۔ ‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 2؍اپریل 1993ء)

مزید پڑھیں

جماعتی پروگرامز،میٹنگز اور اجلاسات میں شمولیت کی اہمیت و برکات

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’جو حالت میری توجہ کوجذب کرتی ہے۔اورجسے دیکھ کرمیں دعاکےلئے اپنے اندر تحریک پاتاہوں وہ ایک ہی بات ہے کہ میں کسی شخص کومعلوم کرلوں کہ یہ خدمت دین کے سزاوار ہے ۔اور اس کاوجود خداکے لئے،خدا کے رسول ؐکے لئے ،خداکی کتاب کے لئے اورخداکے بندوں کے لئے نافع ہے۔ایسے شخص کوجودردوالم پہنچے وہ درحقیقت مجھے پہنچتاہے۔‘‘

مزید پڑھیں

احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ تا مَیں اس بات کا ثبوت دوں کہ زندہ کتاب قرآن ہے اور زندہ دین اسلام ہے اور زندہ رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 267، ایڈیشن1984ء)

مزید پڑھیں