حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ں
” یہ خوب یا د رکھو کہ ساری خرابیاں اورں بُرائیاں بدظنّی سے پیدا ہوتی ہی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس سے بہت منع کیا ہے اور فرمایاں مٌ
ْ
إِث
ن
الظ
َّ
بَّعْض
اِن )الحجرات : 13 ں ( ا ں گر
مولوی ہم سے بدظنّی نہ کرتے اور صدق اور استقلال کے ساتھ آکر ہماری باتیں ںسنتے، ںہماری کتابیں پڑھتے اور ہمارے پاس رہ کر ہمارے حالات کا مشاہدہ کرتے تو وہ الزا ں م
جو ہم پر لگاتے ہی نہ لگاتے۔ لیکن جب انہوں نے خدا تعالیٰ کے اس ارشاد کی عظمت نہ کی اور اس پر کاربند نہ ہوئے تو اس کا نتیجہ یہ ںہوا کہ مجھ پر بدظنّی ںکی اور میری
جماعت پر بھی بدظنّی ںکی اور جھوٹے الزام اور ں ہّ ا
ات یہاں تک کہ بعض نے بڑی بے باکی سے لکھ دیا کہ یہ تو دہریوں کا گروہ ہے۔ نمازیں نہیں پڑھتے
ے
م لگانے شروع کر د ئ ی
۔ روزے نہیں رکھتے ۔ وغیرہ وغیرہ۔ اب اگر وہ اس بدظنّی ںسے بچتے تو ان کو جھوٹ کی لعنت کے نیچے نہ آنا پڑتا وہ اس سے بچ جاتے۔ ں ں
ئَ
م سچ کہتا ہوں کہ یہ بدظنّی ںبہت ں ہی
بُری بلا ہے انسان کے ایمان کو تباہ کر دیتی ہے اور صدق اور راستی سے دور پھینک دیتی ہے۔ دوستوں کو دشمن بنا دیتی ہے۔ صدیقوں کے کمال کو حاصل کرنے کے ں لئے
ضروری ہے کہ انسان بدظنّی سے بہت ہی بچے اورں اگر کسی کی نسبت کوئی سوں ءظنّ پیدا ہو تو کثرت کے ساتھ استغفار کرے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرے تا کہ اس ں معصیت
اور اس کے بُرے نتیجے سے بچ جاوے جو اس بدظنّی ںکے پیچھے آنے والا ہے ۔ اس کو کبھی معمولی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ بہت ہی خطرناک بیماری ہے جس سے انسان بہت
جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔ “
(ملفوظات جلد اول، صفحہں 335 ں ۔ 336 ، ایڈیشن 2022 ء)
مزید پڑھیں