اتقوا فراسۃ المومن، فانہ ينظر بنور اللہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ں
’’ ایمان یہی ہے کہ خدائی نصرتوں کو انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ جب وہ خداتعالیٰ کی نصرتوں کو دیکھتا ہے تب اُس کا ایمان بڑھتا ہے ںاَور معرفت اور بصیرت کی آ ں نکھ
کھلنے لگتی ہے۔ جب تک خداتعالیٰ کی نصرتوں کی چمک نظر نہیں آتی۔ اُس وقت تک یہ حالت تذبذب میں رہتا ہے لیکن جب اُن کی چمکار نظر آ جاتی ہے اُس وقت سینہ ں کی
ور نظر آتا ہے۔ وہ حالت ہوتی ہے جب اُس کے لئے کہا جاتا ہے۔
ُ
ور ہو جاتی ہی اور اندر ایک صفائی اور ن
ُ
غلاظتیں د
ورِ الل
ُ
رُ بِن
ُ
ظ
ْ
ہُ يَّن
إِن
َّ
مُؤْمِنِ ف
ْ
ال
َّ
وا فِرَّاسَّۃ
ُ
ق
اِت هِ ۔ ‘‘
)ملفوظات جلد 5 صفحہ 373 ں ( ں

مزید پڑھیں

بدگمانی، آکاس بیل کی طرح تمام نیکیوں کو بھسم کر دیتی ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ں
’’ اکثر لوگوں میں بدظنّی ںکا مرض بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ وہ اپنے بھائی سے نیک ں ظنّینہیں رکھتے اور ادنیٰ ادنیٰ سی بات پر اپنے دوسرے بھائی کی نسبت بُرے بُرے خیالات کر ں نے
لگتے ہی اور ایسے عیوب اس کی طرف منسوب کرنے لگتے ہی کہ اگر وہی عیب اس کی طرف منسوب ہوں تو اس کو سخت ناگوار معلوم ہو۔ اس لئے ں ل ضروری ہے ں کہ
ّ
او
ں
ّ
حت
ی ںالوسع ںاپنے بھائیوں پر بدظنّی ںنہ کی جاوے اور ہمیشہ نیک ظنّ ںرکھا جاوے کیونکہ اس سے محبت بڑھتی ہے۔ اور اُنس پیدا ہوتا ہے اور آپس میں قوّت ںپیدا ہوتی ہے او ں ر
اس کے باعث انسان بعض دوسرے عیوب مثلاً کینہ، بغض حسد وغیرہ سے بچا رہتا ہے‘ں‘ ں
)ملفوظات جلد 4 صفحہ 214 ۔ 215 ا ں یڈیشن 1988 ء( ں

مزید پڑھیں

بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ں
” یہ خوب یا د رکھو کہ ساری خرابیاں اورں بُرائیاں بدظنّی سے پیدا ہوتی ہی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس سے بہت منع کیا ہے اور فرمایاں مٌ
ْ
إِث
ن
الظ
َّ
بَّعْض
اِن )الحجرات : 13 ں ( ا ں گر
مولوی ہم سے بدظنّی نہ کرتے اور صدق اور استقلال کے ساتھ آکر ہماری باتیں ںسنتے، ںہماری کتابیں پڑھتے اور ہمارے پاس رہ کر ہمارے حالات کا مشاہدہ کرتے تو وہ الزا ں م
جو ہم پر لگاتے ہی نہ لگاتے۔ لیکن جب انہوں نے خدا تعالیٰ کے اس ارشاد کی عظمت نہ کی اور اس پر کاربند نہ ہوئے تو اس کا نتیجہ یہ ںہوا کہ مجھ پر بدظنّی ںکی اور میری
جماعت پر بھی بدظنّی ںکی اور جھوٹے الزام اور ں ہّ ا
ات یہاں تک کہ بعض نے بڑی بے باکی سے لکھ دیا کہ یہ تو دہریوں کا گروہ ہے۔ نمازیں نہیں پڑھتے
ے
م لگانے شروع کر د ئ ی
۔ روزے نہیں رکھتے ۔ وغیرہ وغیرہ۔ اب اگر وہ اس بدظنّی ںسے بچتے تو ان کو جھوٹ کی لعنت کے نیچے نہ آنا پڑتا وہ اس سے بچ جاتے۔ ں ں
ئَ
م سچ کہتا ہوں کہ یہ بدظنّی ںبہت ں ہی
بُری بلا ہے انسان کے ایمان کو تباہ کر دیتی ہے اور صدق اور راستی سے دور پھینک دیتی ہے۔ دوستوں کو دشمن بنا دیتی ہے۔ صدیقوں کے کمال کو حاصل کرنے کے ں لئے
ضروری ہے کہ انسان بدظنّی سے بہت ہی بچے اورں اگر کسی کی نسبت کوئی سوں ءظنّ پیدا ہو تو کثرت کے ساتھ استغفار کرے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرے تا کہ اس ں معصیت
اور اس کے بُرے نتیجے سے بچ جاوے جو اس بدظنّی ںکے پیچھے آنے والا ہے ۔ اس کو کبھی معمولی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ بہت ہی خطرناک بیماری ہے جس سے انسان بہت
جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔ “
(ملفوظات جلد اول، صفحہں 335 ں ۔ 336 ، ایڈیشن 2022 ء)

مزید پڑھیں

”متاعِ آسمانی“ (آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا تھا۔ یعنی انسان کامل کو ۔ وہ ملائک میں نہیں تھا ۔ نجوم میں نہیں تھا ۔ قمر میں نہیں تھا ۔ آفتاب میں بھی نہیں تھا ۔ وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا ۔ وہ لعل اور یاقوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا ۔ غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا ۔ صرف انسان میں تھا ۔ یعنی انسان کامل میں ۔ جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سیّد ومولیٰ سید الانبیاء سیّد الاحیاء محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 160)

مزید پڑھیں

دائیں ہاتھ سے کھانا کھانے اور انگلیاں چاٹنے میں حکمت اور فوائد

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بھی تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے اپنے دائیں ہاتھ سے کھانا چاہیے اور جب کوئی مشروب نوش کرے تو اسے دائیں ہاتھ سے نوش کرنا چاہیے۔ اس لئے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہی سے پیتا ہے۔
(مسلم بلوغ المرام حدیث: 1250)

مزید پڑھیں

فتنوں سے خلاصی کی صورت کتابُ اللہ ہے  (حدیث نبویؐ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ قرآن شریف پر تدبُّر کرو اس میں سب کچھ ہے۔ نیکیوں اور بدیوں کی تفصیل ہے اور آئندہ زمانے کی خبریں ہیں وغیرہ۔ بخوبی سمجھ لو کہ یہ وہ مذہب پیش کرتا ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے برکات اور ثمرات تازہ بتازہ ملتے ہیں۔ انجیل میں مذہب کو کامل طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ اس کی تعلیم اس زمانے کے حسب حال ہو تو ہو، لیکن وہ ہمیشہ اور ہر حالت کے موافق ہرگز نہیں۔ یہ فخر قرآن مجید ہی کو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ہر مرض کا علاج بتایا ہے اور تمام قویٰ کی تربیت فرمائی ہے اور جو بدی ظاہر کی ہے اس کے دور کرنے کا طریق بھی بتایا ہے۔ اس لئے قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہو اور دعا کرتے رہو اور اپنے چال چلن کو اس کی تعلیم کے ماتحت رکھنے کی کوشش کرو۔ ‘‘
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 102)

مزید پڑھیں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اَور تقویٰ کا اعلیٰ مقام

عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک دفعہ سورج گرہن ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کسوف پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ بڑے لمبے رکوع اور سجدے کئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر روتے جاتے تھے کہ ہچکی بندھ گئی اس حال میں رو رو کر یہ دعا کر رہے تھے:
"میرے رب! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا کہ جب تک مَیں ان لوگوں میں ہوں تو انہیں عذاب نہ دے گا۔ کیا تو نے وعدہ نہیں فرمایا کہ جب تک یہ استغفار کرتے رہیں گے تو ان پر عذاب نازل نہ کرے گا ۔ پس ہم استغفار کرتے ہیں۔ (تو ہمیں معاف فرما)۔
(الدر المنثور للسیوطي جز 9 صفحہ 59دار الفکر بیروت)

مزید پڑھیں

اِرْکَبْ مَعَنَا (القرآن)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلی درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں ۔ یعنی وہی نبیوں کا سردار ۔ رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفےٰ واحمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزاروں برس تک نہیں مل سکتی تھی ۔‘‘
( سراج منیر، روحانی خزائن جلد 12صفحہ 82)

مزید پڑھیں

اَنْتَ اَقْوٰی اَمِ اللّٰہ ؟

حضرت مسیح موعود موعود علیہ لسلام ا فرماتے ہیں :
’’دیکھو! ہم بھی رخصتوں پر عمل کرتے ہیں۔ نمازوں کو جمع کرتے ہوئے کوئی دو ماہ سے زیادہ ہوگئے ہیں بسبب بیماری کے اور تفسیر سورۃ فاتحہ کے لکھنے میں بہت مصروفیت کے سبب ایسا ہو رہا ہے اور اِن نمازوں کے جمع کرنے میں تُجْمَعُ لَہُ الصَّلٰوۃُ کی حدیث بھی پوری ہو رہی ہے کہ مسیح موعودؑ کی خاطر نمازیں جمع کی جائیں گی۔ اِس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود نماز کے وقت پیش امام نہ ہو گا بلکہ کوئی اور ہوگا اور وہ پیش امام مسیح کی خاطر نمازیں جمع کرائے گا۔ سو اب ایسا ہی ہوتا ہے۔ جس دن ہم بیماری کی وجہ سے بالکل نہیں آ سکتے اُس دن نمازیں جمع نہیں ہوتیں اور اس حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیار کے طریق سے یہ فرمایا ہے کہ اُس کی خاطر ایسا ہوگا… خداتعالیٰ نے ایسے ہی اسباب پیدا کر دیئے کہ اتنے عرصہ سے نمازیں جمع ہو رہی ہیں، ورنہ ایک دو دن کے لیے یہ بات ہوتی تو کوئی نشان نہ ہوتا۔ ہم حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لفظ لفظ اور حرف حرف کی تعظیم کرتے ہیں ‘‘۔
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 446 ایڈیشن 1988ء)

مزید پڑھیں