”فِیۡہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ“ (تقریر نمبر1)

شہد کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’دوسری تمام شرینیوں کو تو اطباء نے عفونت پیدا کرنے والی لکھا ہے مگر یہ ان میں سے نہیں ہے۔ آم وغیرہ اور دیگر پھل اس میں رکھ کر تجربے کئے گئے ہیں کہ وہ بالکل خراب نہیں ہوتے سالہا سال ویسے ہی پڑے رہتے ہیں۔‘‘
(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد5 صفحہ66(

مزید پڑھیں

ایمان کے دو حصّے، ایک صبر اور دوسرا شکر ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر 22)

حضرت اسامہ بن زیدؓ نے بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس سے کوئی نیکی کی گئی اور اس نے اس کے کرنے والے سے کہا جَزَاکَ اللّٰہُ۔ جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں بہترین جزا دے تو اس نے تعریف کا حق ادا کر دیا۔
(جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ باب ماجاءفی الثناء بالمعروف حدیث2035)

مزید پڑھیں

ایمان، احادیث کی روشنی میں

حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان دل کی معرفت اور زبان کے اقرار اور اسلام کے ارکان پر عمل کا نام.ہے۔
(حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر 167)

مزید پڑھیں

مؤمِن کا دل

سورۃ البقرۃ آیت 267 کی تفسیر میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
” اس آیت میں تمام درختوں میں سے نخیل واعناب کا ذکر بالخصوص اس لیے کیا ہے کہ یہ بہت اعلیٰ قسم کے درخت ہیں۔ رسول کریمؐ نے مؤمن کو کھجور کے درخت سے تشبیہ دی ہے اِس لئے کہ اِس میں چند خاصیّتیں ہیں۔ اوّل تو یہ کہ اِس کے پتّے ہوا سے نہیں جھڑتے۔ مؤمن کو بھی ایسا ہی ہونا چاہئے کہ وہ قِسم قِسم کی مصیبتوں میں گھبرا نہ اُٹھے۔ “
(حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ 425)

مزید پڑھیں

ایمان کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود کے افاضات کی روشنی میں (تقریر نمبر 2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
’’ اس شرط سے دین کو کبھی قبول نہ کرنا چا ں ہئ ںکہ ں ں
ئَ
م مالدار ہو جاؤں گا۔ مجھے فلاں عہدہ ں ں مل ںجاوے ں ں
گا۔ یاد رکھو کہ شرطی ایمان لانے والے سے خدا تعال بیزار ں ہےں ۔ں
بعض وقت مصلحت ںا ں لٰہ یہی ہوتی ہے کہ دنیا میں انسان کی کوئی مراد حاصل نہیں ہوتی ۔ طرح طرح کے آفات، ںبلائیں بیماریاں اور نامرادیاں لاحق حال ہوتی ہی مگر اُن
سے گھبرانا نہ چاہیے۔ موت ہر ایک کے واسطے کھڑی ہے اگر بادشاہ ہو جاوے گا تو کیاموت سے بچ جاوے گا؟ غریبی میں بھی مرنا ہے۔ بادشاہی میں بھی مرنا ہے اس ں لئے
سچّی توبہ کرنے والے کو اپنے ارادوں میں دنیا کی خواہش نہ ملانی چاہئں ۔‘ں‘ ں
)ملفوظات جلد 5 صفحہ 301 (ں ں
مشاہدات

مزید پڑھیں

ایمان کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود کے افاضات کی روشنی میں (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ”یہ ںخوب ںیا ں د ںرکھو کہ اللہ تعالے کسی ںنابینا ںمذہب کی ںتا ں ئی ں ں نہیں ںکرتا اور کوئی ںنصرت اسے نہیں ںد ں ی ںجاتی۔ اسلام کی ںسچائی ں ں کی ںیہی ںبڑی ںزبردست دلیل ںہے کہ ہر زمانہ ں میں
اللہ . ں
تعال اس کی ںنصرت فرماتا ہے اور اس زمانہ میں ں ں بھی ںخدا تعالیٰ ںنے مجھے ں بھیجہے ں ں ں
ئَ
تا م اس کی تازہ بتازہ ںنصرتوں کا ثبوت دوں ۔ چنانچہ تم ں میں ںسے کوئی بھی ںا ں یس ںنہیں ہو ں گا
جس نے خدا تعالیٰ ںکے نشانات نہ دیکھے ںہوں۔ اس کے بالمقابل ہمیں ںکوئی ںبتائے کہ وید ں ں کیا ں ں لایا ں؟ وہ تو بالکل ادھورا ہے۔ دوسرے لوگوں کو تو خواب بھی ںآجاتی ںہے مگر ں و ں ید
والوں کے نزدیک ںخواب بھی ںبے حقیقت چیز ںہے اور وہ بھی ںنہیں ںآسکتی جبکہ وہ دروازہ جو اللہ تعالیٰ ںکی ںطرف جانے کے لئے ںیقینی ں ںدروازہ ہے ، بند ہے تو اور وسائل خدا ر ں سیں
کے ں کیاہو سکتے ں ہیں ؟
ں
ئَ
م سچ
کہتا ہوں کہ جہان ں
ئَ
م نے اس فرقہ کے حالات دیکھے ں ہی، ان میں شوخیوں کے سوا کچھ نہیں ں دیکھا یا بعض ںایسے لوگ اس میں داخل ہوتے ں ہیکہ انہیں خبر ں بھیں
نہیں ہوتی کہ مذہب کی اصل غرض ں کیاں ہے ں ؟ ں
غرض اسلام ایک ایس پاک مذہب ہے جو ساری نیکیوں کا حقیقی سرچشمہ اور منبع ہے۔ اس لئے کہ نیکیوں کی جڑھ ہے۔ اللہ تعالیٰ پر کامل ایمانں اور وہ بدُوں اس کے پیدا نہیںں
ہوتا کہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں کے عجائبات اور نشانات تازہ بتازہ ں دیکھتا رہے اورں یہ بجز اسلامں کے کسی دوسرے کو حاصل نہیں۔ اگر ہے تو کوئیں پیش کرے۔ ں “
)ملفوظات جلد 8 ایڈیشنں 1984 ۔ صفحہں 316 ں ( ں

مزید پڑھیں

قرآن کریم کے آئینہ میں (تقریر نمبر 2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی:
” ں ں
ئَ
م ںتو ں ں کبھی ں ں نہیں ںمان سکتا کہ جوشخص ںدل ںسے خدا تعالیٰ کی طرف قدم ںرکھے ںوہ ضائع ہو ۔ مؤمن آدمی کبھی ںضائع ںنہیں ںکیا جاتا ۔ ںاُس ںکو ں ں دین ں ں بھی ںملتا ںہے اور دنیا میں ں ں بھیں
عزّت ملتی ہے اور مالں بھی ں “
)ملفوظات جلد 9 صفحہ 409 ( ں

مزید پڑھیں

قرآن کریم کے آئینہ میں (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہی: ں
’’ یہ جو اللہ تعالیٰ رجوع کرتا ہے اپنے ایسے بندے پر جو کئے ہوئے گناہوں پر نادم بھی ہو اور اس کی معافی بھی مانگ رہا ہو توایک د ودفعہ تک محدود نہیں ہے۔ مستقل انسا ں ن
استغفار کرتا رہتا ہے، مستقل اس سے معافی مانگتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی ہمیشہ اس کی نیت دیکھ ں کر اس کے گناہوں کو بخشتا رہتا ہے۔ یہ نہیں کہ ہر مرتبہ جان بوجھ ں کے
گناہ کرتے چلے جاؤ بلکہ نیت ایسی ہو کہ شرمندگی ہو اور گناہوں سے بچنے کی کوشش بھی ہو تو پھر اللہ تعالیٰ بھی ہمیشہ معاف کرتا چلا جاتا ہے۔ ’’ ا ں ور جب تک کوئی گناہگار توبہں
کی حالت میں اس کی طرف رجوع کرتا ہے وہ خاصہ اس کا ضرور اس پر ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ ‘‘ں ں
)براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 ں صفحہ 187-186 حا ں شیں (

مزید پڑھیں

اتقوا فراسۃ المومن، فانہ ينظر بنور اللہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ں
’’ ایمان یہی ہے کہ خدائی نصرتوں کو انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ جب وہ خداتعالیٰ کی نصرتوں کو دیکھتا ہے تب اُس کا ایمان بڑھتا ہے ںاَور معرفت اور بصیرت کی آ ں نکھ
کھلنے لگتی ہے۔ جب تک خداتعالیٰ کی نصرتوں کی چمک نظر نہیں آتی۔ اُس وقت تک یہ حالت تذبذب میں رہتا ہے لیکن جب اُن کی چمکار نظر آ جاتی ہے اُس وقت سینہ ں کی
ور نظر آتا ہے۔ وہ حالت ہوتی ہے جب اُس کے لئے کہا جاتا ہے۔
ُ
ور ہو جاتی ہی اور اندر ایک صفائی اور ن
ُ
غلاظتیں د
ورِ الل
ُ
رُ بِن
ُ
ظ
ْ
ہُ يَّن
إِن
َّ
مُؤْمِنِ ف
ْ
ال
َّ
وا فِرَّاسَّۃ
ُ
ق
اِت هِ ۔ ‘‘
)ملفوظات جلد 5 صفحہ 373 ں ( ں

مزید پڑھیں

بدگمانی، آکاس بیل کی طرح تمام نیکیوں کو بھسم کر دیتی ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ں
’’ اکثر لوگوں میں بدظنّی ںکا مرض بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ وہ اپنے بھائی سے نیک ں ظنّینہیں رکھتے اور ادنیٰ ادنیٰ سی بات پر اپنے دوسرے بھائی کی نسبت بُرے بُرے خیالات کر ں نے
لگتے ہی اور ایسے عیوب اس کی طرف منسوب کرنے لگتے ہی کہ اگر وہی عیب اس کی طرف منسوب ہوں تو اس کو سخت ناگوار معلوم ہو۔ اس لئے ں ل ضروری ہے ں کہ
ّ
او
ں
ّ
حت
ی ںالوسع ںاپنے بھائیوں پر بدظنّی ںنہ کی جاوے اور ہمیشہ نیک ظنّ ںرکھا جاوے کیونکہ اس سے محبت بڑھتی ہے۔ اور اُنس پیدا ہوتا ہے اور آپس میں قوّت ںپیدا ہوتی ہے او ں ر
اس کے باعث انسان بعض دوسرے عیوب مثلاً کینہ، بغض حسد وغیرہ سے بچا رہتا ہے‘ں‘ ں
)ملفوظات جلد 4 صفحہ 214 ۔ 215 ا ں یڈیشن 1988 ء( ں

مزید پڑھیں