Someone is always listening

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” دعا میں خدا تعالیٰ نے بڑی قوّتیں رکھی ہیں ۔ خدا نے مجھے بار بار الہامات کے ذریعہ یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہوگا دعا ہی کے ذریعہ سے ہوگا ۔“
(سیرت مسیح موعودؑاز یعقوب علی عرفانی صاحب ؓ صفحہ 518)

مزید پڑھیں

اِنَّ اَوْلَادَکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے) (قرآن کریم کی روشنی میں ) )تقریر نمبر 3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’خدا نے یہ چاہا ہے کہ کسی دوسرے کی بندگی نہ کرو اور والدین سے احسان کرو۔ حقیقت میں کیسی ربوبیت ہے کہ انسان بچہ ہوتا ہے اور کسی قسم کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس حالت میں ماں کیا کیا خدمات کرتی ہے اور والد اس حالت میں ماں کی مہمّات کا کسطرح متکفّل ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ناتواں مخلوق کی خبر گیری کے لئے دو محل پیدا کر دئیے ہیں اور اپنی محبت کے انوار سے ایک پَرتو محبت کا اُن میں ڈال دیا، مگر یاد رکھنا چاہیئے کہ ماں باپ کی محبت عارضی ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت حقیقی ہےاور جبتک قلوب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا القاء نہ ہو تو کوئی فردِ بشرخواہ وہ دوست ہو یا کوئی برابر کے درجہ کا ہو یا کوئی حاکم ہو، کسی سے محبت نہیں کر سکتا اور یہ خدا کی کمال ربوبیّت کا راز ہے کہ ماں باپ بچوں سے ایسی محبت کرتے ہیں کہ اُن کے تکفّل میں ہر قسم کے دُکھ شرح صدر سے اُٹھاتے ہیں یہاں تک کہ اُن کی زندگی کے لئے مرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔‘‘
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 315۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

مزید پڑھیں

اِنَّ اَوْلَادَکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے) (قرآن کریم کی روشنی میں ) )تقریر نمبر 2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ اولاد چیز کیا ہے؟ بچپن سے ماں اُس پر جان فدا کرتی ہے مگر بڑے ہو کر دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے لڑکے اپنی ماں کی نافرمانی کرتے ہیں اور اُس سے گستاخی سے پیش آتے ہیں ۔ پھر اگر فرمانبردار بھی ہوں تو دکھ اور تکلیف کے وقت وہ اس کو ہٹا نہیں سکتے ۔ ذرا سا پیٹ میں درد ہو تو تمام عاجز آجاتے ہیں۔ نہ بیٹا کام آسکتا ہے نہ باپ نہ ماں نہ کوئی اور عزیز ۔ اگر کام آتا ہے تو صرف خدا۔‘‘
( تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد8صفحہ5)

مزید پڑھیں

اِنَّ اَوْلَادَکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ ) تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے) (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ غرض اولاد کے واسطے صرف یہ خواہش ہو کہ وہ دین کی خادم ہو۔ اسی طرح بیوی کرے تاکہ اس سے کثرت سے اولاد پیدا ہو اور وہ اولاد دین کی سچی خدمت گزار ہواور نیز جذباتِ نفس سے محفوظ رہے۔ اس کے سوا جس قدر خیالات ہیں وہ خراب ہیں ۔ رحم اور تقویٰ مدّنظر ہو تو بعض باتیں جائز ہوجاتی ہیں ۔ اس صورت میں اگر مال بھی چھوڑتا ہے اور جائداد بھی اولاد کے واسطے چھوڑتا ہے تو ثواب ملتا ہے۔ لیکن اگر صرف جانشین بنانے کا خیال ہے اور اس نیّت سے سب ہمّ وغم رکھتا ہے تو پھر گناہ.ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 600-599)

مزید پڑھیں

ماں باپ کبھی نہیں مرتے ؟

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ نیک اولاد، اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرنے والی اولاد جہاں اپنی عاقبت سنوارنے والی ہو گی، وہاں نیک اولاد کے عمل اور اُن کی دعائیں جو وہ والدین کے لئے کر رہے ہیں، والدین کے درجات اگلے جہان میں بھی بلند کرنے کا باعث بن رہی ہوں گی۔‘‘
(خطبہ جمعہ3 ؍مئی2013ء )

مزید پڑھیں

کفّارات اور درجات کیا ہیں؟ (تقریر نمبر 3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اس زندگی کے کُل انفاس اگر دنیاوی کاموں میں گزر گئے تو آخرت کے لئے کیا ذخیرہ کیا؟ تہجد میں خاص کر اُٹھو اور ذوق اور شوق سے ادا کرو۔ درمیانی نمازوں میں بہ.باعث ملازمت کے ابتلا آ جاتا ہے۔ رازق اللہ تعالیٰ ہے۔ نماز اپنے وقت پر ادا کرنی چاہئے۔ ظہروعصر کی کبھی کبھی جمع ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ضعیف لوگ ہوں گے اس لئے یہ گنجائش رکھ دی۔ مگر یہ گنجائش تین نمازوں کے جمع کرنے میں نہیں ہو سکتی۔ جبکہ ملازمت میں اور دوسرے کئی امور میں لوگ سزا پاتے ہیں (اور موردِ عتابِ حُکّام ہوتے ہیں) تو اگر اللہ تعالیٰ کے لئے تکلیف اٹھاویں تو کیا خوب ہے‘‘
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 6۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

مزید پڑھیں

اسلام میں کفّارہ، فدیہ، دیت، ہدی، قضا اور توبہ کی شرعی حقیقت (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” سو اس طور کی طبیعتیں بھی دنیا میں پائی جاتی ہیں کہ جن کا وجود روزمرّہ کے مشاہدات سے ثابت ہوتا ہے۔ اس کے نفس کا شورش اور اشتعال جو فطرتی ہے کم نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ جو خدا نے لگا دیااس کو کون دور کرے ہاں خدا نے ان کا ایک علاج بھی رکھا ہے۔ وہ کیا ہے؟ توبہ واستغفاراور ندامت، یعنی جبکہ بُرا فعل جو ان کے نفس کا تقاضا ہے ان سے صادر ہو یا حسب خاصہ فطرتی کوئی بُرا خیال دل میں آوے تو اگر وہ توبہ واستغفار سے اس کا تدارک چاہیں تو خدا اس گناہ کو معاف کر دیتا ہے۔ جب وہ بار بار ٹھوکر کھانے سے بار بار نادم اور تائب ہوں تو وہ ندامت اور توبہ اس آلودگی کو دھو ڈالتی ہے۔ یہی حقیقی کفّارہ ہے جو اس فطرتی گناہ کا علاج ہے۔“
( براہینِ احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 186۔187، حاشیہ)

مزید پڑھیں

اسلام میں کفّارہ کی حقیقت اور تلافی کا فلسفہ (تقریر نمبر1)

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ عُرْضَۃً: اللہ کے نام کو نیکی کرنے میں روک نہ بناؤ مثلاً خدا کی قسم کھا کر یہ کہہ دیا : مَیں فلاں کے ساتھ نیکی نہیں کروں گا، فلاں کے گھر نہ جاؤں گا۔ وغیرہ۔‘‘
(حقائق الفرقان جلد 1 صفحہ 362-361)

مزید پڑھیں

”تُخۡرِجُ الۡحَیَّ مِنَ الۡمَیِّتِ“

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’جب ہم بہار کی موسم میں 1905ء میں باغ میں تھے تو مجھے اپنی جماعت کے لوگوں میں سے جو باغ میں تھے کسی ایک کی نسبت یہ الہام ہوا تھا کہ خدا کا ارادہ ہی نہ تھا کہ اُس کو اچھا کرے مگر فضل سے اپنے ارادہ کو بدل دیا۔ اِس الہام کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ سید مہدی حسین صاحب جو ہمارے باغ میں تھے اور ہماری جماعت میں داخل ہیں اُن کی بیوی سختؔ بیمار ہو گئی۔ وہ پہلے بھی تپ اور ورم سے جو مُنہ اور دونوں پیروں اور تمام بدن پر تھی بیمار تھی اور بہت کمزور تھی اور حاملہ تھی پھر بعد وضع حمل جو باغ میں ہوا اس کی حالت بہت نازک ہو گئی اور آثار نومیدی ظاہر ہو گئے اور میں اُس کے لئے دعا کرتا رہا آخر خدا تعالیٰ کے فضل سے اُس کو دو بارہ زندگی حاصل ہوئی۔‘‘
(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ378)

مزید پڑھیں

مشکلیں کیا چیز ہیں مشکِل کُشا کے سامنے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ سالہ زندگی جو مکّہ میں گزری۔ اس میں جس قدر مصائب اور مشکلات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آئیں ہم تو اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ دل کانپ اٹھتا ہے جب ان کا تصوّر کرتے ہیں۔ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عالی حوصلگی، فراخ دلی، استقلال اور عزم واستقامت کا پتہ لگتا ہے کیسا کوہ وقّار انسان ہے کہ مشکلات کے پہاڑ ٹوٹے پڑتے ہیں مگر اس کو ذرا بھی جنبش نہیں دے سکتے۔ وہ اپنے منصب کے ادا کرنے میں ایک لمحہ سست اور غمگین نہیں ہوا۔ وہ مشکلات اس کے ارادے کو تبدیل نہیں کر سکیں‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 516)

مزید پڑھیں