ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر13)

حضرت مرزا بشیر احمدؓ صاحب بیان کرتے ہیں کہ
”حضرت مسیح موعود ؑ کا یہ دستور تھا کہ آپؐ اپنے تمام خطوط میں بسم اللّٰہ اور السلام علیکم لکھتے تھے اور خط کے نیچے دستخط کر کے تاریخ بھی ڈالتے تھے۔ مَیں نے کوئی خط آپؑ کا بغیر بسم اللّٰہ اور سلام اور تاریخ کے نہیں دیکھا اور آپ کو سلام لکھنے کی اتنی عادت تھی کہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ آپؑ ایک دفعہ کسی ہندو مخالف کو خط لکھنے لگے تو خود بخود السلام علیکم لکھا گیا۔ جسے آپؑ نے کا ٹ دیا۔ لیکن پھر لکھنے لگے تو پھر سلام لکھا گیا چنانچہ آپؑ نے دوسری دفعہ اُسے پھر کاٹا لیکن جب آپ تیسری دفعہ لکھنے لگے تو پھر ہاتھ اسی طرح چل گیا۔ آخر آپؑ نے ایک اور کاغذ لے کر ٹھہر ٹھہر کر خط لکھا۔‘‘
(سیرت المہدی، جلد اول صفحہ 270، روایت نمبر 299)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر12)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’تمہارا اصل شکر تقویٰ اور طہارت ہی ہے۔ اگر تم نے حقیقی سپاس گزاری یعنی طہارت اور تقویٰ کی راہیں اختیار کر لیں تو مَیں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ تم سرحد پر کھڑے ہو، کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا۔ ‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 49۔ ایڈیشن2003ء)

مزید پڑھیں

سُستیاں ترک کرو طالبِ آرام نہ ہو

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کام کی یہ حالت ہوتی کہ ہم جب سوتے تو آپ کو کام کرتے دیکھتے اور جب آنکھ کھلتی تب بھی آپ کوکام کرتے دیکھتے اور باوجود اتنی محنت اور مشقّت برداشت کرنے کے جو دوست آپ کی کتابوں کے پروف پڑھنے میں شامل ہوتے آپ ان کے کام کی اس قدر، قدر فرماتے کہ اگر عشاء کے وقت بھی کوئی آواز دیتا کہ حضور! مَیں پروف لے آیا ہوں تو آپ چارپائی سے اُٹھ کر دروازہ تک جاتے ہوئے راستہ میں کئی دفعہ فرماتے جزاک اللّٰہ۔ آپ کو بڑی تکلیف ہوئی جزاک اللّٰہ۔ آپ کو بڑی تکلیف ہوئی۔ حالانکہ وہ کام اس کام کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہوتا تھا جو آپ خود کرتے تھے۔ غرض اس قدر کام کرنے کی عادت ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں دیکھی ہے کہ اس کی وجہ سے ہمیں حیرت آتی۔ بیماری کی وجہ سے بعض دفعہ آپ کو ٹہلنا پڑتا مگر اس حالت میں بھی آپ کام کرتے جاتے۔ سیر کے لئے تشریف لے جاتے تو راستہ میں بھی مسائل کا ذکر کرتے اور سوالات کے جوابات دیتے۔“

مزید پڑھیں

برداشت، انسانیت اَور سوسائٹی کی معراج ہے

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”صبر کے معنے یہ ہیں کہ اگر تمہیں کوئی گالی دے تو تم اسے گالی نہ دو ۔ اگر کوئی تم پر ظلم کرے تو تم اس وقت تک ظلم کا جواب نہ دو جب تک شریعت تمہیں جواب دینے کی اجازت نہیں دیتی۔ لیکن صبر کے یہ معنی نہیں کہ تم اپنا دفاع چھوڑ دو اور دین کے معاملے میں ذلّت برداشت کرلو۔ کیونکہ اس طرح بہادری اور دلیری نہیں بلکہ بزدلی پیدا ہوجائے گی ۔ صبر کےمعنے یہ ہیں کہ انسان متواتر اور استقلال کے ساتھ ان بدیوں کا مقابلہ کرے جو اس کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں اور ان بدیوں کے مقابلہ کے لئے تیار رہے جو اس کو آئندہ پیش آنے والی ہوں ۔ اسی طرح صبر کے ایک معنی یہ ہیں کہ انسان استقلال کے ساتھ اپنی نیکیوں پر قائم رہے جو اس کو حاصل ہوچکی ہوں اور ان نیکیوں کے حصول کے لئے کوشش کرے جو اس کو ابھی ملی نہیں۔ “
(تفسیر کبیر جلد 2صفحہ 115-116)

مزید پڑھیں

صحبتِ صالحین اور ہمارے جلسے (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اس جلسہ سے مدعا اور مطلب یہ تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر حاصل کرلیں کہ اِن کے دل آخرت کی طرف بکلّی جھک جائیں اور اِن کے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ زہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیز گاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مؤاخات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں اور انکساری اور تواضع اور راستبازی اِن میں پیدا ہو اور وہ دینی مہمات کے لئے سرگرمی اختیار کریں‘‘
(شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد6صفحہ 394)

مزید پڑھیں

صحبتِ صالحین اور ہمارے جلسے (تقریر نمبر1)

حضر ت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’دو چیزیں ہیں ایک تو دعا کرنی چاہئے اور دوسرا طریق یہ ہے کُونُوا مَعَ الصّٰدِقِینَ راستبازوں کی صحبت میں رہو تاکہ ان کی صحبت میں رہ کر تم کو پتہ لگ جاوے کہ تمہاراخدا قادر ہے، بینا ہے، دیکھنے والا ہے، سننے والا ہے، دعائیں قبول کرتا ہے اور اپنی رحمت سے اپنے بندوں کو صدہا نعمتیں دیتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد ششم صفحہ62)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر11)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ہستی پر پورا پورا انقلاب آوے اور وہ تم سے ایک موت مانگتا ہے جس کے بعد وہ تمہیں زندہ کرے گا۔ تم آپس میں جلد صلح کرو اور اپنے بھائیوں کے گناہ بخشو۔ کیونکہ شریر ہے وہ انسان جو اپنے بھائی کے ساتھ صلح پر راضی نہیں ہے۔ وہ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ تفرقہ ڈالتا ہے۔‘‘
(کشتیٔ نوح۔ روحانی خزائن جلد19صفحہ12)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر10)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’آجکل پردہ پر حملے کئے جاتے ہیں، لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ اسلامی پردہ سے مراد زنداں نہیں، بلکہ ایک قسم کی روک ہے کہ غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکے ۔ جب پَردہ ہو گا ٹھوکر سے بچیں گے۔‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ 22-21، ایڈیشن 2003ء)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر9)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’تم خدا کی پرستش کرو اور اس کے ساتھ کسی کو مت شریک ٹھہراؤ اور اپنے ماں باپ سے احسان کرو اور ان سے بھی احسان کرو جو تمہارے قرابتی ہیں (اس فقرے میں اولاد اور بھائی اور قریب اور دور کے تمام رشتہ دار آگئے) اور پھر فرمایا کہ یتیموں کے ساتھ بھی احسان کرو اور مسکینوں کے ساتھ بھی اور جو ایسے ہمسایہ ہوں، جو قرابت والے بھی ہوں اور ایسے ہمسائے ہوں جو محض اجنبی ہوں اور ایسے رفیق بھی جو کسی کام میں شریک ہوں یا کسی سفر میں شریک ہوں یا نماز میں شریک ہوں یا علم دین حاصل کرنے میں شریک ہوں اور وہ لوگ جو مسافر ہیں اور وہ تمام جاندار جو تمہارے قبضہ میں ہیں سب کے ساتھ احسان کرو۔ خدا ایسے شخص کو دوست نہیں رکھتا جو تکبّر کرنے والا اور شیخی مارنے والا ہو، جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا۔ ‘‘
(چشمۂ معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 209-208)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر8)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ دیکھو! دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک تو وہ جو اسلام قبول کرکے دنیا کے کاروبار اور تجارتوں میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ شیطان ان کے سر پر سوار ہوجاتا ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ تجارت کرنی منع ہے، صحابہ تجارتیں بھی کرتے تھے مگر دین کو دنیا پر مقدم رکھتے تھے۔ انہوں نے اسلام قبول کیا تو اسلام کے متعلق سچا علم جو یقین سے ان کے دلوں کو لبریز کردے انہوں نے حاصل کیا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ کسی میدان میں شیطان کے حملے سے نہیں ڈگمگائے۔‘‘
(ملفوظات جلد3صفحہ 194-193ایڈیشن 1984ء )

مزید پڑھیں