تقاریربابت اخلاقیات (حصہ اول)

اخلاقیات کے حوالہ سے بہت ہی کارآمد باتیں تو کتاب میں مندرج 50 تقاریر میں تفصیل سے بیان ہوئی ہیں تاہم یہاں یہ بتانا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اخلاقیات پر تقریر کرتے  وقت یا اِس کی تیاری کے وقت ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ عالِم با عمل اور عامِل باعلم بننے کی کوشش کرتا ہے یا کرتی ہے ۔ وہ ہزار دفعہ سوچتا یا سوچتی ہے کہ مَیں جس اچھی بات کو پبلک میں بیان کرنے لگا ہوں /لگی ہوں کیا مَیں خود اِ س پر عمل پیرا ہوں یا نہیں ۔ اِسی پہلو کو مدِ نظر رکھ کر اخلاقیات پر پہلے مرحلہ میں 50 تقاریر پیش کی جا رہی ہیں ۔

مزید پڑھیں

باادب با نصیب،بے ادب بے نصیب

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
” سب سے پہلے ہمیں اپنے والدین کے حقوق ادا کرنے ہوں گے ، اپنے اہلِ خانہ، بہن بھائیوں اور دیگر عزیزواقارب کے حقوق ادا کرنے ہوں گے۔ اپنے شریکِ کار، دوستوں، اساتذہ اور ہم جلیسوں کے حقوق ادا کرنے ہوں گے۔ ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ہر اُس عمل سے روکنے والا ہو جو خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہو سکتا ہے۔“
(خطاب اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ برطانیہ 2024ء)

مزید پڑھیں

توکل علی اللہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”انسان کو چاہیے کہ تقویٰ کو ہاتھ سے نہ جانے دے اور خدا تعالیٰ پر بھروسہ رکھے تو پھر اسے کسی قسم کی تکلیف نہیں ہو سکتی۔ خداتعالیٰ پر بھروسہ کے یہ معنی نہیں کہ انسان تدبیر کو ہاتھ سے چھوڑ دے۔ بلکہ یہ معنی ہیں کہ تدبیر پوری کر کے پھر انجام کو خدا تعالیٰ پر چھوڑ دے۔ اس کا نام توکل ہے۔“
(ملفوظات جلد3صفحہ566)

مزید پڑھیں

تیسری عالمی ایٹمی جنگ(حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کی پیشگوئیاں و ارشادات کی روشنی میں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تیسرے خلیفہ، حضرت مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ، نے لند ن کے وانڈزورتھ ہال میں منعقد ہونے والے ایک تاریخی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا:
’’پھرحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک تیسری جنگ کی بھی خبر دی ہے، جوپہلی دونوں جنگوں سے زیادہ تباہ کن ہوگی۔ دونوں مخالف گروہ ایسے اچانک طور پر ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے کہ ہر شخص دم بخود رہ جائے گا۔ آسمان سے موت اور تباہی کی بارش ہوگی اور خوفناک شعلے زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ نئی تہذیب کا قصر عظیم زمین پر آ رہے گا۔ دونوں متحارب گروہ، یعنی روس اور اس کے ساتھی اور امریکہ اور اس کے دوست، ہر دو تباہ ہو جائیں گے، ان کی طاقت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی، ان کی تہذیب و ثقافت برباد اور ان کا نظام درہم برہم ہوجائے گا….شاید آپ اسے آفسانہ سمجھیں مگر جو اس تیسری عالمگیر تباہی سے بچ نکلیں گے اور زندہ رہیں گے، وہ دیکھیں گے کہ یہ خدا کی باتیں ہیں اور اس قادر کی باتیں ہمیشہ پوری ہی ہوتی ہیں، کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی “
(امن کا پیغام اور ایک حرف انتباہ، صفحہ9)

مزید پڑھیں

تفسیر کبیر اور اِس کے محاسن و خصوصیات

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ انبیاء کی قرآنی ترتیب میں حکمت کے حوالہ سے فرماتے ہیں:
”انبیاء کی ترتیب کے بارے میں یہ وہ علم ہے جو خداتعالیٰ نے مجھے عطا فرمایا ہے چنانچہ تیرہ سو سال میں جس قدر تفاسیر لکھی گئی ہیں ان میں سے کسی تفسیر میں بھی یہ مضمون بیان نہیں کیا گیا اور کوئی نہیں بتاتا کہ نبیوں کا ذکر کرتے وقت یہ عجیب ترتیب کیوں اختیار کی گئی صرف مجھ پر خداتعالیٰ نے اس نکتہ کو کھولا جس سے اس ترتیب کی حکمت اور اہمیت بالکل واضح ہوجاتی ہے۔ “
( تفسیر جلد پنجم صفحہ264 )

مزید پڑھیں

احمدی بچوں کا مقام اور ان کے فرائض

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے اطفال سے مخاطب ہوکر فرمایا:
”الہٰی سلسلہ کے بچے فقید المثال ہوتے ہیں۔ آپ لوگ اسلام کے بچے ہیں ۔ مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے بچے ہیں۔جسمانی لحاظ سے ماں باپ والدین ہیں ۔ مگر روحانی لحاظ سے مسیح موعودؑ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آپ منسوب ہوتے ہیں ۔اگر تم حقیقی احمدی بن جاؤ تو دنیا میں کوئی بھی تمہارا مقابلہ نہیں کر سکے گا اور دنیا ہمیشہ تمہیں یاد رکھے گی ۔“

مزید پڑھیں

خلفاء کرام کی خدام الاحمدیہ سے توقعات

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
’’ میں نے متواتر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی نئی نسلیں جب تک اس دین اور ان اصول کی حامل نہ ہو ں جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے نبی اور ماموردنیا میں قائم کرتے ہیں اس وقت تک اس سلسلہ کی ترقی کی طرف کبھی بھی صحیح معنوں میں قدم نہیں اٹھ سکتا ۔‘‘
)الفضل 10؍اپریل 1938ء(

مزید پڑھیں

اسلامی تہذیب و تمدّن

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اسلامی تمدّن کی تعریف میں فرماتے ہیں:
”اسلام نے ہمارے لئے ہر بات کے متعلق احکام دے رکھے ہیں ۔ یہ احکام بیکار اور فضول نہیں بلکہ نہایت ضروری ہیں اور انہی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے مجموعہ کا نام اسلامی تمدّن ہے۔ اسلامی تمدّن نماز کا نام نہیں ، روزے کا نام نہیں ، زکوٰۃ کا نام نہیں بلکہ ان چھوٹے چھوٹے احکام کے مجموعہ کا نام ہے جو ایسا تغیّر پیدا کردیتے ہیں کہ اس کی وجہ سے وہ سوسائٹی دوسری سوسائیٹیوں سے نمایاں اور ممتاز نظر آتی ہے۔ “
(خطبہ جمعہ 21 اپریل 1933ء)

مزید پڑھیں

چھوٹی چیزیں بڑے نتائج(کتابچہ”کر نا کر“ کے اعتبار سے)

(کتابچہ” کر نا کر“ کے اعتبار سے)
کتابچہ” کر نا کر“ میں ایک چھوٹی سی بات یہ بھی درج ہے کہ کو اپنے نوافل اور سنت حتی الوسع اپنے گھر میں ادا کرتا کہ تیرے بیوی اور بچے صحیح طور پر نماز پڑھنا سیکھیں۔
اس چھوٹی سی بات جو سنت رسولؐ بھی ہے اور ہمارے بزرگوں کا نیک عمل بھی، کے ساتھ ہی بڑا نتیجہ درج ہے تا بیوی بچوں کو نماز کی عادت پڑے۔ہمارے پیار ے خلیفہ المسیح بھی سنتوں کی ادائیگی گھر میں فرماتے ہیں۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ گھر بھی آباد رہتے ہیں ۔

مزید پڑھیں

چھوٹی چیزیں، بڑے نتائج(حضرت مسیح موعودؑ کے کلمات کی روشنی میں)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” جو شخص پورے طور پر اطاعت نہیں کرتا وہ اس سلسلہ کو بد نام کرتا ہے۔“
(ملفوظات جلد4 صفحہ73 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں