إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے کا اسلامی حکم (تقریر نمبر 1)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ ثمرات میں اولاد بھی داخل ہے اور محنتوں کے بعد آخر کی کامیابیاں بھی مراد ہیں ان کے ضائع ہونے سے بھی سخت صدمہ ہوتا ہے۔ امتحان دینے والے اگر کبھی فیل ہوجاتے ہیں تو بارہا دیکھا گیا ہے کہ وہ خودکشیاں کرلیتے ہیں……غرض اس قسم کے ابتلاء جن پر آئیں پھر اللہ تعالیٰ ان کو بشارت دیتا ہے وَبَشِّرِ الصّٰبِرِینَ یعنی ایسے موقع پر جہد کے ساتھ برداشت کرنے والوں کو خوشخبری اور بشارت ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں اِنَّا لِلّٰہِ واِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ۔ یاد رکھو کہ خدا کا خاص بندہ اور مقرّب تب ہی ہوتا ہے کہ ہر مصیبت پر خدا ہی کو مقدّم رکھے۔ غرض ایک وہ حصہ ہوتا ہے جس میں خدا اپنی منوانا چاہتا ہے۔ دعا کے معنیٰ تو یہی ہیں کہ انسان خواہش ظاہر کرتا ہے کہ یوں ہو، پس کبھی مولیٰ کریم کی خواہش مقدّم ہونی چاہیے اور کبھی اللہ کریم اپنے بندہ کی خواہش کو پورا کرتا ہے۔‘‘
(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد دوم صفحہ273)
