حج بیتُ اللہ اور عیدُ الاضحیٰ بطور شعائرُاللہ اور اسلامی اصطلاح

حضرت ابو ہریرہ ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا حجاج کے حق میں بیان کی:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْحَآجِّ وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهٗ الْحَآجُّ
)مستدرک حاکم جلد1صفحہ441(
اے اللہ! حاجیوں کو بھی بخش دے اور ان کو بھی جن کے لئے حاجیوں نے بخشش مانگی ہے۔

مزید پڑھیں
brass-colored and blue dome building during daytime

مسجد کا مقام اَور اِس کی تعمیر کا ثواب

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے باوجود بیماری اور خرابئ صحت مسجد آ کر با جماعتِ ادا کرنے کے حوالے سے اپنی کیفیت یوں بیان فرمائی:
” میرے سر کی حالت آج بھی اچھی نہیں چکر آ رہا ہے جب جماعت کا وقت آتا ہے تو اس وقت خیال گزرتا ہے کہ جب جماعت ہو گی اور مَیں شامل نہ ہوں گا اور افسوس ہوتا ہے اس لئے افتاں وخیزاں چلا آتا ہوں۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ212)

مزید پڑھیں

صلی اللّٰہ علیہ وسلم پڑھنے کے فوائد اور برکات

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’درود شریف جو حصولِ استقامت کا ایک زبردست ذریعہ ہے بکثرت پڑھو مگر نہ رسم اور عادت کے طورپر بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور احسان کو مدنظر رکھ کر اور آپؐ کے مدارج اور مراتب کی ترقی کے لئے اور آپ کی کامیابیوں کے واسطے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ قبولیت دعا کا شیریں اور لذیذ پھل تم کو ملے گا‘‘۔
(

مزید پڑھیں

اسلامی اصطلاح۔ جزاک اللّٰہ خیرًا کا استعمال

حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں
”غالباً 1901ء کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ مَیں حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہِ اقدس میں حاضر تھا کہ حضور علیہ السلام نے توحیدِ باری تعالیٰ پر ایک تقریر فرمائی اور اس میں ارشاد کیا کہ
بعض لوگ کسی کے احسان پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنے کے بغیر ہی جَزَاکَ اللّٰہُ کہہ دیتے ہیں حالانکہ بہ نظرِ غایت دیکھا جائے تو از روئے معرفت یہ کلمہ بھی اپنے اندر ایک گونہ شرک کا پہلو رکھتا ہے کیونکہ احسان کرنے والے کی ذات اور وہ چیز جس کےذریعے وہ محسن بنا ہے وہ بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں۔ اس لیے ممنونِ.احسان کو چاہیے کہ وہ جَزَاکَ اللّٰہُ کہنے سے قبل اللہ تعالیٰ کی توصیف وتحمید بیان کرے اور احسان ہونے پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے کیونکہ معرفت اور حقیقت کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ سب سے اوّل خالقِ اسباب کا شکریہ ادا کیا جائے پھر جَزَاکَ اللّٰہُ اس شخص کا بھی کہہ دے۔“
(حیاتِ قدسی صفحہ 134)

مزید پڑھیں

’’  اِ نۡ شَاءَ اللّٰہُ ‘‘کہنا اور لکھنا ایک مبارک عمل ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اِنْ شَآءَ اللّٰہُ کہنا نہایت ضروری ہے کیونکہ انسان کے تمام معاملات اس کے اپنے اختیار میں نہیں۔ وہ طرح طرح کے مصائب اور مکارہ و موانع میں گھرا ہواہے۔ممکن.ہے کہ جو کچھ ارادہ اس نے کیا ہے وہ پُورا نہ ہو۔ پس اِنْ شَآءَ اللّٰہُ کہہ کر اللہ تعالیٰ سے جو تمام طاقتوں کا سرچشمہ ہے مدد طلب کی جاتی ہے۔آجکل کے ناعاقبت اندیش و نادان لوگ اس پر ہنسی اڑاتے ہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد10 صفحہ370 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے کا اسلامی حکم (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ صبر وصلوٰۃ اور شہادت پر تسلیم ورضا کا ردّ عمل دکھانے والوں کی راہ پر ڈال ایسے لوگوں کی راہ پر ڈال جو ابتلاؤں اور نقصانات پر صبر سے کام لیتے ہیں اور تیرے حضور ہر قسم کی قربانیاں دیتے ہوئے یہ عرض کرتے ہیں کہ اِنَّا لِلّٰہِ واِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ کہ سب کچھ گیا لیکن ہم بھی تو خدا ہی کے ہیں۔ ہم بھی چلے جائیں تو کچھ ہاتھ سے دینے والے نہیں ہوں گے۔ اِنَّا لِلّٰہِ ہم خدا کے تھے اور خدا کے ہیں اور ہم نے بھی تو آخر اسی کے پاس جانا ہے جہاں ہمارا سب کچھ جا رہا ہے۔‘‘
(خطبات طاہر جلد10 صفحہ298)

مزید پڑھیں

إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے کا اسلامی حکم (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ ثمرات میں اولاد بھی داخل ہے اور محنتوں کے بعد آخر کی کامیابیاں بھی مراد ہیں ان کے ضائع ہونے سے بھی سخت صدمہ ہوتا ہے۔ امتحان دینے والے اگر کبھی فیل ہوجاتے ہیں تو بارہا دیکھا گیا ہے کہ وہ خودکشیاں کرلیتے ہیں……غرض اس قسم کے ابتلاء جن پر آئیں پھر اللہ تعالیٰ ان کو بشارت دیتا ہے وَبَشِّرِ الصّٰبِرِینَ یعنی ایسے موقع پر جہد کے ساتھ برداشت کرنے والوں کو خوشخبری اور بشارت ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں اِنَّا لِلّٰہِ واِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ۔ یاد رکھو کہ خدا کا خاص بندہ اور مقرّب تب ہی ہوتا ہے کہ ہر مصیبت پر خدا ہی کو مقدّم رکھے۔ غرض ایک وہ حصہ ہوتا ہے جس میں خدا اپنی منوانا چاہتا ہے۔ دعا کے معنیٰ تو یہی ہیں کہ انسان خواہش ظاہر کرتا ہے کہ یوں ہو، پس کبھی مولیٰ کریم کی خواہش مقدّم ہونی چاہیے اور کبھی اللہ کریم اپنے بندہ کی خواہش کو پورا کرتا ہے۔‘‘
(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد دوم صفحہ273)

مزید پڑھیں

استغفار، حضرت مسیح موعودؑ اَور خلفاء کی نظر میں (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ یہ سچی بات ہے کہ توبہ اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں اور خداتعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَ یُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ(البقرۃ: 223 ) سچی توبہ کرنے والا معصوم کے رنگ میں ہوتا ہے۔ پچھلے گناہ تو معاف ہو جاتے ہیں پھر آئندہ کے لیے خدا سے معاملہ صاف کر لے۔ اس طرح پر خدا کے اولیاء میں داخل ہو جائے گا اور پھر اس پر کوئی خوف و حزن نہ ہو گا۔ ‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ595-594، ایڈیشن 1988ء)

مزید پڑھیں

استغفار کی ضرورت اور برکات (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ توبہ استغفار کرتے رہو کیونکہ یہ اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ جو استغفار کرتا ہے اسے رزق میں کشائش دیتا ہے۔‘‘
(تفسیرحضرت مسیح موعودؑ جلد دوم صفحہ365)

مزید پڑھیں