حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ں ہی: ” ںخدا تعالیٰ ںفرماتا ہے کہ کا فروہ ں ہی ںجو حیات ںدنیا ںپر راضی ہو گئے اور اطمینان ںپاگئے ں ہی۔ خدا تعالیٰ ںکی طرف حرکت کی ںضرورت کو وہ بالکل محسوس ہی نہیں کرتے قِیْمُ
ُ
لاَّ ن
َّ
ف
ا
ً
ن
ْ
قِیَّامَّۃِ وَّز
ْ
ہُمْ يَّوْمَّ ال
َّ
ل )الکہف: ں 106 ( میں ںگناہ کا ذکر نہیں ںہے۔ اس کا باعث صرف ں ں یہ ںہے کہ ان لوگوں نے دنیا ںکی خواہشوں ںکو مقدّم رکھا ہوا تھا۔ ںایک ںںاَور جگہ اللہ تعا ں لیٰں
فرماتا ہے کہ وہ لوگ دنیا ںکا حظّ ںپاچکے۔ وہاں بھی ںگناہ کا ذکر نہیں ںبلکہ دنیا ںکی ںلذّات ںجن کو خدا تعالیٰ نے جائز ں کیاہے اُن میں ںمنہمک ہو جانے کا ذکر ہے۔ اس قسم کے لوگوں کا
مرتبہ ں عناللہ کچھ نہ ہوگا اور نہ ان کو ں عزّت کا مقام دیا جائے گا۔ شیریں زندگی اصل میں ایک شیطان ہے جو کہ انسان کو دھو کادیتی ہے۔ مؤمن تو خود مصیبت خریدتاں ہےں ۔
ورنہ اگر وہ مداہنہ برتے تو ہر طرح آرام سے رہ سکتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر اس طرح کرتے تو اس قدر جنگیں کیوں ہوتیں لیکن آپ نے دںین کو مقدّمں رکھا
اس لئے سب دشمن ہو گئے۔ ں “ ں
)ملفوظات جلد 7 ایڈیشن 1984 ۔ ں صفحہ 108 (
مزید پڑھیں