حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں
”غالباً 1901ء کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ مَیں حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہِ اقدس میں حاضر تھا کہ حضور علیہ السلام نے توحیدِ باری تعالیٰ پر ایک تقریر فرمائی اور اس میں ارشاد کیا کہ
بعض لوگ کسی کے احسان پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنے کے بغیر ہی جَزَاکَ اللّٰہُ کہہ دیتے ہیں حالانکہ بہ نظرِ غایت دیکھا جائے تو از روئے معرفت یہ کلمہ بھی اپنے اندر ایک گونہ شرک کا پہلو رکھتا ہے کیونکہ احسان کرنے والے کی ذات اور وہ چیز جس کےذریعے وہ محسن بنا ہے وہ بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں۔ اس لیے ممنونِ.احسان کو چاہیے کہ وہ جَزَاکَ اللّٰہُ کہنے سے قبل اللہ تعالیٰ کی توصیف وتحمید بیان کرے اور احسان ہونے پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے کیونکہ معرفت اور حقیقت کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ سب سے اوّل خالقِ اسباب کا شکریہ ادا کیا جائے پھر جَزَاکَ اللّٰہُ اس شخص کا بھی کہہ دے۔“
(حیاتِ قدسی صفحہ 134)
مزید پڑھیں