50 تقاریر برموقع یوم خلافت (حصہ اول)
یہ کتاب یوم خلافت کی 50 تقاریر کا مجموعہ ہے جس کے پیش لفظ اور انڈیکس کے سیکشن شامل ہیں۔ اس مکمل کتاب کو ڈاونلوڈ یا آنلائن پڑھنے کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
مزید پڑھیںیہ کتاب یوم خلافت کی 50 تقاریر کا مجموعہ ہے جس کے پیش لفظ اور انڈیکس کے سیکشن شامل ہیں۔ اس مکمل کتاب کو ڈاونلوڈ یا آنلائن پڑھنے کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
مزید پڑھیںجناب واصف علی واصف یا الہٰی! یا الہٰی! کے زیر عنوان اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’ یا الہٰی! ہمیں لیڈروں کی یلغار سے بچا۔ہمیں ایک قائد عطا فرما، ایسا قائد جو تیرے حبیب کے تابع فرمان ہو…..اس کی اطاعت کریں تو تیری اطاعت کے حقوق ادا ہوتےرہیں۔ ‘‘
(روزنامہ نوائے وقت لاہور 26 ستمبر1991ء)
حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
” دنیا کا کوئی ملک نہیں جہاں رات سونے سے پہلے چشم تصور میں مَیں نہ پہنچتا ہوں اور ان کے لئے سوتے وقت بھی اور جاگتے وقت بھی دعا نہ ہو۔ یہ مَیں باتیں اس لئے نہیں بتا رہا کہ کوئی احسان ہے۔ یہ میرا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ اس سے بڑھ کر مَیں فرض ادا کرنے والا بنوں۔“
(خطبہ جمعہ فرمودہ 6؍جون 2014ء)
حضرت اُمّ طاہرؓ ہروقت کے لیے خود بھی دعا کرتیں اور دوسروں سے یہ دعا کرواتیں کہ
’ ’میرا ایک ہی بیٹا ہے، خدا کرے یہ خادم دین ہو۔ مَیں نے اسے خدا کے راستہ میں وقف کیا ہے‘۔ پھر آنسوؤں کے ساتھ یہ جملے بار بار دہراتیں کہ خدایا ! میرا طاری تیرا پرستار ہو، یہ عابدو زاہد ہو، اسے خادم دین بنائیو! اسے اپنے عشق اور حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق اور حضرت مسیح موعودؑ کے عشق میں سرشار کرنا۔‘‘
( سیرت حضرت اُم طاہرؓ از ملک صلاح الدین صفحہ 224 )
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اپنے ایک مکتوب میں فرماتے ہیں :
’’ مجھے بھی خدا نے خبر دی ہے کہ مَیں تجھے ایک ایسا لڑکادوں گا جو دین کا ناصر ہو گا اور اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہو گا ‘‘
(تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ320)
”جس کا نزول بہت مبارک اور جلالِ الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نُور آتا ہے نُور۔ جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی رُوح ڈالیں گے اور خُدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔‘‘
(اشتہار 20 ؍فروری 1886ء)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت حکیم مولوی نورالدین خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا:
’’ میرے مقام کی محبت کے لیے وہ اپنے اصلی وطن کی یاد کو چھوڑ دیتا ہے اور میرے ہر ایک امر میں میری اس طرح پیروی کرتا ہے جیسے نبض کی حرکت تنفس کی حرکت کی پیروی کرتی ہےاور مَیں اس کو اپنی رضا میں فانیوں کی طرح دیکھتا ہوں ‘‘
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ ن فرماتے ہیں:
’’مسلم امّہ کا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنا احمدیت کی فتح سے ہی وابستہ ہے۔ ظلم و تعدی کا خاتمہ اسی سے وابستہ ہے۔ پس چاہے فلسطینیوں کو ظلم سے آزاد کروانا ہے یا مسلمانوں کو ان کے اپنے ظالم حکمرانوں سے آزاد کروانا ہے اس کی ضمانت صرف احمدیوں کی دعائیں ہی بن سکتی ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 8؍اگست 2014ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ ن فرماتے ہیں:
”اپنے آپ کو حضرت مسیح موعودؑ سے جوڑ کر اور پھر خلافت سے کامل اطاعت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یہی چیز ہے جو جماعت میں مظبوطی اور روحانیت میں ترقی کا باعث بنے گی۔ خلافت کی پہچان اور اس کا صحیح علم اور ادراک اس طرح جماعت میں پیدا ہونا چاہئے کہ خلیفہ وقت کے ہر فیصلے کو بخوشی قبول کرنے والے ہوں۔“
(الفضل 18 مارچ 2014ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’فتنے ہیں اور ضرور ہیں مگر تم جو اپنے آپ کو اتحاد کی رسی میں جکڑ چکے ہو خوش ہو جاؤ کہ انجام تمہارے لئے بہتر ہوگا ۔ تم خدا کی ایک برگزیدہ قوم ہو گے اور اس کے فضل کی بارشیں ان شاء اللہ تم پر اس زور سے برسیں گی کہ تم حیران ہو جاؤ گے۔‘‘
(کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے از انوار العلوم جلد 2 صفحہ 19)