اُم المؤمنین حضرت جویریہ بنتِ حارث رضی اللہ عنہا

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا ایک بہادر ، ذہین اور سادہ مزاج خاتون تھیں حالانکہ آپؓ کی پرورش ایک امیر گھرانے میں ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بالکل سادگی میں باقی ازواج مطہرات کی طرح آپؓ نے بھی اپنی زندگی گزاری ۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے دل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنے کا بہت جذبہ تھا ۔آپؓ اپنا اکثر وقت عبادت میں گزارتی تھیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے حجرے کے ایک کونے کو مخصوص کر لیا تھا ۔

مزید پڑھیں

اُمّ المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت زینب رضی الله عنہا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات سے فخریہ کہا کرتی تھیں کہ تمہارا نکاح تمہارے گھر والوں نے کیا اور میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپرکیا۔
(صحیح بخاری کتاب: التوحيد، باب: وکان عرشه علي الماء)

مزید پڑھیں

65 تقاریر برائے انصاراللّٰہ

مصنف نے کتاب ‘مشاہدات’ کی نویں جلد پیش کی، جس میں جماعت کے مقاصد کے مطابق مختلف عنوانات پر تقاریر شامل ہیں۔ یہ جلد خاص طور پر مجلس انصاراللہ اور خدام بھائیوں کی تعلیم وتربیت کے لئے تصنیف کی گئی ہے۔ کتاب میں شامل تقاریر کو مختلف عناوین سے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

خلافت کیا ہے اک فضلِ عظیم ربِّ رحمان ہے

ایک مراکشی دوست مصطفی صاحب نے لمبا عرصہ احمدیت کے بارے میں تحقیق کر کے بیعت کی ۔ کہتے ہیں میں نے بچپن سے ہی بہت سے علماء کی صحبت میں وقت گزارا ہے لیکن خلیفہ وقت کے خطبات نہ صرف قرآن کریم کی صحیح تفسیر ہیں بلکہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب لے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ خطبات سننے کے بعد مجھے نمازوں کا مزہ آنے لگا ہے۔ خدا تعالیٰ نے مجھے سچی خوابیں بھی دکھائی ہیں۔ احمدیت نے میری زندگی بدل دی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کا ذکر کرتے ہوئے موصوف آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔

مزید پڑھیں

اُمُّ المؤمنین حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا

علمی حیثیت میں اگرچہ تمام ازواج بلند مرتبہ تھیں، تاہم عائشہ اور ام سلمہ کا ان میں کوئی جواب نہیں تھا، چنانچہ محمود بن لبید کہتے ہیں،”آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج احادیث کا مخزن تھیں، تاہم عائشہ اور ام سلمہ کا ان میں کوئی حریف و مقابل نہ تھا۔“
( طبقات ابن سعد جلد 6 صفحہ 317)

مزید پڑھیں

اُمُّ المؤمنین حضرت زینبؓ بنتِ خزیمہ

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ حضرت زینب کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مزاج آشنائی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’ ایک دفعہ حضرت زینبؓ اپنے کپڑے گیری میں رنگنے لگیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باہر سے تشریف لائے اور کپڑے رنگتے ہوئے دیکھ کر واپس تشریف لے گئے ۔ حضرت زینبؓ تاڑ گئیں کہ آپ کس بات کی وجہ سے واپس تشریف لے گئے ہیں ۔ ہادیوں کے گھر میں ہر وقت الٰہی رنگن چڑھی رہتی ہے ۔ جس کا ذکر صِبۡغَۃَ اللّٰہِ ۚ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبۡغَۃً (البقرہ:139)میں ہے ۔ یہ رنگینیاں اس کے مقابل میں کیا چیز ہے ۔ پس یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ بناوٹ ، زیور اور لباس سے خوش نہیں ہوتا بلکہ نیک بیبیوں کی بناوٹ اور زیور ان کے نیک عمل ہیں۔ ‘‘
( خطبات نورصفحہ 226)

مزید پڑھیں

اُمّ المومنین حضرت حفصہ بنتِ عمر رضی اللہ عنہا

ایک مرتبہ حضرت جبرائیل نے حضرت حفصہؓ کے بارہ میں یہ الفاظ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہے
’’ وہ بہت عبادت کرنے والی بہت روزے رکھنے والی ہیں ۔اے محمد! وہ جنت میں آپؐ کی زوجہ ہیں ‘‘
(الاستیعاب )

مزید پڑھیں

اُمّ المومنین حضرت سودہ بنتِ زمعہ رضی اللہ عنہا

حضرت سودہ ؓ کے پاکیزہ اخلاق اور ان کی محبت کی تعریف کرتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ
’’ مَیں نے کسی عورت کو جذبہ رقابت سے خالی نہ دیکھا سوائے سودہؓ کے ۔‘‘
( مطہر عائلی زندگی صفحہ34-33)

مزید پڑھیں

اصلاحِ نفس

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ نفس کی پاکیزگی صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَیْبِ(الانبیاء:50) یعنی جو اپنے ربّ سے غیب میں ہونے کے باوجود ڈرتے ہیں۔ پس جب یہ حالت ہوتی ہے تو ان کی نمازیں بھی اور دوسری عبادتیں بھی اور دوسرے نیک اعمال بھی دل میں خداتعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے اس کی رضا کے حصول کے لئے ہوتے ہیں اور جب یہ حالت ہو، جب اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں ہو تو وہ انسان خود اپنے نفس کو پھر کبھی پاک نہیں ٹھہرا سکتا بلکہ ہر نیکی کو جو وہ بجا لاتا ہے اور ہر اس موقع کو جو نیکی بجالانےکا اس کو میسر آتا ہے خداتعالیٰ کے فضل پر محمول کرتا ہے۔ ‘‘
(خطبہ جمعہ 22مئی2009ء )

مزید پڑھیں

مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’جب ہم حضرت مسیح موعودؑ کے صحابہ کے واقعات پڑھتے ہیں یا سنتے ہیں تو ان کی نیک فطرت، ان کی صداقت کی پہچان کے لئے تڑپ، ان کی جان مال قربان کرنے کے لئےتڑپ اور کوشش اور ان کے حضرت مسیح موعودؑ سے عشق و محبت کے اپنے اپنے ذوق اور سمجھ کے مطابق معیار اور اس کا اظہار نظر آتا ہے۔ غرضیکہ یہ وہ آخرین تھے جو پہلوں سے ملنے کے لئے اپنے اپنے رنگ میں حق ادا کرنے والے بننے کےلئے کوشش کرنے والے تھے۔ ہر ایک کا اپنا انداز تھا اور ان کو دیکھنے والوں اور ان سے قریبی تعلق والوں نے بھی ان صحابہ کے ہر انداز اور اخلاق و کردار سے اپنے اپنے رنگ میں نصیحت حاصل کی یا بعض باتوں سے نتائج أخذ کئے‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 7 اگست 2015ء)

مزید پڑھیں