میری آل (حضرت محمدؐ)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ’’مَنْ آلُکَ‘‘ کہ آپ کی آل سے کیا مراد ہے ؟۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کُلُّ تَقِیٍّ “ کہ ہر نیک اور متقی آدمی میری آل میں شامل ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ اِنْ اَوْلِیَاءُہٗ اِلَّا الْمُتَّقُونَ (الانفال: 35) جس کا ترجمہ یہ ہے کہ حرمت والی مسجد کے حقیقی وارث متقیوں کے سوا اور کوئی نہیں ۔
(حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر996 (

مزید پڑھیں

صحابۂ رسولؐ کا عشق رسولؐ

ہجرتِ مدینہ کے وقت حضرت ابوبکرؓ نے ایک مشرک سراقہ کو تعاقب میں آتے دیکھا تو رو پڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ پوچھی تو عرض کیا۔
’’اپنی جان کے خوف سے نہیں آپؐ کی وجہ سے روتا ہوں کہ میرے آقا کو کوئی گزند نہ پہنچے۔‘‘
(مسند احمد جلد1 صفحہ 2مصر)

مزید پڑھیں

اَلْخَلْقُ عِیَالُ اللّٰهِ ( سیرتِ رسولؐ کے آئینہ میں)

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’قرابت نوازی ،حسن خلق اور خوشگوار ہمسائیگی سے بستیاں آباد ہوتی ہیں اور عمریں دراز ہوتی ہیں۔‘‘

مزید پڑھیں

حضور اکرمؐ کے ارفع و اعلیٰ اخلاق کی روشنی میں بنیادی اخلاق کی تعلیم (خلاصہ خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ )

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”سب سے اکمل نمونہ اور نظیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔جو جمیع اخلاق میں کامل تھے۔ اسی لئے آپ کی شان میں فرمایا۔ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔“
( ملفوظات جلد 1صفحہ 133 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

پاک محمدمصطفیؐ  نبیوں کا سردار

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ نبی دیا، جو خَاتَمُ المؤمنینؐ، خَاتَمُ العارِفینؐ اور خَاتَمُ النَّبِیِّیْنؐہے اور اسی طرح پروہ کتاب اس پر نازل کی جو جَامِع الکُتُب اور خَاتَمُ.الکُتب.ہے۔ “
(ملفوظات جلداول صفحہ311 )

مزید پڑھیں

صحابیاتِ رسولؐ کی قربانیوں کے چند ایمان افروز واقعات(تقریر نمبر2)

حضرت ام شریکؓ نے جب اسلام قبول کیا تو مشرک رشتہ داروں نے ان کو ان کے گھر سے پکڑ لیا اور ان کو ایک بدترین مست اور شریر اونٹ پر سوار کر دیا اور ان کو شہد کے ساتھ روٹی دیتے رہے اور پینے کے لیے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیتے تھے اور انہیں سخت دھوپ میں کھڑا کر دیتے تھے جس سے ان کے ہوش و ہواس جاتے رہے۔ انہوں نے تین دن تک یہی سلوک روا رکھا اور پھر کہنے لگے جس دین پر تم قائم ہواس کو چھوڑ دو۔ حضرت ام شریکؓ کہتی ہیں کہ مَیں ان کی بات نہ سمجھ سکی۔ ہاں چند کلمے سن لیے۔ پھر مجھے انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کر کے بتایا گیا کہ توحید کو چھوڑ دو۔ فرماتی ہیں ۔مَیں نے کہا اللہ کی قسم! میں توحید پر قائم ہوں چاہے مر جاؤں۔
(طبقات الکبریٰ جلد 8 صفحہ 123 )

مزید پڑھیں

صحابیاتِ رسولؐ کی قربانیوں کے چند ایمان افروز واقعات ( بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ)(تقریر نمبر 1)

ام سنان اسلمیہ کہتی ہیں مَیں نے حضرت عائشہؓ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک کپڑا بچھا ہوا دیکھا جس میں خوشبو، بازو بند، کنگن، کانٹے اور انگوٹھیاں تھیں اور پازیب بھی تھیں جو سب عورتوں نے مسلمانوں کے جہاد کے لیے دی تھیں۔
(کتاب المغازی للواقدی جلد3 صفحہ 992 )

مزید پڑھیں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بطورمنصفِ اعظم

مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد یہاں آباد یہود، مشرکین اور دیگرعرب قبائلِ مدینہ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معاہدہ کیا جو’’میثاقِ مدینہ‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ یہ میثاق عدل وانصاف اور آزادی مذہب کی بہترین ضمانت ہےجس سے اندازہ کیاجاسکتاہے کہ مظلوم مسلمانوں نے طاقت حاصل ہوتے ہی اپنی اسلامی ریاست میں عدل وانصاف کا سکّہ کس طرح رائج کرکے دکھایا۔یہوداوردیگر قبائل مدینہ سے کیےگئے اس معاہدے کےمطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ریاست مدینہ کےسربراہ اعلیٰ تھے اور جملہ تنازعات کےفیصلوں کا اختیار آپؐ کو حاصل تھا۔آپؐ نے خوبصورت عادلانہ فیصلے فرمائے

مزید پڑھیں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ کے بارے میں فرماتے ہیں :
”تُو اے نبی! ایک خُلق عظیم پر مخلوق و مفطور ہے یعنے اپنی ذات میں تمام مکارمِ اخلاق کا ایسا متمَّم و مکمل ہے کہ اس پر زیادت متصور نہیں کیونکہ لفظ عَظِیْم محاورۂ عرب میں اس چیز کی صفت میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا نوعی کمال پورا پورا حاصل ہو……بعضوں نے کہا ہے کہ عَظِیْم وہ چیز ہےجس کی عظمت اس حد تک پہنچ جائے کہ حیطۂ ادراک سےباہرہو۔ “
(براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 194 بقیہ حاشیہ نمبر 11)

مزید پڑھیں

وصالُ النبی صلی اللہ علیہ وسلم

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہؓ سے فرمایا تھا کہ
’’جبریل ہمیشہ رمضان میں ایک مرتبہ مجھ سے قرآن شریف کا دَور کیا کرتے تھے لیکن اِس سال دو مرتبہ کیا اور مَیں جانتا ہوں کہ یہ اِس لیے ہوا ہے کہ میری وفات قریب ہی ہونے والی ہے ۔ “
( بخاری فضائل القرآن )

مزید پڑھیں