چھوٹی چیزیں،بڑے نتائج(احادیث کی روشنی میں)

(احادیث کی روشنی میں)
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اَلُسَّعِیْدُ مَنْ وُعِظَ بِغَیْرِہٖ
( چہل احادیث )
کہ نیک بخت ،خوش نصیب اور سعادت مند وہ ہے جو غیروں کے حال سے نصیحت پکڑے ۔

مزید پڑھیں
brown and black hardbound book

چھوٹی چیزیں، بڑے نتائج(قرآن کریم کے اعتبار سے)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’خُلق کو پیدا کرنے کے لئے، رفق کے حسن کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرۃ :84) یہ بات ہے اس پر عمل کرنا چاہئے۔ یہ ہے اسلام کے اعلیٰ خُلق کا معیار کہ لوگوں کو نیک باتیں کہو۔ پیار سے، ملاطفت سے پیش آؤ۔ لوگوں کو نیک باتیں کہنے کے لئے پہلے اپنے اندر بھی تو وہ نیکیاں پیدا کرنی ہوں گی، وہ خُلق پیدا کرنے ہوں گے تبھی تو اثر ہو گا۔ دوہرے معیار تو نیک نتیجے پیدا نہیں کرتے۔ پھر تعلیم دی دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنے کی اور اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ خود پسندی میں مبتلا نہ ہوجاؤ۔ عین ممکن ہے کہ جس کو تم اپنے سے کم تر سمجھ رہے ہو وہ تمہارے سے بہتر ہوں۔ جب یہ احساس ہو گا تو پھر اپنے اندر بھی بہتر تبدیلیاں پیدا کرنے کی طرف توجہ پیداہو گی۔‘‘
(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 4اپریل 2008ء )

مزید پڑھیں
brown and black hardbound book

تلاوت قرآن کریم کی اہمیت و برکات(ارشادات خلفائے احمدیت کی روشنی میں)

حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”قرآن کریم پڑھنے کے بعد سوچنے کی عادت ڈالو اور سوچنے کے بعد اس پر عمل کرو۔اگر تم ایسا کروگے تو ایک زندہ فعال قوم نظر آنے لگ جاؤ گے۔ “
(تفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 640 )

مزید پڑھیں
brown book on brown wooden table

تلاوتِ قرآنِ کریم کی اہمیت وفضیلت اور آداب

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’قرآن شریف کی تلاوت کی اصل غرض تو یہ ہے کہ اس کے حقائق اور معارف پر اطلاع ملے اور انسان ایک تبدیلی اپنے اندر پیدا کرے۔‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ 285ایڈیشن 1988ء)

مزید پڑھیں

امثال الاحادیث(تقریرنمبر2)

حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کعبہ کا دروازہ پکڑ کر یوں بیان کیا
’’ مَیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یاد رکھو! تمہارے حق میں میرے اہلِ بیت کی مثال وہی ہے جو نوح کی کشتی کی ہے جو اس میں سوار ہو گیا اس نے نجات پالی اور جو شخص اس کشتی میں سوار ہونے سے رہ گیا وہ ہلاک ہوا ۔ ‘‘
( احمد فی فضائل الصحابۃ )

مزید پڑھیں

امثال الحدیث(تقریر نمبر 1)

حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرو ۔ اس کی تلاوت کرتے رہو ۔ یاد رکھو! قرآن کریم کی مثال جب کوئی اس کی تعلیم حاصل کرتا ہے اس تھیلے کی مانند ہے جو کستوری سے بھرا ہوا ہو اور اس کی خوشبو ہر جگہ مہک رہی ہو اور اس شخص کی مثال جس نے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کی پھر وہ غافل ہو کر سویا رہا حالانکہ قرآن کریم اس کے دل میں اس تھیلے کی مانند ہے جو کستوری سے بھرا ہوا ہے لیکن اس کا منہ رسی سے باندھا گیا ہے ‘‘
( ترمذی فضائل القرآن )

مزید پڑھیں

صدقہ و خیرات کی اہمیت و برکات(از روئے احادیث)

ہمارے آقاحضورصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
”انسان کے لیے ہر ایک جوڑ پر صدقہ دینا لازم ہے۔ اسی طرح ہر روز جس میں سورج طلوع ہوتا ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان صلح کرانا بھی صدقہ ہے۔ کسی کو سواری پر سوارکرانا یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھنے میں مدد دینا بھی صدقہ ہے۔ طیب بات( پاک صاف کلمہ) کہنا بھی صدقہ ہے ۔ ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے ۔ اسی طرح تکلیف دہ چیز کو راستہ سے ہٹا دینابھی صدقہ ہے ۔“
(صحیح البخاری کِتابُ الۡجَہاد وَالسّیۡر بَابُ مَنۡ اَخَذَ بِالرِّکَابِ وَنَحۡوِ)

مزید پڑھیں
blue flower in tilt shift lens

انفاق فی سبیل اللہ از روئے قرآن

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں انفاق فی سبیل اللہ کے متعلق فرماتا ہے :
قُلۡ لِّعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یُقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَلَا خِلٰلٌ
( ابراہیم:32)
ترجمہ: تو میرے اُن بندوں سے کہہ دے جو ایمان لائے ہیں کہ وہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے مخفی طور پر بھی اور علانیہ طور پر بھی خرچ کریں پیشتر اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں کوئی خریدوفروخت نہیں ہوگی اور نہ کوئی دوستی (کام آئے گی)۔

مزید پڑھیں

حیوانوں کی دنیا اور ان کے متعلق اسلامی تعلیم( احادیث کی روشنی میں)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ جب تم سبزہ والی زمین میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حصہ دو۔‘‘
(مسلم: باب مراعاۃ مصلحۃ الدروس)

مزید پڑھیں