حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7 ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر9)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مَیں پھر کہتا ہوں کہ مسلمان اور خصوصاً ہماری جماعت کو ہرگز ہرگز دعا کی بے قدری نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ یہ دعا تو ہے جس پر مسلمانوں کو ناز کرنا چاہیے اور دوسرے مذاہب کے آگے تودعا کے لئے گندے پتھر پڑے ہوئے ہیں اور وہ توجہ نہیں کر سکتے ۔ مَیں نے ابھی بیان کیا ہے کہ ایک عیسائی جو خونِ مسیح پر ایمان لا کر سارے گناہوں کو معاف شدہ سمجھتا ہے ۔ اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ دعا کرتا رہے اور ایک ہندو جو یقین کرتا ہے کہ توبہ قبول ہی نہیں ہوتی اور تناسخ کے چکّر سے رہائی ہی نہیں ہے وہ کیوں دعا کے واسطے ٹکڑیں مارتا رہے گا وہ تو یقیناً سمجھتا ہے کہ کُتّے، بلّے، بندر ، سؤر بننے سے چارہ ہی نہیں ہے ۔ اس لئے یاد رکھو کہ یہ اسلام کا فخر ہے اور ناز ہے کہ اس میں دعا کی تعلیم ہے اس میں کبھی سُستی نہ کرو اور نہ اس سے تھکو۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 267-268 )
