حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہرایک سے نیک سلوک کرو۔ حکّام کی اطاعت اور وفاداری ہر مُسلمان کا فرض ہے وہ ہماری حفاظت کرتے ہیں اور ہر قسم کی مذہبی آزادی ہمیں دے رکھی ہے۔ مَیں اِس کو بڑی بے ایمانی سمجھتا ہوں کہ گورنمنٹ کی اطاعت اوروفاداری سچّے دل سے نہ کی جائے۔ برادری کے حقُوق ہیں۔ اُن سے بھی نیک سلوک کرنا چاہئے۔ البتہ اُن باتوں میں جو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے خلاف ہیں، اُن سے الگ رہنا چاہئے۔ ہمارا اصول تو یہ ہے کہ ہرایک سے نیکی کرو اور خداتعالیٰ کی کُل مخلوق سے احسان کرو۔ “
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 459-460)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”تہجد میں خاص کر اُٹھو اور ذوق اور شوق سے ادا کرو۔ درمیانی نمازوں میں بہ باعث ملازمت کے ابتلا آجاتا ہے۔ رازق اللہ تعالیٰ ہے۔ نماز اپنے وقت پر ادا کرنی چاہیے۔ ظہر و عصر کبھی کبھی جمع ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ضعیف لوگ ہوں گے ۔ اس لئے یہ گنجائش رکھ دی ۔ مگر یہ گنجائش تین نمازوں کے جمع کرنے میں نہیں ہوسکتی ۔ جبکہ ملازمت میں اور دوسرے کئی امور میں لوگ سزا پاتے ہیں (اور موردِ عتاب حکام ہوتے ہیں) تو اگر اللہ تعالیٰ کے لئے تکلیف اُٹھاویں تو کیاخوب ہے“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 6)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” اس لئے اس سے پیشتر کہ عذاب الٰہی آکر توبہ کا دروازہ بند کردے توبہ کرو۔ جبکہ دُنیا کے قانون سے اس قدر ڈر پیدا ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ خداتعالیٰ کے قانون سے نہ ڈریں۔ جب بَلا سر پر آپڑے تو اس کا مزہ چکھنا ہی پڑتا ہے۔ چاہئے کہ ہر ایک شخص تہجد میں اُٹھنے کی کوشش کرے اور پانچ وقت کی نمازوں میں بھی قنوت ملادیں ۔ ہرایک خدا کو ناراض کرنے والی باتوں سے توبہ کریں ۔ توبہ سے یہ مراد ہے کہ ان تمام بدکاریوں اور خدا کی نارضا مندی کے باعثوں کو چھوڑ کر ایک سچی تبدیلی کریں اور آگے قدم رکھیں اور تقویٰ اختیار کریں ۔ اس میں بھی خدا کا رحم ہوتا ہے ۔ عاداتِ انسانی کو شائستہ کریں۔ غضب نہ ہو۔ تواضع اور انکسار اس کی جگہ لے لے ۔ اخلاق کی درستی کے ساتھ اپنے مقدور کے موافق صدقات کا دینا بھی اختیار کرو۔ یُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّیَتِیۡمًا وَّاَسِیۡرًا (الدھر: 9)یعنی خدا کی رضا کے لئے مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خاص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہم دیتے ہیں اور اُس دن سے ہم ڈرتے ہیں جونہایت ہی ہَولناک ہے۔قصّہ مختصر دُعا سے، توبہ سے کام لواور صدقات دیتے رہو ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے ساتھ تم سے معاملہ کرے۔ “
( ملفوظات جلد اول صفحہ 208 ایڈیشن 1984ء )

مزید پڑھیں

”اے جُنوں ! کچھ کام کر بے کار ہیں عقلوں کے وار “

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اطاعت بھی ایک موت ہوتی ہے جیسے ایک زندہ آدمی کی کھال اتاری جائے ویسی ہی اطاعت ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 74)

مزید پڑھیں

عہدِ بیعت ،اہمیت اور اِس  کے تقاضے

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’درحقیقت وہی بیعت کرتا ہے جس کی پہلی زندگی پر موت وارد ہو جاتی ہے اور ایک نئی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ ہر ایک امر میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد دوم صفحہ257 )

مزید پڑھیں

خلافت اور ہمارا عہدِ بیعت

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’بیعت سے مراد خدا تعالیٰ کو جان سپرد کرنا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہم نے اپنی جان آج خدا تعالیٰ کے ہاتھ بیچ دی۔ یہ بالکل غلط ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں چل کر انجام کار کوئی شخص نقصان اٹھاوے۔ صادق کبھی نقصان نہیں اٹھا سکتا۔ نقصان اسی کا ہے جو کاذب ہے۔ جو دنیا کے لئے بیعت کو اور عہد کو جو اللہ تعالیٰ سے اُس نے کیا ہے توڑ رہا ہے۔ وہ شخص جو محض دنیا کے خوف سے ایسے امور کا مرتکب ہو رہا ہے، وہ یاد رکھے بوقت موت کوئی حاکم یا بادشاہ اُسے نہ چھڑا سکے گا۔ اُس نے احکم الحاکمین کے پاس جانا ہے جو اُس سے دریافت کرے گا کہ تُو نے میرا پاس کیوں نہیں کیا؟ اِس لئے ہر مومن کے لئے ضروری ہے کہ خدا جو ملک السموٰات والارض ہے اس پر ایمان لاوے اور سچی توبہ کرے۔‘‘
(ملفوظات جلدہفتم صفحہ29-30 )

مزید پڑھیں

خلافت کی بیعت کیوں ضروری ہے؟ ( تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام صرف نماز پڑھا دینا اور یا پھر بیعت لے لینا ہے۔ یہ کام تو ایک مُلّاں بھی کر سکتا ہے اس کے لئے کسی خلیفے کی ضرورت نہیں اور مَیں اس قسم کی بیعت پر تھوکتا بھی نہیں۔ بیعت وہ ہے جس میں کامل اطاعت کی جائے اور خلیفہ کے کسی ایک حکم سے بھی انحراف نہ کیا جائے۔‘‘
(الفرقان خلافت نمبرمئی جون 1986ء صفحہ28)

مزید پڑھیں

خلافت کی بیعت کیوں ضروری ہے؟ ( تقریر نمبر 1)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَن فَارَقَ الجَمَاعَۃَ شِبرًا فَمَاتَ اِلَّامَاتَ مِیْتَۃً جَاھِلِیَّۃَ ۔
کہ جس نے جماعت سے ایک بالشت بھر بھی علیحدگی اختیار کی اور اس حال میں مر گیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔
(بخاری کتاب الفتن باب قول النبیؐ سترون بعدی اموراتنکرونھا)

مزید پڑھیں

طاعت در معروف

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’پس جب نبی اللہ تعالیٰ کے احکامات سے پرے نہیں ہٹتا توخلیفہ بھی جو نبی کے بعد اس کے مشن کو چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنین کی ایک جماعت کےذریعہ مقرر ہوتاہے، وہ بھی اسی تعلیم کو، انہیں احکامات کو آگے چلاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہم تک پہنچائےاور اس زمانے میں آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وضاحت کر کے ہمیں بتائے۔تو اب اسی نظام خلافت کے مطابق جو آنحضور صلی.اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ جماعت میں قائم ہوا ہےاور ان شا ءاللہ قیامت تک قائم رہے گا۔ ان میں شریعت اور عقل کے مطابق ہی فیصلے ہوتے رہے ہیں اور ان شا ءاللہ ہوتے رہیں گے اور یہی معروف فیصلے ہیں۔‘‘
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ 172 ایڈیشن2007ء)

مزید پڑھیں

بیعت کی حقیقت کو جاننے کی ضرورت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”اب وقت تنگ ہے مَیں بار بار یہی نصیحت کرتا ہوں کہ کوئی جوان یہ بھروسہ نہ کرے کہ اٹھارہ یا انیس سال کی عمر ہے اور ابھی بہت وقت باقی ہے۔ تندرست اپنی تندرستی اور صحت پر ناز نہ کرے اسی طرح اور کوئی شخص جو عمدہ حالت رکھتا ہے وہ اپنی وجاہت پر بھروسہ نہ کرے۔ زمانہ انقلاب میں ہے، یہ آخری زمانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ صادق اور کاذب کو آزمانا چاہتا ہے۔ اِس وقت صدق و وفا کے دکھانے کا وقت ہے اور آخری موقع دیا گیا ہے۔ یہ وقت پھر ہاتھ نہ آئے گا۔ یہ وہ وقت ہے کہ تمام نبیوں کی پیشگوئیاں یہاں آ کر ختم ہو جاتی ہیں اس لئے صدق اور خدمت کا یہ آخری موقع ہے جو نوع انسان کو دیا گیا ہے۔ اب اس کے بعد کوئی موقع نہ ہو گا۔ بڑا ہی بد قسمت وہ ہے جو اس موقع کو کھو دے۔
نِرا زبان سے بیعت کا اقرار کرنا کچھ چیز نہیں ہے بلکہ کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگو کہ وہ تمہیں صادق بنا دے۔ اس میں کاہلی اور سُستی سے کام نہ لو بلکہ مستعد ہو جاؤ اور اس تعلیم پر جو مَیں پیش کر چکا ہوں۔ عمل کرنے کے لئے کوشش کرو اور اس راہ پر چلو جو مَیں نے پیش کی ہے۔ عبد اللطیف کے نمونہ کو ہمیشہ مدِّ نظر رکھو کہ اس سے کس طرح پر صادقوں اور وفاداروں کی علامتیں ظاہر ہوئی ہیں۔ یہ نمونہ خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے پیش کیا ہے۔“
(ملفوظات جلد6 صفحہ263-264 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں