حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” گناہوں کا چھوڑنا تو کوئی بڑی بات نہیں ہے یہ ایک ذلیل کام ہے اگر کوئی کہے کہ مَیں چوری نہیں کرتا ۔زنا نہیں کرتا ۔ خون نہیں کرتا اور فسق وفجور نہیں کرتا تو کو ئی خوبی کی بات نہیں اور نہ خدا پر یہ احسان ہے کیونکہ اگر وہ ان باتوں کا مرتکب نہیں ہوتا تو ان کے بدنتائج سے بھی وہی بچا ہوا ہے۔کسی کو اس سے کیا ؟اگر چوری کرتا گرفتار ہوتا سزا پاتا ۔اس قسم کی نیکی کو نیکی نہیں کہا کرتے۔“
(ملفوظات جلد 6 صفحہ180 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ اگر کوئی شخص بیعت کر کے یہ خیال کرتا ہے کہ ہم پر احسان کرتا ہے تو یاد رکھیں کہ ہم پر کوئی احسان نہیں بلکہ یہ خدا کا اس پر احسان ہے کہ اُس نے یہ موقع اُسے نصیب کیا ۔سب لوگ ایک ہلاکت کے کنارے پر پہنچے ہوئے تھے۔ دین کا نام و نشان نہ تھا اور تباہ ہو رہے تھے ۔ خدا نے اُس کی دستگیری کی کہ یہ سلسلہ قائم کیا۔ اب جو اِس مائدہ سے محروم رہتا ہے وہ بے نصیب ہے لیکن جو اس کی طرف آوے اسے چاہیے کہ اپنی پوری کوشش کے بعد دعا سے کام لیوے ۔ جو شخص اس خیال سے آتا ہے کہ آزمائش کرے کہ فلاں سچا ہے یا جھوٹا وہ ہمیشہ محروم رہتا ہے ۔آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی ایسی نظیر نہ پیش کر سکو گے کہ فلاں شخص فلاں نبی کے پاس آزمائش کے لیے آیا اور پھر اُسے ایمان نصیب ہوا ہو۔ پس چاہیے کہ یہ خدا کے آگے روئے اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر گریہ وزاری کرے کہ خدا اُسے حق دکھا دے ۔‘‘
( ملفوظات جلد 6 صفحہ220-219)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ہماری جماعت کو اس بات کا بہت خیال چاہیے کہ اگر ایک شخص فوت ہوجاوے تو حتّی الوسع سب جماعت کو اس کے جنازہ میں شامل ہونا چاہیے اور ہمسایہ کی ہمدردی کرنی چاہیے ۔ یہ تمام باتیں حقوق العباد میں داخل ہیں ۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ جس تعلیم اور درجہ تک خدا تعالیٰ پہنچانا چاہتا ہے اس میں ابھی بہت کمزوری ہے ۔ صرف دعویٰ ہی دعویٰ نہ ہونا چاہیے کہ ہم ایمان دار ہیں بلکہ اس ایمان کو طلب کرنا چاہیے جسے خدا چاہتا ہے۔ بھائیوں کے حقوق کو اور ہمسائیوں کے حقوق کو شناخت کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ زبان سے کہہ لینا کہ ہم جانتے ہیں بیشک آسان ہے مگر سچی ہمدردی اور اخوّت کو بَرت کر دکھلانا مشکل ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ تمام حرکات، اعمال، افعال کے لیے ایمان مِثل ایک انجن کے ہے ۔ جب ایمان ہوتا ہے تو سب حقوق خود بخود نظر آتے جاتے ہیں اور بڑے بڑے اعمال اور ہمدردی خود ہی انسان کرنے لگتا ہے ۔ ایمان کا تُخم آہستہ آہستہ ترقی کرتا ہے لیکن یہ ہر ایک کے نصیب میں نہیں ہوتا ۔‘‘
( ملفوظات جلد6 صفحہ107)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ رسول وہ ہوتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات ہوتے ہیں۔ پس جو شخص اس کا انکار کرتا ہے وہ بہت خطرناک جرم کا مرتکب ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ شریعت کے سارے سلسلہ کو باطل کرنا چاہتا ہے اور حِلّت و حرمت کی قید اٹھا کر اباحت کا مسئلہ پھیلانا چاہتا ہے اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیسے نجات کا مانع نہ ہو۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو لاانتہا برکات اور فیوض لے کر آیا ہے اس کا انکار ہو اور پھر نجات کی امید۔ اس کا انکار کرنا ساری بدیوں اور بدمعاشیوں کو جائز سمجھنا ہے کیونکہ وہ ان کو حرام ٹھہراتا ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد6 صفحہ89-88)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے بڑھ کر کوئی نہیں ہو سکتا مگر تاہم آپؐ کی بیویاں سب کام کر لیا کرتی تھیں ۔جھاڑو بھی دے لیا کرتی تھیں اور ساتھ اس کے عبادت بھی کرتی تھیں۔ چنانچہ ایک بیوی نے اپنی حفاظت کے واسطے ایک رسا لٹکا رکھا تھا کہ عبادت میں اُونگھ نہ آئے۔ عورتوں کے لیے ایک ٹکڑا عبادت کا خاوندوں کا حق ادا کرنا ہے اور ایک ٹکڑا عبادت کا خدا کا شکر بجا لانا ہے۔ خدا کا شکر کرنا اور خدا کی تعریف کرنی یہ بھی عبادت ہے اور دوسرا ٹکڑا عبادت کا نماز کو ادا کرنا ہے ۔“
( ملفوظات جلد6 صفحہ53)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ ہر ایک شۓ کی ایک اُمّ ہوتی ہے ۔ مَیں نے سوچا کہ جو انعامات ہیں اُن کی اُمّ کیا ہے ؟ خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ اُن کی اُمّ اُدۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ( المومن:61) ہے ۔ کوئی انسان بدی سے بچ نہیں سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو ۔ پس اُدۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ فرما کر یہ جتلا دیا کہ عاصم وہی ہے اُسی کی طرف تم رجوع کرو۔ ‘‘
( ملفوظات جلد6 صفحہ 3)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر10)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” کوئی مشکل مشکل اور کوئی مصیبت مصیبت رہ سکتی ہی نہیں اگر کوئی شخص استقامت اور صبر اپنا شیوا کر لے اور خدا تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کرے
خدا داری چہ غم داری۔‘‘
( ملفوظات جلد5 صفحہ 274)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر9)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’سود اور قمار بازی کو الگ کر کے دوسرے اقراروں اور ذمہ داریوں کو شریعت نے صحیح قرار دیا ہے ۔ قمار بازی میں ذمہ داری نہیں ہوتی۔ دنیا کے کاروبار میں ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ دوسرے ان تمام سوالوں میں اس امر کا خیال بھی رکھنا چاہیے کہ قرآن شریف میں حکم ہے کہ بہت کھوج نکال کر مسائل نہ پوچھنے چاہیئں ۔ مثلاً اب کوئی دعوت کھانے جاوے اور اسی خیال میں لگ جاوے کہ کسی وقت حرام کا پیسہ ان کے گھر میں آیا ہوگا پھر اس طرح تو آخر کار دعوتوں کا کھانا ہی بند ہو جاوے گا۔ خدا کا نام ستّار بھی ہے ورنہ دنیا میں عام طور پر راست باز کم ہوتے ہیں مستور الحال بہت ہوتے ہیں۔ یہ بھی قران میں لکھا ہےوَلَا تَجَسَّسُوْا یعنی تجسّس مت کیا کرو ورنہ اس طرح تم مشقت میں پڑو گے۔“
( ملفوظات جلد5 صفحہ223)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر8)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” بہترین دعا وہ ہوتی ہے جو جامع ہو تمام خیروں کی اور مانع ہو تمام مضرّات کی۔ اس لئے اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ کی دُعا میں آدمؑ سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک کُل منعم علیہم لوگوں کے انعامات کے حصول کی دعا ہے اور غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ میں ہر قسم کی مضرّتوں سے بچنے کی دُعا ہے ۔ چونکہ مغضوب سے مراد یہود اور ضالین سے مراد نصاریٰ بالاتفاق ہیں تو اس دعا کی تعلیم کا منشا صاف ہے کہ یہود نے جیسے بے جا عداوت کی تھی ۔ مسیح موعود کے زمانہ میں مولوی لوگ بھی ویسا ہی کریں گے اور حدیثیں اس کی تائید کرتی ہیں یہاں تک کہ وہ یہودیوں کے قدم بہ قدم چلیں گے۔ “
(ملفوظات جلد 5 صفحہ 429-430)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ۔ ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعاً نہیں کی۔ مختصر الفاظ میں فرما دیا ہے۔ وَلَہُنَّ مِثۡلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ کہ جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر ہیں ۔ بعض لوگوں کاحال سُنا جاتا ہے کہ ان بیچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں۔ گالیاں دیتے ہیں۔حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پردہ کے حکم ایسے ناجائز طریق سے برتتے ہیں کہ ان کو زندہ درگور کردیتے ہیں۔ چاہئے کہ بیویوں سے خاوند کا ایسا تعلق ہو جیسے دو سچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔ انسان کے اخلاقِ فاضلہ اور خداتعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں ۔ اگر ان ہی سے اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خداتعالیٰ سے صلح ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہےخَیۡرُکُمۡ خَیۡرُکۡمۡ لِاَھۡلِہٖ ۔ تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کے لئے اچھا ہے۔“
(ملفوظات جلد 5 صفحہ 417-418)

مزید پڑھیں