جدید ایجادات کے منفی اثرات و مضرَّات
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
بے حیائی اور یاوہ گوئی سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ بے حیائی اور یاوہ گوئی کو پسند نہیں کرتا ۔
(مسند احمد بن حنبل)
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
بے حیائی اور یاوہ گوئی سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ بے حیائی اور یاوہ گوئی کو پسند نہیں کرتا ۔
(مسند احمد بن حنبل)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں:
”آجکل انٹر نیٹ اور ای میل …کے بارے میں …غور کریں کہ کس طرح استعمال کرنا ہے، کس طرح زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس کے غلط استعمال جو ہورہے ہیں تو اس کا صحیح استعمال کیوں نہ کیا جائے۔“
(خطبہ جمعہ 22؍دسمبر 2006ء)
تحریر اوّل کوئی تحریر لکھنا خواہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو آسان امر نہیں ہے۔ اس کے لیے اللہ کی مدد درکار ہوتی ہے ۔ اُس کے بغیر انسان کچھ نہیں لکھ سکتا ۔اگر خدا پر توکّل نہ ہو اور انسان اپنی تحریر کو اپنی طاقت کا سرچشمہ قراردے تو پھر تکبر کے ذرات […]
مزید پڑھیںحضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحبت صالحین کے متعلق میں فرماتے ہیں کہ
’’انسان ہمیشہ اپنے گندے جلیسوں کی و جہ سے تباہی کے گڑھے میں گرا کرتا ہے۔ وہ پہلے تواپنے دوستوں کی مصاحبت پر فخر کرتا ہے۔ مگر جب اسے کسی مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ لَیْتَنِیْ لَمْ اَ تَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا کہ اے کاش! مَیں فلاں کو اپنا دوست نہ بناتا اس نے تو مجھے گمراہ کردیا۔ اسی و جہ سے قرآن کریم نے مومنوں کو خاص طور پر نصیحت فرمائی ہے کہ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(التوبہ: 119)یعنی اے مومنو! تم ہمیشہ صادقوں کی معیت اختیار کیا کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے گردوپیش کی اشیاء سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا مگر وہ اپنی دوستی اور ہم نشینی کے لئے ان لوگوں کا انتخاب کرے گا جو اعلیٰ اخلاق کے مالک ہوں گے اور جن کا مطمح نظر بلند ہو گا تو لازماً وہ بھی اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرے گا اور رفتہ رفتہ اس کی یہ کوشش اس کے قدم کو اخلاقی بلندیوں کی طرف بڑھانے والی ثابت ہوگی۔ لیکن اگر وہ بُرے ساتھیوں کا انتخاب کرے گا تو وہ اسے کبھی راہ راست کی طرف نہیں لے جائیں گے۔ بلکہ اسے اخلاقی پستی میں دھکیلنے والے ثابت ہوں گے۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد ششم صفحہ481)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ کتب حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے متعلق فرماتے ہیں:
’’آپؑ کی کتب پڑھنے کی طرف بھی بہت توجہ دینی چاہئے یہ بات بھی صحبتِ صادقین کے زمرے میں آتی ہے کہ آپؑ کے علم کلام سے فائدہ اٹھایا جائے۔‘‘
(خطبات مسرور جلد سوم صفحہ394)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ )التوبہ (119:بھی اسی واسطے فرمایا گیا ہے۔ سادھ سنگت بھی ایک ضرب المثل ہے۔ پس یہ ضروری بات ہے کہ انسان باوجود علم کے اور باوجود قوّت۔وشوکت کے امام کے پاس ایک سادہ لوح کی طرح پڑا رہے تا اس پر عمدہ رنگت آوے۔ سفید کپڑا اچھا رنگا جاتا ہے اور جس میں اپنی خودی اور علم کا پہلے سے کوئی میل کچیل ہوتا ہے اس پر عمدہ رنگ نہیں چڑھتا۔ صادق کی معیت میں انسان کی عقدہ کشائی ہوتی ہے اور اسے نشانات دئے جاتے ہیں جن سے اس کا جسم منور اور روح تازہ ہوتی ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد4 صفحہ262۔263 ایڈیشن 2016ء)
حضرت مصلح موعودؓ کو اطاعتِ خلافت کا سرٹیفکیٹ تو خود حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ نے بایں الفاظ عطا فرمایا:
’’میاں محمود بالغ ہے اُس سے پوچھ لو کہ وہ سچا فرمانبردار ہے … مَیں خوب جانتا ہوں کہ وہ میرا سچا فرمانبردار ہے اور ایسا فرمانبردار ہے کہ تم (میں سے) ایک بھی نہیں۔‘‘
(اخبار بدر 4 جولائی 1912ء)
حضرت مسیح موعود علیہ السلا م فرماتے ہیں۔
” صالح آدمی کا اثر اس کی ذریت پر بھی پڑتا ہے اور وہ بھی اِس سے فائدہ اٹھاتی ہے… حضرت داؤد علیہ السلام نے کہا ہے کہ مَیں بچہ تھا بوڑھا ہوامَیں نے کسی خدا پرست کو ذلیل حالت میں نہیں دیکھا اور نہ اُس کے لڑکوں کو دیکھا کہ وہ ٹکڑے مانگتے ہوں۔گویا متقی کی اولاد کا بھی خدا تعالیٰ ذمہ دار ہوتا ہے، لیکن حدیث میں آیا ہے ظالم اپنے اہل و عیال پر بھی ظلم کرتا ہے کیونکہ ان پراس کا بد اثر پڑتا ہے۔“
(ملفوظات جلد اول صفحہ 117۔ 118 )
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’سب سے سیدھی راہ اور بڑا ذریعہ جو انوار یقین اور تواتر سے بھرا ہوا اور ہماری روحانی بھلائی اور ترقی کے لئے کامل رہنما ہے قرآن کریم ہے جو تمام دنیا کے دینی نزاعوں کے فیصلہ کرنے کا متکفل ہو کر آیا ہے جس کی آیت آیت اور لفظ لفظ ہزارہا طور کا تواتر اپنے ساتھ رکھتی ہے اور جس میں بہت سا آبِ حیات ہماری زندگی کے لیے بھرا ہوا ہے اور بہت سے نادر اور بیش قیمت جواہر اپنے اندر مخفی رکھتا ہے جو ہر روز ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔ یہی ایک روشن چراغ ہے جو عین سچائی کی راہیں دکھاتا ہے۔ بلاشبہ جن لوگوں کو راہ راست سے مناسبت ہے اور ایک قسم کا رشتہ ہے ان کا دل قرآنِ شریف کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے اور خدائے کریم نے اُن کے دل ہی اِس طرح کے بنا رکھے ہیں کہ وہ عاشق کی طرح اپنے اس محبوب کی طرف جھکتے ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ،روحانی خزائن جلد 3صفحہ381)
( تقریر نمبر1)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ سو تم ہوشیار رہو اور خدا کی تعلیم اور قرآن کی ہدایت کے برخلاف ایک قدم بھی نہ اٹھاؤ۔ مَیں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص قرآن کے 700 سَو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے حقیقی اور کامل نجات کی راہیں قرآن نے کھولیں اور باقی سب اس کے ظلّ تھے سو تم قرآن کو تدبُّر سے پڑھو اور اُس سے بہت ہی پیار کرو ایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو ۔ ‘‘
( کشتی نوح ،روحانی خزائن جلد19صفحہ 26)