ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر10)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’آجکل پردہ پر حملے کئے جاتے ہیں، لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ اسلامی پردہ سے مراد زنداں نہیں، بلکہ ایک قسم کی روک ہے کہ غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکے ۔ جب پَردہ ہو گا ٹھوکر سے بچیں گے۔‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ 22-21، ایڈیشن 2003ء)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر9)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’تم خدا کی پرستش کرو اور اس کے ساتھ کسی کو مت شریک ٹھہراؤ اور اپنے ماں باپ سے احسان کرو اور ان سے بھی احسان کرو جو تمہارے قرابتی ہیں (اس فقرے میں اولاد اور بھائی اور قریب اور دور کے تمام رشتہ دار آگئے) اور پھر فرمایا کہ یتیموں کے ساتھ بھی احسان کرو اور مسکینوں کے ساتھ بھی اور جو ایسے ہمسایہ ہوں، جو قرابت والے بھی ہوں اور ایسے ہمسائے ہوں جو محض اجنبی ہوں اور ایسے رفیق بھی جو کسی کام میں شریک ہوں یا کسی سفر میں شریک ہوں یا نماز میں شریک ہوں یا علم دین حاصل کرنے میں شریک ہوں اور وہ لوگ جو مسافر ہیں اور وہ تمام جاندار جو تمہارے قبضہ میں ہیں سب کے ساتھ احسان کرو۔ خدا ایسے شخص کو دوست نہیں رکھتا جو تکبّر کرنے والا اور شیخی مارنے والا ہو، جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا۔ ‘‘
(چشمۂ معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 209-208)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر8)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ دیکھو! دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک تو وہ جو اسلام قبول کرکے دنیا کے کاروبار اور تجارتوں میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ شیطان ان کے سر پر سوار ہوجاتا ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ تجارت کرنی منع ہے، صحابہ تجارتیں بھی کرتے تھے مگر دین کو دنیا پر مقدم رکھتے تھے۔ انہوں نے اسلام قبول کیا تو اسلام کے متعلق سچا علم جو یقین سے ان کے دلوں کو لبریز کردے انہوں نے حاصل کیا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ کسی میدان میں شیطان کے حملے سے نہیں ڈگمگائے۔‘‘
(ملفوظات جلد3صفحہ 194-193ایڈیشن 1984ء )

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’صدقہ۔ صِدْق سے لیا گیا ہے۔ جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں صدقہ دیتا ہے تو معلوم ہوا کہ خدا سے صِدق رکھتا ہے ۔ دعا کے ساتھ قلب پر سوزو گداز اور رقت پیدا ہوتی ہے۔ دعا میں ایک قربانی ہے۔ صدق اور دعااگر یہ دو باتیں میسر آ جائیں تو اکسیر ہے‘‘
(ملفوظات جلد 7صفحہ 87-88 حاشیہ۔ ایڈیشن 1985ء)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ قرآن شریف نے تمام عبادات اور اندرونی پاکیزگی کے اغراض اور خشوع اور خضوع کے مقاصد میں جسمانی طہارتوں اور جسمانی آداب اور جسمانی تعدیل کو بہت ملحوظ رکھا ہے اور غور کرنے کے وقت یہی فلاسفی نہایت صحیح معلوم ہوتی ہے کہ جسمانی اوضاع کا روح پر بہت قوی اثر ہے ۔“
( روحانی خزائن جلد10صفحہ 319)

مزید پڑھیں

”10تقاریربابت”متاعِ آسمانی

”متاعِ آسمانی“ کے اسٹیج پر پہلا قدم اللہ تعالیٰ کے فضل سے” مشاہدات “کے پلیٹ فارم سے مختلف عناوین کے تحت 1200 سے زائد تقاریر تیار ہو کر نہ صرف ویب سائٹ www.mushahedat.com پر اپلوڈ ہوچکی ہیں بلکہ 25 تعلیمی و تربیتی مواضیع پر تقاریر کی 38 کتب بھی منظرِ عام پر آچکی ہیں اور […]

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ جو شخص کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا اور پھر ہمیشہ کے لئے استغفار اپنی عادت نہیں پکڑتا وہ کیڑا ہے، نہ انسان اور اندھا ہے، نہ سوجاکھا اور ناپاک ہے، نہ طیّب۔‘‘
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد10 صفحہ413)

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر4)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں:
’’ پس لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ صرف ایک معبود ہونے کا خیال ہی دل میں پیدا نہیں کرتا بلکہ اس بات کو بھی دل میں راسخ کرتا ہے اور کرنا چاہیے کہ ہمارا خدا وہ واحد خدا ہے جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا اور ہر مخلوق کا خالق ہے اور اس کے اذن سے ہی یہ تمام نظامِ کائنات چل رہا ہے اور تمام حاجات کے لیے ہم نے اس کے حضور ہی جھکنا ہے۔ پس جب یہ ایمان کی حالت ہو جائے تو وہ کامل ایمان ہوتا ہے جس میں شرک کی ملونی ہو ہی نہیں سکتی اور یہی وہ ایمان ہے جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خالص ہو کرلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ پر ایمان لانے والوں پر جہنم کی آگ حرام ہے۔‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 14؍اپریل2023ء )

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ (تقریر نمبر3)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں:
’’ جس کو اللہ تعالیٰ کی صفات کا اور ذات کا علم ہو جائے وہی عالِم بن جاتا ہے۔ پس ایک حقیقی مسلمان بننے کے لئے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اُس کی صفات کا علم ضروری ہے اور یہ بغیر خشیت کے نہیں ہو سکتا اور اس کے لئے کوئی تخصیص نہیں کہ یہ خاص گروہ حاصل کرے اور باقی نہ کریں۔ اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق ہر مؤمن کے لئے اُس کے حصول کی کوشش ضروری ہے، تبھی ایمان میں ترقی ہوتی ہے، تبھی اللہ تعالیٰ کے تعلق میں ترقی ہوتی ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 3اگست2012ء )

مزید پڑھیں

ایمان کی ستّر شاخوں میں سے کچھ کا تذکرہ ( تقریر نمبر 2)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ہر نماز کے بعد تینتیس دفعہ سبحان اللہ کہا اور تینتیس دفعہ الحمدللہ کہا اور تینتیس دفعہ اللہ اکبر کہا تو یہ مل کر ننانوے ہوئے۔ سو کا عدد پورا کرنے کے لئے کہا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحۡدَہُ لَا شَرِیۡکَ لَہُ ۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔ بادشاہت اُسی کی ہے۔ تمام تعریف اُسی کے لئے ہے اوروہ ہر ایک چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے۔ اس کی تمام خطائیں معاف کردی جائیں گی اگرچہ وہ سمندر کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
( حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر:16)

مزید پڑھیں