اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ کا استعمال (حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے ارشادات کی روشنی میں) (تقریر نمبر2)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ واضح ہو کہ حمد اس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی مستحق تعریف کے اچھے فعل پر کی جائے نیز ایسے انعام کنندہ کی مدح کا نام ہے جس نے اپنے ارادہ سے انعام کیا ہو۔ اور اپنی مشیت کے مطابق احسان کیا ہو۔ اور حقیقت محمد کما حقہ صرف اسی ذات کے لئے متحقق ہوتی ہے جو تمام فیوض وانوار کا مبدء ہو اور علی وجہ البصیرت کسی پر احسان کرے نہ کہ غیر شعوری طور پر یا کسی مجبوری سے۔ اور حمد کے یہ معنی صرف خدائے خبیر وبصیر کی ذات میں ہی پائے جاتے ہیں۔ اور وہی محسن ہے اور اول وآخر میں سب احسان اسی کی طرف سے ہیں۔ اور سب تعریف اسی کے لئے ہے اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی اور ہر حمد جو اس کے غیروں کے متعلق کی جائے اس کا مرجع بھی وہی ہے۔ ‘‘
(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ، سورۃ الفاتحہ صفحہ82)
