حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7 ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”جو دعا سے منکر ہے وہ خدا سے منکر ہے صرف ایک دعا ہی ذریعہ خداشناسی کا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اس کی ذات کو طوعاً و کرہًا مانا جاوے۔ اصل میں سب جگہ دہریت ہے۔ آجکل کی محفلوں کا یہ حال ہے کہ دعا، توکّل اور انشاء اللہ کہنے پر تمسخر کرتے ہیں۔ ان باتوں کو بیوقوفی کہا جاتا ہے ورنہ اگر خدا سے ان کو ذرا بھی اُنس ہوتا تو اس کے نام سے کیوں چڑتے؟ جس کو جس سے محبت ہوتی ہے وہ ہیر پھیر سے کسی نہ کسی طرح سے محبوب کا نام لے ہی لیتا ہے۔ اگر اُن کے نزدیک خدا کوئی شئے نہیں ہے۔ تو اب موت کا دروازہ کھلا ہے اسے ذرا بند کر کے تو دکھلا ویں۔ تعجّب ہے کہ ہمیں جس قدر اس کے وجود پر امیدیں ہیں اُسی قدر وہ دوسرا گروہ اس سے نا امید ہے۔ اصل میں خدا کے فضل کی ضرورت ہے۔ اگر وہ دل کے قفل نہ کھولے تو اَور کون کھول سکتا ہے ۔ اگر وہ چاہے تو ایک کُتّے کو عقل دے سکتا ہے کہ اس کی باتوں کو سمجھ لیوے اور انسان کو محروم رکھ سکتا ہے “
( ملفوظات جلد 7 صفحہ 1-2 )
