حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر6)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”یاد رکھو! فضائِل بھی امراض متعدّیہ کی طرح متعدّی ہونے ضروری ہیں۔ مومن کے لئے حکم ہے وہ اپنے اخلاق کو اس درجہ پر پہنچائے کہ وہ متعدّی ہوجائیں۔ کیونکہ کوئی عُمدہ بات قابل پذیرائی اورواجب التعمیل نہیں ہوسکتی ۔جب تک اُس کے اندر ایک چمک اور جذبہ نہ ہو۔ اُس کی درخشانی دُوسروں کو اپنی طرف متوجّہ کرتی ہے اور جذب ان کو کھینچ لاتا ہے اور پھر اس فیض کی اعلیٰ درجہ کی خوبیاں خودبخود دوسرے کے عمل کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔ دیکھو! حاتم کا نیک نام ہونا سخاوت کے باعث مشہور ہے ۔ گو مَیں نہیں کہہ سکتا کہ وہ خُلوص سے تھی۔ ایسا ہی رستم و اسفند یار کی بہادری کے فسانے عام زبان زد ہیں۔ اگرچہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ خُلوص سے تھے۔ میرا ایمان اورمذہب یہ ہے کہ جب تک انسان سچا مومن نہیں بنتا ۔ اُس کے نیکی کے کام خواہ کیسے ہی عظیم الشان ہوں لیکن وُہ ریاکاری کے ملمّع سے خالی نہیں ہوتے ۔ لیکن چونکہ اُن میں نیکی کی اصل موجود ہوتی ہے اور یہ وُہ قابل قدر جوہر ہے جو ہر جگہ عزّت کی نِگاہ سے دیکھا جاتا ہے اس لئے بایں ہمہ ملمّع سازی و ریاکاری وہ عزّت سے دیکھے جاتےہیں۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 212-213)
