حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”جو دعا سے منکر ہے وہ خدا سے منکر ہے صرف ایک دعا ہی ذریعہ خداشناسی کا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اس کی ذات کو طوعاً و کرہًا مانا جاوے۔ اصل میں سب جگہ دہریت ہے۔ آجکل کی محفلوں کا یہ حال ہے کہ دعا، توکّل اور انشاء اللہ کہنے پر تمسخر کرتے ہیں۔ ان باتوں کو بیوقوفی کہا جاتا ہے ورنہ اگر خدا سے ان کو ذرا بھی اُنس ہوتا تو اس کے نام سے کیوں چڑتے؟ جس کو جس سے محبت ہوتی ہے وہ ہیر پھیر سے کسی نہ کسی طرح سے محبوب کا نام لے ہی لیتا ہے۔ اگر اُن کے نزدیک خدا کوئی شئے نہیں ہے۔ تو اب موت کا دروازہ کھلا ہے اسے ذرا بند کر کے تو دکھلا ویں۔ تعجّب ہے کہ ہمیں جس قدر اس کے وجود پر امیدیں ہیں اُسی قدر وہ دوسرا گروہ اس سے نا امید ہے۔ اصل میں خدا کے فضل کی ضرورت ہے۔ اگر وہ دل کے قفل نہ کھولے تو اَور کون کھول سکتا ہے ۔ اگر وہ چاہے تو ایک کُتّے کو عقل دے سکتا ہے کہ اس کی باتوں کو سمجھ لیوے اور انسان کو محروم رکھ سکتا ہے “
( ملفوظات جلد 7 صفحہ 1-2 )

مزید پڑھیں
brown and black hardbound book

قرآن کریم حَکَم ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ایک اَور غلطی اکثر مسلمانوں کے درمیان ہے کہ وہ حدیث کو قرآن شریف پر مقدم کرتے ہیں حالانکہ یہ غلط بات ہے۔ قرآن شریف ایک یقینی مرتبہ رکھتا ہے اور حدیث کا مرتبہ ظنّی ہے۔حدیث قاضی نہیں بلکہ قرآن اس پر قاضی ہے۔ ہاں حدیث قرآن شریف کی تشریح ہے ۔اس کو اپنے مرتبہ پر رکھنا چاہئے۔ حدیث کو اس حدتک ماننا ضروری ہے کہ قرآن شریف کے مخالف نہ پڑے اور اس کے مطابق ہو لیکن اگر اس کے مخالف پڑے تو وہ حدیث نہیں بلکہ مردود قول ہے۔ لیکن قرآنِ.شریف کے سمجھنے کے واسطے حدیث ضروری ہے۔ قرآن شریف میں جو احکام الٰہی نازل ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو عملی رنگ میں کر کے اور کراکے دکھا دیا اور ایک نمونہ قائم کر دیا۔ اگر یہ نمونہ نہ ہوتا تو اسلام سمجھ میں نہ آ سکتا لیکن اصل قرآن ہے۔“
(ملفوظات جلد 8 صفحہ 363-364، ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر10)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”تم لوگوں نے اس وقت جو بیعت کی ہے اس کا زبان سے کہہ دینا اور اقرار کرلینا تو بہت ہی آسان ہے مگر اس اقرار بیعت کا نبھانا اور اس پر عمل کرنا بہت ہی مشکل ہے کیونکہ نفس اور شیطان انسان کو دین سے لاپروا بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ دنیا اور اس کے فوائد کو آسان اور قریب دکھاتے ہیں ۔ لیکن قیامت کے معاملہ کو دور دکھاتے ہیں جس سے انسان سخت دل ہوجاتا ہے اور پچھلا حال پہلے سے بدترین ہوجاتا ہے۔ اس لئےیہ بہت ہی ضروری امر ہے کہ اگر خداتعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔ تو جہاں تک کوشش ہوسکے ساری ہمت اور توجہ سے اس اقرار کو نبھانا چاہیے اور گناہوں سے بچنے کے لئے کوشش کرتے رہو۔ “
(ملفوظات جلد 6 صفحہ 392 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر9)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”انسان اگر اپنے نفس کی پاکیزگی اور طہار ت کی فکر کرے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ کر گناہوں سے بچتا رہے تو اللہ تعالیٰ یہی نہیں کہ اس کو پاک کردے گا بلکہ وہ اس کا متکفّل اور متولِّی بھی ہوجائے گا اور اسے خبیثات سے بچائے گا۔ اَلۡخَبِیۡثٰتُ لِلۡخَبِیۡثِیۡنَ کے یہی معنی ہیں۔ اندرونی معصیت، ریاکاری، عُجب، تکبّر ، خوشامد ، خودپسندی، بدظنی اور بدکاری وغیرہ وغیرہ خباثتوں سے بچنا چاہیے۔ اگر اپنے آپ کو ان خباثتوں سے بچاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو پاک و مطہَّر کردے گا۔ “
(ملفوظات جلد 6صفحہ 337 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر8)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” یقیناً یاد رکھو کہ ا بتلا اور امتحان ایمان کی شرط ہے اس کے بغیر ایمان، ایمان کامل ہوتا ہی نہیں اور کوئی عظیم الشان نعمت بغیر ابتلا ملتی ہی نہیں ہے۔ دنیا میں بھی عام قاعدہ یہی ہے کہ دنیاوی آسائشوں اور نعمتوں کےحاصل کرنے کے لئے قسم قسم کی مشکلات اور رنج و تعب اُٹھانے پڑتے ہیں۔ طرح طرح کے امتحانوں میں سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر کامیابی کی شکل نظر آتی ہے اور پھر بھی وہ محض خداتعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔ پھر خداتعالیٰ جیسی نعمتِ عظمیٰ جس کی کوئی نظیر ہی نہیں یہ بدوں امتحان کیسے میسّر آسکے۔ پس جو چاہتا ہے کہ خداتعالیٰ کو پاوے اُسے چاہئے کہ وہ ہر ایک ابتلا کے لئے تیار ہوجاوے ۔ “
(ملفوظات جلد 6 صفحہ 254 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”تقویٰ اس بات کا نام ہے کہ جب وہ دیکھے کہ مَیں گناہ میں پڑتا ہوں تو دعا اور تدبیر سے کام لیوے ورنہ نادان ہوگا ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہےمَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا۔ وَّیَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ ( الطلاق:4-3) کہ جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے وہ ہر ایک مشکل اور تنگی سے نجات کی راہ اُس کے لیے پیدا کر دیتا ہے۔ متقی درحقیقت وہ ہے کہ جہاں تک اس کی قدرت اور طاقت ہے وہ تدبیر اور تجویز سے کام لیتا ہے“
) ملفوظات جلد 6 صفحہ218)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” گناہوں کا چھوڑنا تو کوئی بڑی بات نہیں ہے یہ ایک ذلیل کام ہے اگر کوئی کہے کہ مَیں چوری نہیں کرتا ۔زنا نہیں کرتا ۔ خون نہیں کرتا اور فسق وفجور نہیں کرتا تو کو ئی خوبی کی بات نہیں اور نہ خدا پر یہ احسان ہے کیونکہ اگر وہ ان باتوں کا مرتکب نہیں ہوتا تو ان کے بدنتائج سے بھی وہی بچا ہوا ہے۔کسی کو اس سے کیا ؟اگر چوری کرتا گرفتار ہوتا سزا پاتا ۔اس قسم کی نیکی کو نیکی نہیں کہا کرتے۔“
(ملفوظات جلد 6 صفحہ180 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ اگر کوئی شخص بیعت کر کے یہ خیال کرتا ہے کہ ہم پر احسان کرتا ہے تو یاد رکھیں کہ ہم پر کوئی احسان نہیں بلکہ یہ خدا کا اس پر احسان ہے کہ اُس نے یہ موقع اُسے نصیب کیا ۔سب لوگ ایک ہلاکت کے کنارے پر پہنچے ہوئے تھے۔ دین کا نام و نشان نہ تھا اور تباہ ہو رہے تھے ۔ خدا نے اُس کی دستگیری کی کہ یہ سلسلہ قائم کیا۔ اب جو اِس مائدہ سے محروم رہتا ہے وہ بے نصیب ہے لیکن جو اس کی طرف آوے اسے چاہیے کہ اپنی پوری کوشش کے بعد دعا سے کام لیوے ۔ جو شخص اس خیال سے آتا ہے کہ آزمائش کرے کہ فلاں سچا ہے یا جھوٹا وہ ہمیشہ محروم رہتا ہے ۔آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی ایسی نظیر نہ پیش کر سکو گے کہ فلاں شخص فلاں نبی کے پاس آزمائش کے لیے آیا اور پھر اُسے ایمان نصیب ہوا ہو۔ پس چاہیے کہ یہ خدا کے آگے روئے اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر گریہ وزاری کرے کہ خدا اُسے حق دکھا دے ۔‘‘
( ملفوظات جلد 6 صفحہ220-219)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ہماری جماعت کو اس بات کا بہت خیال چاہیے کہ اگر ایک شخص فوت ہوجاوے تو حتّی الوسع سب جماعت کو اس کے جنازہ میں شامل ہونا چاہیے اور ہمسایہ کی ہمدردی کرنی چاہیے ۔ یہ تمام باتیں حقوق العباد میں داخل ہیں ۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ جس تعلیم اور درجہ تک خدا تعالیٰ پہنچانا چاہتا ہے اس میں ابھی بہت کمزوری ہے ۔ صرف دعویٰ ہی دعویٰ نہ ہونا چاہیے کہ ہم ایمان دار ہیں بلکہ اس ایمان کو طلب کرنا چاہیے جسے خدا چاہتا ہے۔ بھائیوں کے حقوق کو اور ہمسائیوں کے حقوق کو شناخت کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ زبان سے کہہ لینا کہ ہم جانتے ہیں بیشک آسان ہے مگر سچی ہمدردی اور اخوّت کو بَرت کر دکھلانا مشکل ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ تمام حرکات، اعمال، افعال کے لیے ایمان مِثل ایک انجن کے ہے ۔ جب ایمان ہوتا ہے تو سب حقوق خود بخود نظر آتے جاتے ہیں اور بڑے بڑے اعمال اور ہمدردی خود ہی انسان کرنے لگتا ہے ۔ ایمان کا تُخم آہستہ آہستہ ترقی کرتا ہے لیکن یہ ہر ایک کے نصیب میں نہیں ہوتا ۔‘‘
( ملفوظات جلد6 صفحہ107)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ رسول وہ ہوتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات ہوتے ہیں۔ پس جو شخص اس کا انکار کرتا ہے وہ بہت خطرناک جرم کا مرتکب ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ شریعت کے سارے سلسلہ کو باطل کرنا چاہتا ہے اور حِلّت و حرمت کی قید اٹھا کر اباحت کا مسئلہ پھیلانا چاہتا ہے اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیسے نجات کا مانع نہ ہو۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو لاانتہا برکات اور فیوض لے کر آیا ہے اس کا انکار ہو اور پھر نجات کی امید۔ اس کا انکار کرنا ساری بدیوں اور بدمعاشیوں کو جائز سمجھنا ہے کیونکہ وہ ان کو حرام ٹھہراتا ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد6 صفحہ89-88)

مزید پڑھیں