محترم سید مولود احمد صاحب
محترم سید مولود احمد صاحب سادہ، سفید پوش، خاموش طبع ،درویش اور فرشتہ صفت انسان تھےاور واقفین.زندگی، خاص طور پر مربیان کرام کا بہت احترام کرتے تھے۔
مزید پڑھیںمحترم سید مولود احمد صاحب سادہ، سفید پوش، خاموش طبع ،درویش اور فرشتہ صفت انسان تھےاور واقفین.زندگی، خاص طور پر مربیان کرام کا بہت احترام کرتے تھے۔
مزید پڑھیںمحترمہ سیّدہ امۃ الہادی صاحبہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب رضی اللہ عنہ اور مکرمہ سیدہ امۃ اللطیف صاحبہ کی صاحبزادی اور حضرت اماں جانؓ کی بھتیجی تھیں ۔
مکرم کرنل (ر) پیر ضیاء الدین صاحب حضرت پیر اکبر علی صاحبؓ ( ایم ایل اے لیجیسٹیٹر اسمبلی فیروز پور) کے بیٹے تھے ۔
محترم سیّد محمد احمد صاحب حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحبؓ اور مکرمہ امۃ اللطیف صاحبہ کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا آپ کی پھوپھی جان تھیں ۔ آپ حضرت مرز ا بشیر احمد صاحبؓ کے داماد تھے ۔
مزید پڑھیںمحترمہ سیّدہ امۃ اللہ صاحبہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ اور مکرمہ امۃ اللطیف صاحبہ کی بیٹی تھیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کے پھوپھا جان اور حضرت اماں جانؓ آپ کی پھوپھی جان تھیں ۔
مکرم پیر صلاح الدین صاحب بی اے حضرت پیر اکبر علی صاحب آف فیروز پور کے بیٹے تھے۔
مرزا سعید احمد صاحب کی وفات پر حضرت مولانا شیر علی صاحب نے اپنے ایک مکتوب میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے کو تحریر فرمایا:
”مرحوم نہایت اعلیٰ درجہ کی خوبیوں سے متصف تھا۔ اپنے خاندان کی خصوصیات اور اپنے آباء و اجداد کے اخلاقِ فاضلہ اس میں خاص طور پر نمایاں تھے۔“
حضرت پیرسراج الحق صاحب نعمانیؓ .کابیان ہے کہ 1900ء میں ایک روز صبح کی نمازکے وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایاکہ آج تھوڑی دیرہوئی عجیب الہام ہواکہ جوسمجھ نہیں آیا۔ پہلے الہام ہوا: ’تائی آئی‘۔ ہمارے تو کوئی تائی ہے نہیں، نہ نزدیک نہ دور، ہاں ہمارے لڑکوں کی تائی ہے جووہ ہماری دشمن ہے۔ پھرالہام ہوا: ’تارآئی‘۔ (تذکرہ)
مزید پڑھیںحضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ نبی دیا، جو خَاتَمُ المؤمنینؐ، خَاتَمُ العارِفینؐ اور خَاتَمُ النَّبِیِّیْنؐہے اور اسی طرح پروہ کتاب اس پر نازل کی جو جَامِع الکُتُب اور خَاتَمُ.الکُتب.ہے۔ “
(ملفوظات جلداول صفحہ311 )
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’مجھے معلوم نہیں کہ وہ اور شخص کون ہے اس فرشتہ خونی نے اُس کا نام تو لیا مگر مجھے یاد نہ رہا۔ کاش! مجھے یاد ہوتا تو اُسے مَیں متنبہ کرتا تا اگر ہو سکتا تو مَیں اُسے وعظ.ونصیحت سے توبہ کی طرف مائل کرتا لیکن قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص بھی لیکھرام کا روپ یا یوں کہو کہ اُس کا بروز ہے اور توہین اور گالیاں دینے میں اس کا مثیل ہے‘‘
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ297 حاشیہ)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’کشتی نوح میں مَیں نے اپنی تعلیم لکھ دی ہے اور اس سے ہر ایک شخص کو آگاہ ہونا ضروری ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ203)